بے مقصد مباحثے
انسان کی ہمیشہ سے یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے احساسات اور جذبات کو بہتر سے بہترین طریقے سے بیان یا قلم بند کریں لیکن سلیقہ ہزاروں میں ایک دو سیکھ پاتے ہیں۔ عموماً راقم حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوتا ہے کہ آیا لوگوں کے پاس اتنا بے مقصد بحث مباحثے کے لئے وقت آتا کہاں سے ہے۔ سوچ سوچ کر برا حال کردیا ہے کہ انسان اتنا فارغ ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ جب دیکھتا ہوں کہ نوجوان نسل فضول اور بے مقصد بحث و تکرار کرتی ہے۔ سیاسی اور مذہبی طور پر ارسطو، افلاطون، بقراط، سقراط، منصور، سرمد بننے کی تگ ودو میں رہتے ہیں لیکن اصل زندگی میں ان کا کردار 180 درجے پر ہوتا ہے۔
یقین جانئیے اگر انسان اپنے روز مرہ معمولات کو پورے محویت اور دلچسپی کے ساتھ سرانجام دے اور رزق حلال اور اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت اور دیگر معاملات پر غور کریں تو شاید ہی اُس کے پاس اتنا وقت بچے کہ لوگوں کے ساتھ بے مقصد بحث مباحثے کریں۔ انسان صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ میں سوچے تو راقم گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ بے مقصد بحث میں حصہ لینے کے لئے وقت ملے گا۔ ہر وقت کی بے مقصد بحث و تکار دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، ہر طرف اور ہر وقت شور شرابا ہمارے رگوں میں شامل ہوا ہے۔
بہترین زندگی گزارنے کے لیے تو صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ ہی کافی ہے۔ دَور جدید میں بھی دُور دُور تک معاشرے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ قبل مسیح میں بھی لوگوں کے سوچ تاریکی میں نہیں ہوں گے لیکن ایڈوانس ٹکنالوجی کے دور میں بھی بے مقصد افعال میں زندگی کے حسین لمحے خراب کرنا ہمارے ہاں فیشن بن چکا ہے وقت کا ضیاع منشور بنا دیا ہے۔ افسوس صد افسوس وقت چٹکیوں میں گزر جائے گا لیکن ہمیں اس کا اندازہ نہیں۔
ابھی کل ہی کی بات تھی کہ ہاسٹل میں لیٹ ٹائم گھوم پھر رہا تھا کہ میرے ایک کلاس فیلو کے روم سے بے ہنگم آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ بغیر وقت برباد کیے اندر گیا تو بحث جاری تھی ایک نامعقول کہہ رہا تھا کہ اُردو شعبے کے چیئر مین اُردو میں شاعری کیوں کرتے ہیں حالانکہ مادری زبان پشتوں ہے۔ اُردو میں شاعری کرکے وہ سراسر ظلم کر رہے ہیں۔ خیر مسلسل گھورنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بحث بے کار ہے اور خاموشی سے اپنے روم چلا گیا۔
زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں بس 2019 کی ہی مثال لیتے ہیں ابھی کل ہی کی بات تھی کہ سال شروع ہوا لیکن ابھی دسمبر سر پر آ پہنچا لیکن وقت کی رسی نہ کوئی پکڑ سکا ہے اور نہ آئندہ کوئی پکڑ سکے گا۔ لیکن اس کے بعد بھی ہم زندگی کے اصل نصب العین کو بھول گئے ہیں اس کا بھاری بھرکم جرمانہ وصول کیا جائے گا جس کا حساب لگانا خاصا مشکل ہوگا، وقت گزرنے کے بعد ہی پتا چلے گا۔
ہمارے ہاں دو بحث ایسے عروج پائے ہیں جن کا حل کہی نہیں ملتا۔ جس میں بوڑھے بچے اور جوان سب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں عموماً یہی نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ گالم گلوچ پر ہی اکتفا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے ماں بہن کو کبھی نہیں بھولتے اور نہ کبھی بھولنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
باقی کسی علاقے سے بخوبی واقف نہیں جتنا سوات کے علاقے بحرین شریف سے ہوں۔ یہاں غالباً ہر فرد ماہر سیاسیات ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر کرکٹر بھی ہے۔ ہر کسی کو اِن دو سبجیکٹ پہ اس قدر عبور حاصل ہے کہ جس کی تمثیل ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتی۔ بحث مباحثے کا آغاز تلاوت کلام پاک کے بجائے موجودہ حکومت پہ تنقید و تنقیص سے ہوتا ہے۔ جس سے محفل کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
بلا جواز سیاسی تبصرے کرنا معمول بن چکا ہے۔ بیٹھے بیٹھے نہ جانے کون سی طاقت حاوی ہوتی ہے کہ ہم ملک کے ہر ادارے کو چُن چُن کر اپنے تبصرے کا حصہ بناتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ادارہ ایسا ہوگا کہ ہم اپنے خوبصورت الفاظ کی مدد سے اُس کی برائیاں بیان نہیں کرتے۔ صدق دل سے مشورے اور تبصرے ہمارے ہاں بے تحاشا اور ضرورت سے زائد بھی ملتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسے ایسے تبصرے سُننے کو ملیں گے کہ بندا خود کشی کے لئے آسانی سے تیار ہوگا۔
الحمدللہ غرور و تکبر سے توبہ ہمارے ہاں ایسے انالسٹ بھی ملیں گے جن کے تبصروں سے مُردے بھی کانوں میں روئی ٹھونس ٹھونس کر خود کا برا حال کرتے دکھائی دیے جا چکے ہیں۔ معاشرتی مسائل پہ گفتگو بھی کوئی جواز اور جگہ پکڑتی ہے لیکن پچپن اور بچپن ( بوڑھے اور جوان ) والوں کی بے مقصد مباحثے سمجھ سے بالاتر ہے۔
چند دونوں پہلے سوچ کی دنیا میں غرق تھا اور مسلسل اس بات پہ سوچ رہا تھا کہ میں عام بحث مباحثوں میں حصہ آخر کیوں نہیں لیتا؟ پھر اپنے دادا ماسٹر عبد الوہاب استاد صاحب کے بارے میں سوچتا گیا کہ آیا وہ عام بحث مباحثے میں حصّہ لیتے تھے تو جواب آیا نہیں پھر اپنے والد محترم کے بارے میں سوچا آیا وہ حصہ لینے کی خواہش مند ہے یا نہیں تو جواب پھر نفی میں آیا۔ راقم عموماً اُن شخصیات سے بحث کرتا ہے جن کے سوچ تاریکی میں نہ ہو کیونکہ کسی عظیم فلسفی نے کیا خوب کہا تھا رحم کے قابل ہے وہ جس کے سوچ تاریکی میں ہو۔ راقم کے اکثر دوست احباب گلے شکوے کرتے ہیں کہ آپ بحث مباحثے میں حصہ نہیں لیتے لیکن میں دل ہی دل میں کہتا ہوں اوپر سے اجازت نہیں۔
قارئین کرام بوڑھوں کے تبصرے قلم بند کرنا راقم جیسے ادنیٰ قلم کار کا کام نہیں۔ خاص کر سیاسی تبصروں کو رقم کرنے کے لئے ڈبل پوسٹ کرنا لازم و ملزوم ہیں۔ بڑوں کا موضوع سیاست اور جوانوں کا موضوع کرکٹ کے سوا اور کچھ ہے ہی نہیں۔ سوات کے مقامی senators کا مرکزی دفتر مقامی حجام خانہ ہوتا ہے جہاں سے تمام ضروری اور غیر اشد ضروری حالات پہ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ اکثر سوچ و فکر current affairs پہ بھی ہوتا ہے۔ مولانا کی حکمت آنے والی ہے۔ زرداری صاحب اور نواز شریف کو سر فہرست رکھا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے تو حد ہی کردی نواز شریف کی علالت کے بعد لندن پہنچا کر بھی آئے۔
دوسری جانب ہماری نوجوان نسل ہمیشہ اُس مباحثے میں خاصا دلچسپی رکھتی ہیں جس میں کرکٹ نامی کوئی ایک اشارہ موجود ہو۔ مقامی analysts بڑے دل کے ساتھ گردے بھی رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں کرکٹ دنیا کے عظیم ماہرین جیسے سقلین مشتاق، وسیم اکرم، ڈاکٹر نعمان، رمیض راجہ، ڈینی مورسن اور محمد یوسف کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں (الا ماشاء اللہ) لیکن افسوس سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آ سکے۔
بحث کرنے والے پورا زور لگا کر اپنی بات منوانے کی ناکام کوششوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ بازاروں، گلیوں، کوچوں، دکانوں اور سر راہ چلتے ہوئے بے مقصد مباحثے میں دیکھے گئے ہیں جس میں اقبال، حَکم اور اِنظر ہوٹل کے ساتھ ساتھ ڈرائیور ہوٹل میں ہمہ وقت بحث میں لوگ مبتلا نظر آئے ہیں۔ ہم فضول بے معنی اور بے مقصد بحث اور لمبی لمبی چھوڑنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب دوبارہ سیدھے راستے پر آنا مشکل لگتا ہے لیکن ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا کے مصداق انسان اپنی خودی کو پہچان سکتا ہے۔
کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ لوگ منہ پر پھٹی باندھ کر مکمل خاموشی اختیار کریں کہ ویؔر ہے بولنا منع ہے لیکن بے مقصد اور immature مباحثے زیادہ تر تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جس چیز کا علم نہ ہو اُس میں ٹانگ اڑانے سے اچھا اپنی ذریعہ معاش کی فکر کرنی چاہیے۔ گر پھر بھی وقت ملے تو ماں باپ بیوی بچوں کو وقت دیں تاکہ بہتر صحت کے ساتھ زندہ رہنے کا فائدہ بھی حاصل ہو۔


