پوسٹ کالونیل ریاست میں حکمران طبقات کی تشکیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سامراجیت محض ایک سازش نہیں، اور نہ ہی یہ محض محکوم ملک کے سماجی ڈھانچے سے جدا خارجی عنصر ہے۔ سامراجی نظام میں استعماری ملک کا معاشی ڈھانچہ، محکوم ملک کی سماجی ساخت میں پیوست کیا جاتا ہے۔ مابعد نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں مقامی حکمران طبقات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے سامراجی یا استعماری تسلط قائم کیا جاتا ہے۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والا پاکستان دراصل 72 سال بعد بھی نوآبادیاتی عہد کی باقیات کو اپنی گود میں سمیٹے ہوئے ہے، ان باقیات میں سیاسی، معاشی، جاگیرداری، عدالتی، فوجی، پولیس، بیوروکریسی اور تعلیمی ڈھانچہ سر فہرست ہے۔ پاکستان مابعد نوآبادکاروں کی ٹھوس منصوبہ بندی کی بناء پر عالمی استعماریت کے قیدیوں میں اُس وقت شامل ہوگیا جب گورنر جنرل محمد علی جناح نے اسلحہ کی امداد کے لیے امریکا کی طرف دیکھا، یوں اس خطے میں امریکا کے تزویراتی مفادات کے تحفظ کا ضامن پاکستان بنا۔ مئی 1950 ء میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے امریکا دورہ کیا اور اس کے بعد دسمبر میں ہی امریکا کے ساتھ فوجی اسلحہ خریدنے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوئے، ساٹھ روز بعد امریکا نے پاکستان کے لیے پانچ لاکھ ڈالرز کی تکنیکی امداد منظور کی۔

چار سال بعد 1954 ء میں پاکستان نے امریکی عشق میں فوجی اتحادی ہونے کا رُتبہ حاصل کر لیا اور امریکا کے جنوب مشرقی ایشیائی معاہدے یعنی سیٹو اور پھر بغداد معاہدے یعنی سینٹو میں شمولیت اختیار کی۔ اُس وقت سے پاکستان کی جانب امریکی پالیسی کی بنیادی منطق یہی رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی منصوبہ بندی کو اپنے کنٹرول میں لے کر ملک کو اپنے دائرہ اثر میں لایا جائے، چنانچہ اس کے لیے بیرونی امداد کو اولین آلہ کار کا درجہ دیا گیا۔

پاکستان نے اقتصادی ترقی کے لیے اپنا پہلا پانچ سالہ منصوبہ اس وقت پیش کیا جب ملک مکمل طور پر امریکا کا اتحادی بن چکا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان نے امریکا سے اقتصادی امداد مانگی اور امریکا نے 66.64 کروڑ ڈالرز کی امداد منظور کر لی۔

مابعد نوآبادیاتی راج میں بظاہر پالیسیوں کا مرکز ملک کے دار الحکومت کو رکھا جاتا ہے لیکن ان پالیسیوں کو مرتب کرنے کے پیچھے استعماری طاقت کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ ملک کی منصوبہ بندی، پالیسیوں اور عمل درآمد کو مابعد نوآبادیاتی سانچے میں ڈھالنے کے لیے نئے ادارے وجود میں لائے جاتے ہیں اس عمل کو ادارتی تعمیر (Institutional Building) کا نام دیا جاتا ہے۔ 1954 ء میں پاکستان کو ملنے والی تکنیکی امداد صرف امریکی ڈالرز تک محدود نہیں تھی بلکہ ڈالرز کے ساتھ امریکی مشیروں کی بڑی کھیپ بھی پاکستان پہنچی۔ ان مشیروں کی سرگرمیوں کا مرکز منصوبہ بندی کا ادارہ، پلاننگ بورڈ تھا، جس کو قائم ہوئے ایک سال بھی نہیں گزرا تھا۔

حکومت پاکستان نے امریکا کی ہاورڈ یونیورسٹی اور فورڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جس کی بدولت بیرونی مشیروں کا پلاننگ بورڈ میں تقرر کیا گیا، انھی مشیروں نے پاکستان کے پہلے پنج سالہ منصوبہ کی تیاری میں معاونت کی۔ پاکستان میں ان مشیروں کی قیادت ڈیوڈ بیل نے کی۔ ڈیوڈ بیل کو بعد میں پاکستان میں امریکا کے امدادی ادارے اے۔ آئی۔ ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ہاورڈ یونیورسٹی میں اس پروگرام کی نگرانی کا کام مشہور ماہر معاشیات ایڈورڈ میسن نے سنبھالا جو ڈویلپمنٹ ایڈوائزری سروس یعنی ڈاس کے نام سے مشہور ہوا۔

پلاننگ بورڈ، تنظیمی کمزوریوں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کی وجہ سے امریکی مشیروں کا محتاج ہوگیا۔ عالمی بینک کی تیار کردہ رپورٹ میں امریکی ماہر معاشیات واٹر سٹن نے لکھا کہ پہلے پانچ سالہ منصوبے کے بیشتر اہم حصے ہاورڈ گروپ نے تیار کیے تھے جبکہ تعلیمی مشیر جارج گرانٹ نے پہلے پانچ سالہ منصوبے میں تعلیمی پالیسی مرتب کرنے میں کردار ادا کیا۔ حکومت نے تکنیکی امداد قبول کرنے کے ساتھ وزارتوں میں بھی امریکی مشیروں کو بٹھا دیا۔ پھر جنرل ایوب خان نے حکومت کا تختہ اُلٹ کر امریکی مشیروں کے لیے مزید کام آسان کر دیا۔

پاکستان میں منصوبہ بندی کے ادارے کی از سر نو تنظیم کر کے اسے مزید اختیارات دے دیے اور اسے پلاننگ کمیشن کا نیا نام دیا گیا۔ منصوبہ بندی کے ادارے اور وزارتوں کے درمیان تنازعہ کو اس وقت ماہر شاہی یعنی ٹیکنو کریسی اور افسر شاہی کی رسہ کشی تصور کیا جارہا تھا لیکن پس پردہ استعماری منصوبہ کار فرما تھا۔ ایوب خان کے عہد میں ڈویلپمنٹ ایڈوائزری سروس کے 80 غیر ملکی مشیر پاکستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان مشیروں نے ملک میں ایسا ڈھانچہ کھڑا کر دیا تھا جو مابعد نوآبادیاتی مفادات کی تکمیل میں معاون ہو۔

منصوبہ بندی کمیشن کو ملنے والی تکنیکی امداد فقط ہاورڈ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مشیروں کی صورت میں ہی نہیں تھی۔ بلکہ مابعد نوآبادیات کے تناظر میں پاکستانی سیاستدانوں، سول و فوجی انتظامیہ سے کام لینے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا اس کے لیے اہم عہدوں پر تعینات پاکستانیوں کو وظیفے دے کر امریکا تربیت کے لیے بھجوایا گیا۔ آج بھی عالمی بینک کے ادارہ برائے اقتصادی ترقی کی طرف سے فورڈ فاؤنڈیشن اور راکیفیلر فاؤنڈیشن کی مالی امداد سے ہر سال واشنگٹن میں ٹریننگ پروگرام منعقد ہوتا ہے جہاں پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے ممبران اور سینئر ترین بیوروکریٹس کی شرکت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور یہیں سے انھیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ علم اقتصادیات میں جدید سامراجی مقاصد کے تحت تحقیق کرانے کی غرض سے امریکی سرمایہ دارانہ خیراتی ادارے فورڈ فاؤنڈیشن کی مالی مدد سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس قائم کیا گیا اس ادارے کے پہلے ڈائیریکٹر ایمائل ڈیسپرے تعینات ہوئے، ادارے میں غیر ملکی مشیروں کے ساتھ پاکستانی عملہ کام کرتا تھا، دوسری جانب مابعد نوآبادیاتی تقاضوں کے پیش نظر خانگی، تجارتی اور صنعتی انتظامیت کے روایتی طریقوں کے مقابلے پر امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے سکول آف بزنس انڈمنسٹریشن کی مدد سے کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف پبلک اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن قائم کیا گیا اور اس ادارے میں امریکی مشیروں کو تعینات کیا گیا۔ جب کہ تعلیمی شعبے میں مابعد نوآبادیاتی پالیسیوں کو شامل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کا ادارہ قائم ہوا، یو ایس ایڈ کے تحت ملک کی 17 یونیورسٹیوں میں یہ ادارے قائم ہو چکے ہیں۔

مذکورہ تاریخی حقائق بتانے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مابعد نوآبادیاتی سیاسی نظام میں پاکستان کی بہ طور طفیلی ریاست پرورش کی گئی اس کے لیے برطانوی راج کے وفادار سیاسی خانوادوں، جاگیرداروں، برطانیہ کی تربیت یافتہ بیوروکریسی اور فوج کو ٹاسک سونپا گیا اور مربوط سیاسی و سماجی ڈھانچہ کو استوار کرنے کے لیے غیر ملکی یعنی امریکی مشیروں کا سہارا لیا گیا جو دراصل ملک کی سمت متعین کرنے کے لیے پالیسی ساز اداروں میں کام کرتے رہے۔

یہ پالیسی ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء ادوار میں بھی جاری رہی اور اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تسلسل کو برقرار رکھا۔ ملک کی موجودہ حکومت میں منصوبہ بندی کمیشن، بینک دولت پاکستان سمیت اہم ترین اداروں کا کنٹرول مشیروں کے پاس ہے۔ مشیروں کے ذریعے سے پالیسی سازی کا کام لینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کو نیو لبرل ازم کے ذیل میں تشکیل دینے کے لیے مزید راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں معاشی اصلاحات دراصل عالمی استعماریت اور سرمایہ داریت کے تناظر میں ہو رہی ہیں۔ مشیر دراصل جمہوری نظام میں مواخذے سے بالاتر ہوتے ہیں اور ان کے توسط سے با آسانی فیصلے کرانے میں مدد میسر رہتی ہے۔ مابعد نوآبادیاتی عہد میں مشیروں کو بھی حکمران طبقات میں اہم جزو کے طور پر رائج کیا گیا ہے جس کی پُشت پر غیر مرئی سیاسی طاقت کا عمل دخل ہوتا ہے جو عوام کی نظروں سے اُوجھل رکھی جاتی ہے۔

پاکستان کے باشعور نوجوان اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء اور اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درس گاہوں میں ایسے مباحثوں کا انعقاد کریں جس سے رائج سیاسی نظام کو سمجھنے میں مدد ملے اور متبادل پر مکالمہ کیا جاسکے۔ شعور کی یہ جدوجہد تجارتی مفادات کے تابع کام کرنے والے صحافتی اداروں کی فراہم کردہ منتخب و مخصوص معلومات سے جدا کر کے ہی تیز تر کی جاسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •