کیا آپ اپنے غصّے کو قابو کر سکتے ہیں؟


کیا آپ جانتے ہیں کہ غصّے کی کیفیت اختیاری سے زیادہ اضطراری ہے؟ یعنی کہ غصّے میں آنے کا تعلق حیاتیاتی (Biological) یا جینیاتی (Genetic) ، نفسیاتی (Psychological) اور ذ ہنی صحّت سے ہے۔ اس کے برعکس عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم جیسے روایتی، قدامت پسند اور ثقافتی گھٹن کے شکار سماج میں غصّہ گیر شخص کو قابلِ نفرت اور قابلِ سرزنش سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب بھی غصّے کو، گناہ، مکروہ اور حرام قرار دیتے ہیں۔

افریقہ کے کچھ قبائل میں غصّے کو ایک بھُوت سمجھا جاتا ہے اور اس بھُوت کو اتارنے کے لئے غصّہ گیر شخص کو طرح طرح کی جسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ ہمارے سماج میں بھی غصّے میں مبتلا شخص کو بد مزاج، بد دماغ اور سخت گیر سمجھ کر قطع تعلق یا دوری کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ایسا شخص اگر کسی ادارے کا سر براہ ہے تو اس کے ماتحت لوگ اپنی پوری کارکردگی اور کام میں مہارت نہیں دکھا سکتے۔ کیونکہ سہما ہوا اور خوف زدہ شخص اپنی پوری صلاحیت بروئے کار نہیں لا سکتا۔

غصّہ گیر شخص کو لوگ مشورہ دینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ جس سے کمپنی، فرم یا ادارے کی کارکردگی شدید متأثر ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ غصّہ آنا ایک عام قدرتی عمل ہے اور مختلف حالات کے پیشِ نظر غصّہ کرنا ایک صحت مندانہ اور نارمل چیز ہے۔ مگر چھوٹی سی بات پر آپے سے باہر ہو جانا بیماری کے زمرے میں آتا ہے۔ اور یہ رویّہ اردگرد کے افراد کو متأثر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی صحت کو شدید پہنچاتا ہے۔ نفسیات دانوں نے غصّے میں آنے کی متعدّد وجوہات بیان کی ہیں۔

مثلاً جینیاتی (Genetic) یا حیاتیاتی (Biological) ، نفسیاتی (Psychological) ۔ (یعنی بچپن کا کوئی ناقابلِ فراموش حادثہ، جب آپ کی شخصیّت بن رہی تھی) اور کوئی ذہنی بیماری جس میں ڈپریشن (Depression) قابلِ ذکر ہے۔ غصّے میں رہنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ ماحول اور سماج (Social Setup) بھی غصّہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وجہ کوئی بھی ہو، غصّے پر قابو کیسے پایا جائے؟

جدید نفسیات دان اس کو اینگر مینیجمنٹ (Anger Managment) کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ ایک باقاعدہ سائنسی طریقہ علاج ہے۔ اس ضمن میں پچھلی دو دہائیوں سے ڈاکٹر خالد سہیل کی گرین زون تھراپی شمالی امریکہ میں بہت مشہور ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سہیل ایک مشہور سائیکو تھراپسٹ (Psychotherapist) ہیں۔ جنہوں نے وہٹبی ( Whitby ) کینیڈا میں اپنا ایک کلینک (Creative Psychotherapy Clinic) کے نام سے قأیم کر رکھّا ہے۔ جہاں دوائیوں کے بغیر اپنی مدد آپ (Self Help program) کے تحت مختلف نفسیاتی عارضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ جس میں ڈپریشن (Depression) اور غصّہ پر قابو پانا (Anger Management) قابلِ ذکر ہیں۔

غصّے پر قابو پانے کے حوالے سے ڈاکٹر سہیل کی گرین زون تھراپی (Green Zone Therapy) کو شمالی امریکہ میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے (Green Zone Philosophy) نامی کتاب بھی لکھ رکھّی ہے۔ گرین زون تھراپی کی بنیاد تین زونز (Three Zones) ہیں : تھراپی شروع کرنے سے پہلے غصّہ گیر مریض کو ٹریفک سگنل کی تین بتیاں سُرخ، پیلی اور سبز دکھائی جاتی ہیں۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ آپ کے تین موڈ ہیں۔

آپ ہر وقت ان تینوں میں سے کسی ایک موڈ میں ہوتے ہیں۔ دراصل آپ اس وقت اس زون میں ہوتے ہیں۔ جب آپ خوش و خرّم ہوتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنے گرین زون (Green Zone) میں ہوتے ہیں۔ جب آپ تھوڑے سے پریشان، تھوڑے سے فکر مند اور تھوڑے سے ناراض ہوتے ہیں تو آپ اپنے ییلو زون (Yellow Zone) میں ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ غصّے میں آپے سے باہر ہو جاتے یا غم سے بہت دُکھی ہو جاتے ہیں تو آپ اپنے ریڈ زون (Red Zone) میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مریض کو تین آرز 3 R پر عمل کروایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہیں پہلا R: (Recognizing) ، یہ پہچان رکھنا کہ آپ اس وقت کس زون میں ہیں۔

دوسرا R: ) (Recovering واپس لوٹ آنا یا ٹھیک ہو جانا۔ اورتیسرا R : (Restraining) دوبارہ غصّے میں مبتلا ہونے سے بچے رہنا۔

اس سے مریض جاننے لگتا ہے کہ وہ کب اور کیوں ایک زون سے دوسرے زون میں جاتا ہے۔ Restraining سے یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ کون سے لوگ اور حالات اس کو ریڈ زون میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہ ان کے لئے پہلے سے تیار ہو جاتا ہے تاکہ وہ اس کو پریشان نہ کریں۔

گرین زون فلسفے کے مطابق : ”گرین زون والے لوگ عمل پر یقین رکھتے ہیں جبکہ ریڈ زون والے لوگ ردّعمل کرتے ہیں۔ “

(Green zone people act and Red zone people react۔ )

جُوں جُوں مریض اس تھراپی پر عمل کرتے ہیں وہ گرین زون میں زیادہ سے زیادہ دیر رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک گرین زون ڈائری رکھّیں اور ہر رات سونے سے پہلے لکھیں کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں سے کتنے گھنٹے گرین زون میں، کتنے گھنٹے ییلو زون میں اور کتنے ریڈ زون میں گزارے اور اس دوران وہ کیا کر رہے تھے۔ اس طرح وہ اپنی نفسیاتی تبدیلیوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور غصّے پر قابو پانا سیکھ جاتے ہیں۔

ایسے افراد زیادہ سے زیادہ وقت گرین زون میں گزارنے لگتے ہیں۔ اس کو گرین زون لوِنگ (Green Zone Living) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اکثر آپ کو خوش اور صحت مند نظر آئیں گے۔ مجھے ذاتی طور پر غصّے پر قابو پانے Anger Management) ) کا مسئلہ درپیش تھا۔ میں نے گرین زون تھراپی کو آزمایا ہے اور حیرت انگیز حد تک مؤثر پایا ہے۔ اب میں زیادہ وقت گرین زون (Green zone) میں گزارتا ہوں۔ گرین زون تھراپی غصّے پر قابو پانے کی ایک آزمودہ ترکیب ہے۔ اس کے علاوہ جدید نفسیات دان غصّے کو قابو میں رکھنے کے لئے مندرجہ ذیل تراکیب بھی بتاتے ہیں :۔

۔ بحث مباحثہ سے اجتناب کریں۔

۔ دن میں کچھ دیر جسمانی مشق کو اپناشعار بنائیں۔

۔ بوریت اور ٹینشن (Boredom and Tension) سے بچنے کے لئے مزاح کو استعمال کریں۔ مثلاً لطیفے پڑھیں، مزاحیہ پروگرام (Comedy Shows) دیکھیں۔ اور کبھی کبھی ان لوگوں سے بھی ملیں جو زندگی کو بہت سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

۔ اپنی پسندیدہ موسیقی سنا کریں۔

۔ تبدیلئی آب و ہوا کو یقینی بنائیں۔ ایک دو ماہ بعد ایک دو دن کے لئے کسی صحت افزا مقام (Countryside) کی سیر کو جایا کریں۔

مجھے یقین ہے کہ آپ شعوری کوشش سے اور مندرجہ بالا تراکیب آزمانے سے اپنے غصے پر قابو پا سکتے ہیں۔ ورنہ یہ بیماری آپ کی صحت، آپ کے ماحول اور آپ سے منسلک افراد کو شدید متا ثر کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS