طلبہ یکجہتی مارچ میں حجاب والی طالبات پر اعتراض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ملک بھر کے اہم شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ ہوا۔ اس میں مختلف طلبہ تنظیمیں شریک ہوئیں مگر بحیثیت مجموعی اس میں سرخ رنگ غالب تھا۔ اس مارچ میں طالبات کی شرکت نمایاں تھی اور ان طالبات میں دوپٹے یا حجاب سے سر ڈھانپنے والیاں بھی شامل تھیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے اعتراض سامنے آیا کہ یہ کیسی سرخ ہیں جو حجاب پہنتی ہیں؟

ان معترضین کو یہ جان کر شدید صدمہ ہو گا کہ ہماری تاریخ کے ایک بڑے مشہور کمیونسٹ لیڈر حسرت موہانی تھے۔ وہ پکے کمیونسٹ ہونے کے علاوہ اتنے پکے مسلمان تھے کہ مولانا کہلاتے تھے اور انہوں نے تیرہ حج کر رکھے تھے۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے اور رئیس المتغزلین کہلاتے تھے۔ انگریز سرکار انہیں شاعری کے لئے فرصت مہیا کرنے کی خاطر اکثر جیل میں ڈال دیا کرتی تھی جہاں وہ چکی چلاتے اور اس کے ردھم پر شعر کہتے۔ ان کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں

گاندھی کی طرح بیٹھ کے کیوں کاتیں گے چرخہ؟
لینن کی طرح دیں گے نہ دُنیا کو ہلا ہم

درویشی و انقلاب مسلک ہے مرا
صوفی مومن ہوں، اشتراکی مسلم

کیا طالبات کے سرخ حجاب کو ”غیر اشتراکی“ قرار دینے والے مولانا حسرت موہانی کی سرخ ٹوپی اور داڑھی پر بھی اسی جذبے سے اعتراض کریں گے؟

کیا یہ سمجھنا واقعی بہت دشوار ہے کہ بندہ اجتماعی زندگی کے متعلق مختلف سیاسی یا معاشی نظریات رکھنے کے علاوہ ذاتی مذہبی عقائد بھی رکھ سکتا ہے؟ ان حجاب والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ انہیں اس مارچ میں شرکت کے لئے ممکنہ طور پر اپنے اقربا کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہو گا۔ یہ باقی شرکا سے کہیں زیادہ بہادر ہیں۔

جہاں تک حجاب کو جبر کی علامت قرار دینے کا تعلق ہے، تو میں ذاتی طور پر کئی خواتین کو جانتا ہوں جو پاکستان، یورپ اور امریکہ میں رہتی ہیں۔ ان کے خاندان میں حجاب کا رواج نہیں تھا۔ بزرگ خواتین چادر وغیرہ لیا کرتی تھیں لیکن وہ خود عموماً سر ڈھانپنے کی عادی نہیں رہیں۔ پھر انہوں نے خود اپنی مرضی سے آزادانہ فیصلہ کرتے ہوئے حجاب استعمال کرنا شروع کیا۔ کیا حجاب کے معاملے میں ہمیشہ جبر کارفرما ہوتا ہے؟ کیا یہاں فری چوائس کی گنجائش نہیں ہوتی؟

میں ذاتی طور پر کمیونزم کے خلاف رہا ہوں۔ کسی دقیق علمی بحث میں پڑے بغیر صرف دنیا کی تاریخ دیکھتا ہوں کہ اگر کمیونزم یا سٹیٹ سوشلزم اتنا ہی اچھا ہوتا تو ستر برس اس کی اسیر رہنے والی قومیں موقع ملتے ہی اس نظام سے کیوں نجات حاصل کر لیتیں۔ اسی طرح بالکل خالص کیپٹل ازم بھی مجھے پسند نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں میگا کارپوریشنز کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ وہ حکومتوں اور ریاستوں کو اپنے ایجنڈے پر چلا سکتی ہیں۔ ان دونوں کا آمیزہ جو سکینڈے نیویا یا دیگر فلاحی ریاستوں میں موجود ہے، وہ زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔ اس میں فرد کو اپنی محنت سے پیسہ کمانے کا موقع بھی ملتا ہے اور غریب کی ذمہ داری ریاست اٹھاتی ہے۔

اس کے باوجود میں ان لال لال لہرانے والے طلبہ کی حمایت کرتا ہوں۔ ایک طالب علم جو دنیا کو بہتر بنانے کا عزم رکھتا ہے اور اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے، وہ انسانیت کا درد محسوس کرتا ہے۔ خواہ وہ لال لال لہرائے یا سبز سبز، اس کے انسانیت سے محبت کے جذبے کی وجہ سے کی عزت کرنی چاہیے۔ ہاں اگر وہ یہ نظریہ دوسروں پر لاگو کرنے کی خاطر جبر و تشدد کی راہ اپناتا ہے تو پھر اس کی مخالفت کرنا لازم ہے۔

اس طلبہ یکجہتی مارچ کے بارے میں ایک کمنٹ پڑھنے کو ملا کہ جی ان کے مقاصد بہت مذموم ہیں اور یہ فیمنسٹ ہیں۔ غالباً یہ صاحب طلبہ یکجہتی مارچ کو عورت مارچ سے کنفیوز کر بیٹھے تھے اور پریشان تھے کہ اتنی سردی میں یہ طلبہ انہیں اپنا کھانا خود گرم کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ اس طلبہ یکجہتی مارچ کے بنیادی مطالبات کیا تھے؟

ان کے مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی، یکساں نظام تعلیم، فیسوں میں اضافے کی واپسی، تعلیمی اداروں سے سیکیورٹی اداروں کی واپسی، جنسی ہراسانی سے تحفظ اور متعلقہ کمیٹیوں میں طلبہ کی نمائندگی، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات از قسم پانی، ہوسٹل اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی، فرنیچر، واش روم اور لیبارٹریز وغیرہ کی موجودگی، ختم کردہ سکالر شپس کی بحالی اور کل قومی بجٹ کا پانچ فیصد شعبہ تعلیم کے لئے مختص کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ کیا یہ مطالبات جائز نہیں ہیں؟

طلبہ یونین ایک متنازع مسئلہ ہے۔ اس کے حامی بتاتے ہیں کہ یہ قوم کو ایک سیاسی نرسری فراہم کرتی ہیں اور ادھر سے ایک پختہ سیاسی لیڈر شپ ابھرتی ہے۔ اس کے مخالفین اس کی آڑ میں ہونے والی غنڈہ گردی کا بتاتے ہیں کہ کس طرح مختلف طلبہ تنظیمیں دوسرے طلبہ حتی کہ اساتذہ کے ساتھ بدمعاشی کرتی ہیں۔ اس کا حل غالباً یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی پروردہ ملک گیر طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی جائے لیکن ادارے کے اندر طلبہ کو انتخابات اور نمائندگی کی اجازت ہو۔ ایسا ماڈل نجی تعلیمی اداروں سے لیا جا سکتا ہے۔ اس سے تعلیمی ادارے کی اندرونی سیاست میں غنڈہ گردی کے لئے باہر سے تنظیم کے مسلح بدمعاش لانے کی روایت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس معاملے کو سمجھنے والے افراد اس کے بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1211 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar