عبدالسلام کی بچی اور اصل حقیقت

مورخہ 21 نومبر 2019 کے "ہم سب "میں محترم ڈاکٹر شیر شاہ سیّد صاحب صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ راقم ان کے مضامین کا بڑی باقاعدگی سے مطالعہ کرتا ہے جو انسانی زندگی کے تجربات کا عکس ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے مظلوم کرداروں سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور ظالموں کی چیرہ دستیوں سے کراہت ہوتی ہے۔ ان کا مذکورہ بالا مضمون بھی اسی نوعیت کا ہے جس میں پاکستان کے نوبل انعام یافتہ سائینس دان جناب ڈاکٹر عبدالسلام کے اہل خانہ کے نام لے کر تذکرہ کیا گیاہے اور ان میں سے بعض کی مخالفین جماعت احمدیہ کے ہاتھوں قتل ہونے کی داستان بیان کی گئی ہے۔

مضمون کی اصل حقیقت کی طرف آنے سے قبل چند ایک باتیں جو جناب سیّد صاحب جیسے معتبر لکھاری نے جماعت احمدیہ کی بابت بیان کی ہیں۔ ان پر تبصرہ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ

"قادیانی چاہے قادیان کے ہوں، ربوہ کے ہوں یا لاہوری گروپ کے، قادیانی ہی ہوتے ہیں۔ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہیں اور اپنے شہر کو اسلام آباد کا نام دیں، چلتے پھرتے اسلامی نظر آئیں تو بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ انہیں مذہبی فتوؤں اور پاکستان کے قوانین کے مطابق مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔”

 محترم سیّد صاحب نے یہ لکھ کر احمدیو ں کے خلاف قانون سازی کا ذکر کر کے ایک قسم کی ہمدردی کے ساتھ اس قانون کو مجبوراً قانون لکھا ہے۔ اور اسی بنا پر اپنے خاندان میں کسی احمدی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر شادی کے امکان کو رد کیا ہے۔ جہاں تک کسی فانی انسان کی ہمدردیوں کا تعلق ہے ان قوانین کو خلافِ آئین، خلافِ شریعتِ محمدؐیہ جاننے اور سمجھنے کے باوجود احمدی قانون شکنی سے بچتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے جواب میں معاملہ اپنے خدا پر چھوڑدیتے ہیں۔ اور ایک سو تیس سال کے عرصہ میں خود کسی قسم کا ہنگامہ کیئے بغیر اپنے دشمنوں سے اللہ کے عبرت ناک سلوک کا تجربہ کرنے کے بعد اپنے اس طرزِ عمل کے درست ہونے کی با ربار تصدیق سے اپنی تاریخ کو منور کر رہے ہیں۔

دوسری بات سیّد صاحب نے مبیّنہ راشدہ بنت ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے اس کے احمدی ہونے کی وجہ سے شادی نہ کر سکنے کا معاملہ ہے۔ یہ بات احمدی مخالف طبقہ بہت زور و شور سے بیان کرتا ہے۔ جس کی وضاحت ضروری ہے۔ جماعت احمدیہ کے نزدیک کسی غیر از جماعت سے شادی کرنے کی ممانعت کی سے شریعت محؐمدیہ کے احکامات کی خلاف ورزی مقصود نہیں ہے۔ بلکہ یہ مستقبل میں پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل سے بچنے کی محض ایک تدبیر ہے۔ اسی طرح کا ایک حکم لمبے عرصہ تک جماعت میں جاری رہا ہے جس کے مطابق رخصتی کے موقع پر مقامی مہمانوں کی خدمت میں طعام پیش کرنا ممنوع تھا۔ اور اس پر عمل نہ کرنے والے کو جماعت سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ لڑکی والوں کے لئے یہ ایک بالواسطہ حاکمانہ ریلیف تھی۔ اب حالات بدلنے کے ساتھ اس حکم کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور غریب گھر کی بچیوں کے لئے مریم شادی فنڈ کے ذریعہ مدد کر دی جاتی ہے۔

 سیّد صاحب نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی مبیّنہ اہلیہ مکرمہ لطف النساء صاحبہ کی طرف منسوب بات جو لکھی ہے کہ

"ایک رات ان کی بیٹی اور داماد کو گھر میں گھس کر گولی ماردی گئی تھی اور مارنے والوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ خاندان میں کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ گستاخانِ رسول کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے پاکستان میں۔ چُن چُن کر ماریں گے انہیں۔ جہنم پہنچا دیں گے ہر اس احمدی کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے۔ تم لوگوں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے کیونکہ تم لوگ ڈنمارک اور یورپ میں بیٹھ کر ہمارے آخری نبیؐ کے کارٹون بنواتے ہو۔ یہ سب ان کی مرتی ہوئی نواسی نے ہسپتال میں سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان بتایا تھا۔ پھر وہ بھی مرگئی تھی دس دنوں کے اندر۔ "

یہ بات  جماعت احمدیہ پر ہونے والے مظالم میں سے ہی ایک کی طرح ہے۔ اور اس تحریر میں جماعت پر غیروں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات جو سو فی صد جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ایک غیر جانبدار قاری کے لئے اس کو پڑھ کر احمدیوں کی خاطر کسی قدر ہمدردی اور ظلم کرنے والوں سے نفرت کے جذبات بھی اپنے اندر محسوس کر سکنا ممکن ہے۔ وہ احمدی جن کو اصل بات کا علم نہیں وہ تو اس ظلم کو اپنی ذات پر بھی محسوس کر کے تڑپ سکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ بیان کردہ واقعہ محض ایک افسانہ ہے۔

اگرچہ جماعت احمدیہ پاکستان میں اس سے بھی بڑھ کر ظلموں کا شکار ہے ۔ پھر بھی اس افسانے کو اپنی حمایت میں بطور حقیقت بیان کرنا کوئی احمدی جائز نہیں سمجھ سکتا۔ احمدی سچائی کو اپنی جان سے بھی عزیز سمجھتے ہیں اور سچائی پر ہی ان کا جینا اور مرنا ہے۔ محترم سیّد صاحب نے یہ سچائی نما افسانہ تیار کرکے احمدیوں کے دلوں میں اپنی قدر میں  قطعاً کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔ کسی بھی احمدی کے دل میں کسی غلط بیانی پر مبنی بیان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دنیاوی ہمدردی کی کوئی اہمیت نہیں۔

راقم محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب ابن مکرم چوہدری محمد حسین صاحب  اور انکے خاندان سے بخوبی آگاہ ہے۔ مذکورہ ناموں کی خواتین ان کے گھر میں نہیں تھیں اور نہ ہی کوئی اس قسم کا دہشت گردی کا واقعہ ان کےہاں ہوا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words