سندھی کہانی قطار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تخلیق : زاہد منگی ترجمہ: شاہد حنائی

طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی عورتیں بینک کے مرکزی دروازے کے پاس دھیرے دھیرے جمع ہونا شروع ہو نے لگی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بینک کے باہر عورتوں کی خاصی بھیڑ اکٹھی ہو چکی تھی، جیسے کوئی میلا ہو۔ دفعتاً بینک کے اندر سے ایک ملازم برآمد ہوا، جس نے باآوازِبلند چلا کر کہا:

” سب قطار بنا کر کھڑی ہو جائیں، باری باری سب کو پیسے ملیں گے۔ “

ملازم کی ہدایت سن کر عورتوں میں ہلچل مچ گئی، وہ اِک دُوسری کو روند کر پہلے کھڑے ہونے کے جتن کرنے لگیں۔ ان کی بانہوں میں جھولتے بچے بلکنے لگے۔ بینک کے سامنے جیسے جنگ چھڑ چکی تھی۔

کلثوم بھی جیسے تیسے جگہ بنا کر قطار میں کھڑی ہو ہی گئی۔ آج چوتھا روز تھاکہ وہ مسلسل آ رہی تھی۔ صرف چوتھا دن ہی نہیں بلکہ سو روپے کا نوٹ بھی آمدورفت کے کرائے میں صرف کر چکی تھی۔ وہ قطار میں کھڑے کھڑے ڈوری میں بندھی شال کو کھول کر شانوں پہ پھیلا کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اللہ میاں سے فریاد کرنے لگی کہ اے مولا سائیں! آج تو مراد پوری کرنا۔

سرکتی سرکتی وہ کھڑکی تک جا پہنچی۔ ہاتھ میں تھما ہوا کا غذ کا پلندا اور موبائل اندر کی طرف بڑھایا۔ کمپیوٹر میں چیک کرنے کے بعد سامان لوٹاتے ہوئے جواب دیا گیا:

” نہیں مائی! ابھی تیرے پیسے نہیں آئے ہیں۔ “

یہ جواب سن کر اس کا سر چکرانے لگا، کلیجا بھی بیٹھنے لگا، تاہم اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا:

”بھائی! آخر کب ملیں گے؟ “

” مائی! کل آکر معلوم کرلینا، ہو سکتا ہے آجائیں۔ “

کچھ دیر تک وہ گم صم کھڑی رہی۔ بالآخر پیچھے کھڑی عورتوں کی دھکم پیل نے اسے قطار سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔

دن بھر کی بھوک نے نڈھال کر ڈالاتھا، شدید بھوک کی وجہ سے کچھ کھانے کی طلب ہو رہی تھی۔ اوڑھنی کا پلو کھول کر دیکھا تو گاؤں واپسی کا کرایہ ہی بچ رہا تھا۔ وہ اپنا جی مار کر گاؤں جانے والی بس پر سوارہوکر واپس روانہ ہو گئی۔

ابھی وہ گھر کی دہلیز پار کرنے ہی پائی تھی کہ اس کے شوہر نے دہاڑ کر پوچھا:

” بتاؤ! پیسے ملے؟ “

” نہیں، آج بھی نہیں ملے، کل کا کہا ہے۔ کہتے ہیں ابھی بینک میں رقم نہیں آئی۔ “

یہ بات سن کر اس کا مجازی خداآگ بگولا ہو گیا اور اسے تھپڑ دے مارا۔

” منحوس عورت! سارے زمانے کی عورتوں کو پیسے ملتے ہیں، صرف تیرے لیے پیسے نہیں ہیں۔ مَیں نے ان پیسوں کی اُمید پر اللہ ڈنو سے قرض لے کر کھاد خریدی تھی۔ اب وہ میری پگڑی اُتارنے پر اُتر آیا ہے اور تم ہو کہ روزانہ شہر کا چکر لگا کر لوٹ آتی ہو۔ “

دُکھ اس کی اکھیوں کے بند توڑ کر بَہ نکلا۔ آنسو ساون رُت کی بارش کی طرح ٹپکنے لگے۔

” آخر مَیں کیا کروں؟ مَیں عورت ذات غیر مردوں کا کیا کر سکتی ہوں۔ “

” اچھا اچھا! اب زیادہ دماغ خراب مت کرو۔ کہیں ڈنڈا مار کر تیرے سر کے دو ٹکڑے نہ کر ڈالوں۔ “

اگلے روز پھر وہ صبح سویرے ہی اُٹھ کر تیار ہو گئی۔

شوہر نے سو روپے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا:

” اگر آج پیسے نہ لائی تو سمجھ لینا کہ تیرا آخری دن ہے۔ “

روپے اوڑھنی کے پلو میں باندھ کر وہ آج پھر بینک جا پہنچی۔ جیسے تیسے کر کے قطار میں جگہ بنا کر کھڑی ہو ہی گئی۔ اس نے باہر نگاہ دوڑائی تو سامنے کئی مرد چکر کاٹ رہے تھے، جیسے گدھیں مُردارکے آس پاس منڈلاتی ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اس کی نظریں سامنے کھڑے ایک مرد پر جا پڑیں۔ اس کے سر پر ٹوپی اور کندھوں پر رومال تھا۔ مرد اس کو گھورتے ہوئے مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔ قطار سے ایک عورت نکلی تو وہ ذرا آگے رینگی۔ اسی دوران وہ مرد پھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس بار مرد نے اپنی قمیص کے کِیسے میں پڑے نوٹ نکال کر سامنے والی جیب میں رکھے اور کلثوم کو اشارہ کیا۔ کلثوم اس کے اشارے کو نظر انداز کرتی ہوئی آگے بڑھی اور کھڑکی کے قریب پہنچ کر موبائل آگے بڑھا دیا۔

وہی آواز، وہی جواب:

” نہیں مائی! تیرے پیسے نہیں آئے ہیں۔ “

۔ ”مگر صاحب! آپ نے تو کل کہا تھا کہ کل آجانا۔ “ کلثوم کے منہ سے لڑکھڑاتے ہوئے الفاظ ادا ہوئے۔

” مائی! جب تیرے پیسے نہیں آئے ہیں، تو مَیں کہاں سے دوں گا؟ اپنے پلے سے تو نہیں دوں گا نا! “ سر ہی کھا گئی ہو۔ جاؤ اب جان چھوڑو اور یہاں سے چلتی بنو۔ ”پیچھے کھڑی عورتوں کے دھکوں نے اسے قطار سے باہر ہوجانے پر مجبور کر دیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اندر بھی ٹوٹ سا گیا۔ اس کی کیفیت نوذبح جانور کی سی ہو رہی تھی۔

پیسے نہ آنے والا جواب اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔ گھر کیسے جاؤں! خاوند کو کیا جواب دوں! آج بھی اسے پیسے نہ ملے تو جان سے مارڈالے گا۔ آخر اس کی بھی کیا خطا ہے! اگر اس نے اللہ ڈنو کا قرض نہ چکایا تو وہ اس سے جھگڑا کرے گا۔ سیکڑوں پریشان کُن سوال تھے، جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اُس نے گردن اُٹھا کر اُوپر دیکھا۔ وہی مرد کھڑا اسے آنکھوں سے اشارے کر رہا تھا۔ وہ تو جیسے صلیب پر ٹنگ گئی۔ گھر میں راہ دیکھتے شوہر کے خوف نے اس کی سانس خشک کر ڈالی تھی۔

اس نے مرد کے اشارے کو سمجھ کر اپنی گردن اقرار میں ہلا دی۔ مرد آگے ہو کر چلنے لگا۔ وہ بھی اس کے پیچھے ہولی۔ تھوڑی دُور چل کر مرد دائیں ہاتھ کی گلی میں مڑا تو وہ بھی اسی جانب مڑگئی۔

گھر پہنچ کر اوڑھنی کے پلو سے روپے نکال کر شوہرکی ہتھیلی پہ رکھ دیے۔

پیسے دیکھ کر مجازی خدا کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔

کلثوم کی آنکھوں سے اشکوں کی لڑی جاری تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •