آرمی چیف کی ایکسٹینشن۔ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جہاں آئے روز از خود نوٹس لیتے رہے وہیں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پہلا ازخود نوٹس لے لیا انھوں نے کہا یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا گیا۔ اس سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان اور چیف جسٹس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چند سوالات اٹھائے۔

چیف جسٹس اور عدالت کے چند سوالات اور نکات کچھ یوں تھے۔

آرمی چیف کی توسیع کی سمری پر کابینہ کے 25 میں سے صرف
11 ارکان نے منظوری دی 14 نے ابھی تک ہاں نہیں کی۔ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا۔ کیا کابینہ ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے؟
کیا صدر مملکت نے کابینہ کی منظوری سے پہلے توسیع کی منظوری دی اور کیا کابینہ کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی؟

قواعد میں آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کا اختیار نہیں حکومت صرف ریٹئرمنٹ کو معطل کر سکتی ہے اور ریٹائرمنٹ ابھی ہوئی نہیں۔
آرمی رولز کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے ریٹائر منٹ سے پہلے ریٹائر منٹ معطل کرنا چھکڑا گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے۔ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔
تقرری کرنے والی اتھارٹی توسیع کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ آرمی چیف کی توسیع کے لئے رولز میں کوئی شق موجود نہیں : اٹارنی جنرل

اس مکالمے کی روشنی میں عام لوگوں کے ذہنوں میں چند سوالوں نے جنم لیا ہے

کیا ریٹائرمنٹ سے قبل عدالت یہ معاملہ اٹھا سکتی ہے؟ کیا یہ مفاد عامہ کا کیس ہے؟ کیا آئندہ کے لئے آرمی چیف کی تقرری و توسیع کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ کیاماضی میں کی جانے والی توسییع غیر قانونی قرار پائے گی۔ کیا کابینہ کے کورم یا فیصلوں کے بارے عدالت کو اختیار ہے؟ کیا یہ کیس اداروں کے بیچ ٹکراؤ کا باعث تو نہین بنے گا؟

ایسے بہت سے سوالات کے جوابات جاننے اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لئے ہم نے کچھ قانونی ماہرین سے رابطہ کیا۔

ممعروف سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ کا اس سلسلے میں کہنا تھا ”یہ معاملہ آگے چلے گا تو بات واضح ہو گی۔ کہ کیا یہ معاملہ کابینہ سے ہو کر جانا چاہیے۔ کیا اختیارات صدر کے ہیں۔ کیا یہ مفاد عامہ بھی ہے۔ اور کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر توسیع ہونا چاہیے۔ یہ عدالت دیکھے گی کہ کیا یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔ کیا یہ مدت قابل توسیع ہے۔ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حتمی فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا۔ کہ کیا یہ پالیسی کے علاوہ قانونی معاملہ بھی تھا۔ پاور کا استعمال کیسے ہو گا۔

سینئر وکیل سابق نائب صدر پاکستان بار کونسل احسن بھون کا کہنا تھا کہ یہ سوموٹو ہے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ مفاد عامہ کا کیس ہے ظاہر ہے کیونکہ یہ بہت اہم ہے آرمی چیف کی تعیناتی بہر حال اہم معاملہ ہے۔ اس کیس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اب اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو گا۔ شاید تکنیکی وجوہات پر نہیں۔ ماضی میں جنرل کیانی کو توسیع ملی تھی تو ایک مثال عدالت کے سامنے موجود ہے۔ جب عدالت میرٹ پر فیصلہ دے گی تو پیرا میٹرز بھی بنانا پڑیں گے۔ کہ کن قواعد و ضوابط کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ ہوا۔ اور مستقبل میں ایسی کسی تعیناتی کے لئے بھی ان قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھنا ہو گا۔ ابھی تو تقرری آرمی رولز کے تحت ہوتی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کے معاملے میں رولز اف بزنس کو دیکھنا ہو گا کہ رولز آف بزنس کیا کہتا ہے۔ اگر رولز اف بزنس کے تحت کورم پورا ہونا ضروری ہو یا سب کی رائے یا ووٹنگ لازم ہو تو ظاہر ہے کہ پھر اس اصول کی پابندی کی جا نی چاہیے۔ حکومت ہو سکتا ہے کہ دوبارہ کابینہ سے منظوری کے لئے بھیج دے لیکن اب یہ معاملہ عدالت میں آ چکا ہے۔

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اظہر صدیق کا یہ کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی تعیناتی 29 نومبر تک ہے۔ اس کا ایفیکٹ نومبر کے بعد ہونا تھا۔ اس کے بعد ہی عدالت بھی کوئی قدم اٹھا سکتی تھی۔ اس سلسلے میں کابینہ کی منظوری موجود ہے عدالت اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کابینہ کے تمام ارکان نے منظوری کیوں نہیں دی۔ رولز آف بزنس میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔ پوسٹ فیکٹو اگر کوئی لاکونہ بھی ہے تو بعد میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی فیصلہ میں عدالت عمل دخل نہیں کر سکتی۔ اور یہ پالیسی فیصلہ ہے۔

کیا عدالت میں ہوتے ہوئے کیس دوبارہ کابینہ کے سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ جواب میں ان کا کہناتھا کہ ہاں کیوں کہ یہ مفاد عامہ کا کیس نہیں ہے۔ قانونی طور پر عدالت ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ معاملہ ٹیک اپ نہیں کر سکتی۔

سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کا کہنا تھا نو ٹیفیکیشن ہو چکا تو عدالت قانونی طور پر دیکھ سکتی ہے۔ وزیراعظم نے غالبا توسیع دیتے وقت مسئلہ کشمیر کو بھی وجہ توسیع بتایا تھا یعنی توسیع کی وجوہات مقرر کی گئی ہیں۔ تو عدالت یہ دکھ سکتی ہے کہ آیا یہ وجوہات متعلقہ ہیں یا غیر متعلقہ۔ یا یہ صرف ایک خانہ پری ہے۔ سو ایسے عوامل کا جوڈیشل ریویو ہو سکتا ہے۔ غالبا ہو سکتا ہے کہ عدالت اس طرف جا رہی ہو۔ میرے نزدیک عدالت کی کابینہ والی بات میں وزن نہیں ہے۔ کیونکہ کابینہ کو تولنا عدالت کا کام نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •