ایکسٹینشن اور بابو کا انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر خاص و عام اس امر سے آگاہ ہے کہ گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں بیوروکریسی کو خوب خوفزدہ کیا گیا ہے۔ افسر پہلے پہل تو چھٹی لے کر گھر بیٹھے پھر ایسی پوسٹنگ کروانے لگے جہاں دن بھر مکھیاں مارنے کے سوا کوئی کام نہ ہو، اور پھر اب گو سلو ہر چلنے لگے ہیں یعنی دفتر تو آتے ہیں مگر کوئی عملی کام کرنے کی بجائے دن بھر ایک دوسرے سے فائلوں کا تبادلہ کرتے اور کام لٹکاتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ خرچ نہیں ہوتا اور سال کے آخر میں واپس کر دیا جاتا ہے۔

افسران جانتے ہیں کہ وہ کام کریں گے تو ان کا انجام فواد حسن فواد جیسا ہو گا۔ سال ڈیڑھ بغیر فرد جرم عائد ہوئے نیب کی قید میں رہیں گے اور کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ جبکہ کام نہ کرنے کی صورت میں کوئی انہیں نہیں پوچھے گا۔ پکی نوکری سرکاری سہولیات سمیت برقرار رہے گی۔ تو بھلا وہ چریا ہیں کہ ایسے خطرناک زمانے میں کام کریں؟ لیکن بہرحال وہ دکھی تو ہیں کہ تباہی ہو رہی ہے لیکن وہ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے صورتحال کو بہتر نہیں کر سکتے۔

اب اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کہ گزشتہ چند دن سے جیسے چیف صاحب کی ایکسٹینشن کا معاملہ چل رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ کابینہ نے تو چلیں جو کرنا تھا وہ کر دیا۔ لیکن کابینہ تو ہمیشہ ایسے ہی کرتی ہے۔ یہ افسران ہوتے ہیں جو انہیں کاروبارِ مملکت کے قاعدے قوانین سمجھاتے ہیں اور ان کے مطابق فائل بناتے ہیں اور پھر اس فائل کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ اس میں کچھ قابل گرفت نہیں ہوتا۔

پھر ایسا کیا ہوا کہ ایکسٹینشن کی فائل میں ایسی ایسی فاش غلطیاں ہوئیں کہ چیف جسٹس کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ ”اسسٹنٹ کمشنر کو ایسے تعینات نہیں کیا جاتا جیسے آپ آرمی چیف کو تعینات کر رہے، آپ نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنا دیا ہے“۔

کہیں یہ فائل تیار کرنے والے بابوؤں کا انتقام تو نہیں ہے جو پچھلے ڈیڑھ برس سے ہر دم خوف کے سائے میں جی رہے ہیں کہ نہ جانے کب نیب اٹھا لے جائے اور فرد جرم عائد کیے بغیر ہی برسوں کے لئے اندر کر دے؟ شاید وہ بابو ذلت اٹھا اٹھا کر تنگ آ گیا ہو اور اس کا کچھ حصہ اس نے حکومت وقت سے شیئر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو کہ وہ بھی خوب خفت اور شرمندگی اٹھائے۔ اب اطلاع آ رہی ہے کہ ایکسٹینشن کا نیا نوٹیفیکیشن تیار ہو گیا ہے۔ کل سپریم کورٹ میں دیکھتے ہیں کہ اس میں بابو نے کوئی بارودی سرنگ فٹ کی ہے یا نہیں۔
سیاسی والی حکومت کو دعاگو ہونا چاہیے کہ یہ صرف انسانی غلطی ہو انتقامی غلطی نہ ہو کیونکہ بابو کا انتقام بھیانک ہوتا ہے۔

پس نوشت: ذرائع کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ غلطی کے مرتکب افراد کے بارے میں انہیں آگاہ کیا جائے۔ آرمی چیف کی توسیع کے کیس کے عدالتی فیصلے کے بعد غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1297 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar