بچوں کے حقوق کا عالمی دن


بیس نومبر پوری دنیا بچوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔ اقوام متحدہ نے 1989 کو بچوں کے حقوق کا عالمی مسودہ منظور کیا۔ اس بار اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ سال بچوں کے حقوق کے عالمی مسودہ کا تیسواں سال ہے۔ 196 ممالک نے اس مسودے پر دستخط کیے ہوئے ہیں جبکہ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے امریکہ نے ابھی تک اس مسودے پر عملدرآمد کے لئے دستخط نہیں کیے۔

پاکستان میں عام طور پر خواتین اور بچوں حقوق کے حوالے سے بحث کم ہی کی جاتی ہے کیونکہ عام آدمی کی زندگی بنیادی ضروریات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ ویسے ایک خیال یہ بھی ہے کہ بچوں کی پرورش کرنا تو والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ بخوبی اس فریضہ کو سرانجام دیتے ہیں اور تھوڑی بہت سہولیات ریاست بھی فراہم کر دیتی ہے۔

یہاں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بالغ انسان کے حقوق اہم ہیں۔ عالمی سطح اور ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو خاطرخواہ تعلیم اور صحت کی خاطرخواہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ معاشی اور معاشرتی آسودگی بہت حد تک حاصل ہے لیکن کم ترقی یافتہ ممالک اور خاص طور پر پاکستان میں اس حوالے سے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اعدا و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 22.8 ملین بچے سکول سے باہر ہیں اور تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں۔ اور ان میں سے اکثر بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ بچے چند روپوں کے عوض اپنا بچپن قربان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں کھیل کود میں گزارنے والے دن بچہ کارخانے، بھٹہ یا موٹرورکشاپ کی تپتی دھوپ اور لوگوں کی گالیاں سن کر بتاتا ہے۔ ورکشاپس اور کارخانہ میں کام کرنے والے بچوں کا معاشی اور جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور بچوں کو نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 42 نوزائیدہ بچے اور 60 بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اور ہر سال نوے ہزار سے زیادہ بچے نمونیا کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ملک میں زچہ و بچہ کی صحت کے مراکز بہت کم ہیں جس کی وجہ سے کئی مائیں دوران زچگی اپنی جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔

بچوں کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی ضروریات بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں اور والدین کی توجہ کی متقاضی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ نا صرف بچے کی معاشی حاجات پر توجہ دیں بلکہ بچوں کی سماجی اور نفسیاتی ضروریات کو بھی سمجھیں اور ان ضروریات کی تسکین کامناسب انتظام کریں۔ بچوں کو وقت دیں ان کے ساتھ گفتگو کریں۔ جدید دور کے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں ہے جبکہ پرانے زمانے میں والدین بچوں کو قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔ یوں بچوں کی نفسیاتی ضرورت بھی پوری ہو جاتی تھی اور تربیت بھی۔ بچوں کی بہتر پرورش ہی ایک صحتمند معاشرے کی ضمانت ہے۔ حکومت اور والدین کو اس دن یہ عزم اور وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف آگاہی مہم چلائیں گے بلکہ عملی اقدامات بھی کریں گے۔

Facebook Comments HS