آرمی ریگولیشنز 255 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تقرری نہیں کی جا سکتی: سلمان اکرم راجہ


آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ آرمی ریگولیشنز 255 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تقرری نہیں کی جا سکتی۔  عدالت میں اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم کا اختیار آرمی چیف کی تقرری کا ہے، دوبارہ تقرری کا نہیں ہے ۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت نے عدالت میں مان لیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے کابینہ کی رائے لینا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار کا معاملہ ہے، یہ کوئی مشکل نہیں ہے اور نا ہی یہ معاملہ کوئی بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔ اس حوالے سے نئی سمری منظور کر کے صدر کو توثیق کے لئے بھیجی جا سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کا بطور فوجی آفیسر کے حاضررہنا آرمی چیف رہنے کے معاملے سے مختلف ہے۔ یہ معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا نہیں ہے بلکہ آرمی چیف کی از سرنو تقرری کامعاملہ ہے۔ عدالت میں اب بحث یہ ہوگی کہ یہ ازسر نو تقرری ہے یا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہے اور اگر حکومت کی طرف یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف نئی تقرری ہے تو پھر یہ بحث ایک مختلف شکل اختیار کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آرمی ریگولیشنز 255 کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تو کی جا سکتی ہے لیکن اس کے تحت آرمی چیف کی از سر نو تقرری نہیں کی جا سکتی۔ عدالت میں بحث کی جائے گی کہ آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے یا ان کی دوبارہ تقرری کی گئی ہے۔

Facebook Comments HS