دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“
پرائمری پاس چیف ایڈیٹر کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ دیوان سنگھ مفتون کی زندگی کا کچھ حال احوال پچھلے کالم میں بیان ہو چکا، آج تذکرہ ان کی ناقابلِ فراموش کتاب ”ناقابلِ فراموش“ کا۔
لائبریری میں تلاش تو کسی اور کتاب کی تھی، وہ تو نہ مل سکی، دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“ ہتھے چڑھ گئی۔ کتاب اور مصنف کا نام تو سنا ہوا تھا، پر پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ پڑھنے سے پہلے ہم اسے اور ہی قسم کی کتاب سمجھتے تھے۔ ہمارے ذہن میں تھا کہ یہ دیوان سنگھ صاحب کی مربوط قسم کی سوانح عمری ہو گی، جس میں ”چند تصویریں بتاں“ دیکھنے کو ملیں گی، ”چند حسینوں کے خطوط“ پڑھنے کو ملیں گے۔ لیکن اس میں ہمیں کوئی ایسی واردات نظر نہیں آئی۔
صحافی ہو، ادیب ہو اور سکھ ہو اور ”دارو“ سے دور ہو ایسا ممکن نہیں تھا۔ پر یہ صرف ہمارا خیال تھا۔ سردار جی نے اس میدان میں بھی ہمیں سخت مایوس کیا۔ ہم ان کے گھر میں ”کپیوں“ کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن وہاں سے صرف برانڈی کی ایک بوتل برآمد ہوئی، جس میں سے شدید تھکن کی صورت میں وہ کبھی کبھی ایک آدھ گھونٹ چکھ لیتے تھے۔ باقی بوتل پر وہ نشانی لگا کر رکھتے تھے تا کہ اگر گھر کا ملازم بوتل کو جوٹھا کرنے کی کوشش کرے تو پکڑا جائے۔
حیرت ہے کہ ان کا خدشہ درست ثابت ہوا، نوکر نے واقعی اس کو جوٹھا کردیا۔ پر بچت یہ ہوئی کہ واردات گلاس کے ذریعے ہوئی اور یوں کفایت شعار دیوان سنگھ کی بقایا برانڈی بچ گئی ورنہ خواہ مخواہ نئی بوتل کا خرچہ نکل آتا۔ ایسی صورتحال ہو تو کتاب میں سے کسی اور ”واردات“ کے ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ شاید ہم نے ان کا نام ایک اور لکھاری خوشونت سنگھ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا تھا، جن کے ہاں سنا ہے ایسی وارداتوں کا تذکرہ مل جاتا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کا سلسلہ بھی کتاب کے نام کی طرح ناقابلِ فراموش ہے۔ پچھلے کالم میں ذکر ہو چکا کہ بے باک صحافت کے علمبردار ہونے کی ناتے دیوان سنگھ کو کئی بار جیل جانا پڑا۔ ایسی ہی ایک جیل یاترا کے دوران انہوں نے انبالہ اور فیروز پور کی جیلوں میں گزرے ایک سال کے دوران محض اپنی یاداشت کے بل بوتے پرگزری زندگی کے واقعات کے نوٹس تیار کیے اور جیل سے رہائی کے بعد اپنے ہفت روزہ اخبار ”ریاست“ میں ”ناقابلِ فراموش“ کے مستقل عنوان کے تحت ہفتے وار کالم لکھنا شروع کر دیا۔
اس میں وہ دنیا جہان کے موضوعات پر لکھتے تھے، لیکن ہندوستان کی دیسی ریاستوں میں رعایا کے ساتھ ہونے والا ظلم و ستم ان کا خاص موضوع تھا۔ ہر کالم کے آخر میں وہ اس کالم سے حاصل ہونے والا اخلاقی سبق بھی تحریر کرتے جسے ایک اور ادیب ڈاکٹر ایم۔ ڈی تاثیر نے پسند نہیں کیا لیکن یہ سردار صاحب کا لکھنے کا اپنا انداز تھا جس سے وہ باز نہیں آئے۔
بعد میں ان کالمز کو کتابی شکل میں شائع کروانے کا ارادہ کیا تو سردار صاحب کی جیب خالی تھی۔ جیب خالی ہونے کی وجہ اب ان کی غربت نہیں تھی بلکہ ان کی فیاضی اور دوستوں پر خرچ کرنے کے اپنے انداز کی وجہ سے تھی۔ ایک ستارہ شناس نے ایک بار ان کا حساب کتاب کر کے بتایا تھا کہ یہ لاکھوں کمائے گا لیکن مقروض رہے گا۔ ہوا بھی ایسے ہی ان کے اخبار نے لاکھوں کما کر دیا لیکن یہ ہمیشہ مقروض ہی رہے۔
کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں پھر ان کے بہت سے دوست ہی کام آئے اور کتاب کی اشاعت ممکن ہو سکی۔
کتاب کی اشاعت نے ہر طرف دھوم مچا دی، واقعی یہ ناقابلِ فراموش واقعات پر مبنی ایک ناقابلِ فراموش کتاب تھی، تبھی تو جوش ملیح آبادی یہ کہنے پر مجبور ہوئے ”سردار صاحب کی یہ کتاب ان کی زندگی کا ایک زبردست کارنامہ اور اردو زبان میں ایک ایسا اضافہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا“
جناب ایم۔ ڈی تاثیر یوں گویا ہوئے ”میں ناقابلِ فراموش کو اردو کی چاند یادگار کتابوں میں شمار کرتا ہوں“ علامہ نیاز فتح پوری ایڈیٹر ”نگار“ لکھنؤ نے لکھا ”میں نے کم ایسے انسان دیکھے جو دیوان سنگھ کیا طرح صابر و ضابط اور مصائب کا مقابلہ کرنے کے لیے شیر کا سا دل رکھتے ہوں، یہ کتاب اسی ناقابلِ فراموش ہستی کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے اور اس قدر دلچسپ ہے کہ کم ازکم اس کے مطالعہ میں مجھے اتنا ہی لطف آتا ہے جتنا غوث علی شاہ کے ’تذکرہ غوثیہ‘ کے مطالعہ میں“۔
بھیا شیخ احسان الحق عشقی رئیسِ اعظم میرٹھ نے فرمایا ”سردار دیوان سنگھ مفتون کے ’ناقابلِ فراموش‘ مضامین اس قدر دلچسپ و پر نصائح مجموعہ کو بیسویں صدی کے ایک غیر مسلم کی لکھی ہوئی گلستاں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا“ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے اپنی پسندیدگی کا اظہار یوں کیا ”یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایک ایسے شخص کے تجربوں، مشاہدوں اوپر تاثرات کا بیان ہے جو عمر بھر حق کی حمایت میں باطل سے دلیرانہ مقابلہ کرتا رہا اور اس کی بدولت اس نے طرح طرح کی مصیبتیں اور عقوبتیں سہیں“ ایک پرائمری پاس پنجابی زبان بولنے والا اگر اردو زبان میں ایسی کتاب لکھے گا تو وہ یقیناً ”ناقابلِ فراموش“ ہی ہو گی۔


