کیا ایشیا واقعی سرخ ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں سے طلباء کی ایک تحریک سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں وہ ’ایشیا سرخ ہوگا‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ طلباء یونینوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ طلباء یونینوں کی بحالی اور ایشیا کے سرخ ہونے سے تمام مسائل حل ہوں گے۔

ایشیا میں لال تحریک کوئی نئی بات نہیں۔ اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی چلی ہیں۔ اس کا آغاز 1917 میں روس میں ہوا اور 1991 میں دم توڑ دی اور آخر کار کمیونسٹ حکموت کا خاتمہ ہوا۔ موجودہ دور میں حکومتی سطح پر صرف چین اور شمالی کوریا کمیونسٹ ممالک ہیں۔

برصغیر کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اس کے اثرات یہاں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ 80 ء کی دہائی تک پڑوسی ملک بھارت کا جھکاؤ سوشلزم کی طرف تھا۔ پاکستان میں کمیونزم یا سوشلزم کو گالی سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو سوشلسٹ خیالات رکھنے والوں پر دہریہ ہونے اور ملک دشمن ہونے کا فتوی بھی لگایا جاتا ہے۔

فکری لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں سبط حسن اور فیض احمد فیض صاحب اس تحریک کے معمار تصور کیے جاتے ہیں جبکہ اس فکر کو سیاسی اور عملی طور پر رائج کرانے والے بھٹو صاحب تھے جنہوں نے سوشلزم کو معیشت کا ستون قرار دیا۔

یہ سوچ اور فکر جو کہ کارل مارکس کے فلسفے جس میں وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بات کرتا ہے پر مبنی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے جن ممالک نے اس کو اپنایا اور جن شخصیات نے اسے اپنی سیاست کا اہم حصہ قرار دیا انہوں نے بھی اس کے ساتھ نا انصافی کی اور جن ممالک، خاص کر کے پاکستان کی عوام، نے اس کی مخالفت کی تو انہوں نے بھی اس سوچ کی اساس کو سمجھے بغیر اس سے غیر منطقی اختلاف کیا۔ کارل مارکس equality کی بات نہیں کرتا ہے بلکہ وہ equity کی بات کرتا ہے۔ وہ سرمایہ دار طبقے کی نا انصافیوں اور استحصال کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا کر ہر شخص کو اس کی محنت اور اس کی ضروریات کے مطابق وسائل کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں، شاید امریکی جھکاؤ کی وجہ سے، اس کی بلاوجہ مخالفت ہوتی رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس انقلاب کے نتیجے میں جو تبدیلی آئی یا جو ممالک اس سے متاثر تھے اس کا ان ممالک پر کیا اثر ہوا؟ کیا پاکستانی عوام میں اس طرح کا انقلاب لانے کی سکت ہے؟

روس جو کہ اس انقلاب کا چیمپیئن تھا، اسی معاشی نظام اور اس کی rigidity کی وجہ میں تباہ ہوا۔ چین اور بھارت کی عوام کی حالت بھی اس وقت تک ابتر تھی جب تک انہوں نے اپنی مارکیٹ اکانومی کو آزاد نہیں کیا۔ جب سے ان ممالک کی مارکیٹ اکانومی آزاد ہوئی ہے یہ عالمی بڑی معشیت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہاں کے لوگوں کی زندگی بھی بہتر ہو رہی ہے۔

اب آتے ہیں اپنے گھر کے مسلے کی طرف۔ یقینا پاکستان میں بہت سارے مسائل ہیں۔ خاص کر کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے، لیکن کیا طلباء یونینوں کی بحالی ان تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

طلباء یونین کی بحالی سے ان مسائل کا تو کوئی حل نہیں نکلے گا ہاں البتہ ان کے فعال ہونے سے ان لوگوں کا فائدہ ضرور ہوگا جو ان مسائل کا موجب بن رہے ہیں۔ یہ یونینز بحال ہونے کے بعد طلباء کے لئے کچھ کرنے کی بجائے انہی کے ہاتھوں استعمال ہوں گے۔ اور یہ تبدیلی بھی ”تبدیلی سرکار“ کی تبدیلی کی طرح کھوکھلی ہی ثابت ہوگی۔ اگر واقعی میں کچھ کرنا ہے تو سٹوڈنٹ سوسائٹیز (جیسا کہ آئی ایم سائنسز پشاور، نسٹ، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، وغیرہ میں موجود ہیں ) کی بات کی جائے جو طلباء کی ذہن سازی کر سکیں۔

ان کو تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے حقوق جاننے اور ان کے لئے آواز اٹھانے کے قابل بنایا جائے۔ تبدیلی اور انقلاب کے لئے اہم چیز فکری تربیت ہے۔ اس تربیت کے لئے سڑکوں پر نکلنے کی بجائے تعلیمی اداروں میں طلباء کی علمی اور عملی تربیت کی جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یونیورسٹیوں میں جمعیت، انصاف، پیپلز، مذہب، فرقہ اور قوم پرستی کے نام پر غنڈہ گردی ایک بار پھر ابھرے گا اور وہ بھی قانونی اور آئینی حق بن کر۔

یقینا یہ مارچ طلباء کے حقوق اور ان کی آزادی کے لئے ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اس کے آرگنائزر کو ایک بار پھر سوچ بچار کے بعد اچھی طرح ہوم ورک کر کے میدان میں اترنا چاہیے نہ کہ آزادی مارچ ”والوں کی طرح بچگانہ اور غیر سنجیدگی سے۔ جہاں تک ایشیا سرخ ہونے کا نعرہ لگا کر جو حقوق مانگے جا رہے ہیں یہ ایک احمقانہ اور غیر سنجیدہ عمل ہے کیونکہ یہ نعرہ کب کا ناپید ہو چکا ہے۔ وہ جو اس کے چیمپیئن تصور کیے جاتے تھے اب تو وہ بھی بہت حد تک لبرل اکانومی کو اپنا چکے ہیں۔ آخری اور اہم بات یہ کہ سرخ انقلاب مال روڈ پر ایک ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل اور دوسرے ہاتھ میں برگر لے کر نہیں آتا ہے اس کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے جس کا ہم پاکستانیوں میں ماشا اللہ سے ہمیشہ سے فقدان رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •