ڈاکڑخالد سہیل میر ے آیئنے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنا ب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

آپ کا شاہداختر کے ساتھ مکالمہ ایک خط کی صورت میں ہم سب پر پڑھا تو بہت اچھا لگا اور اسی مکالمے سے مجھے بھی تحر یک ملی کہ میں بھی آپ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کروں ڈاکڑصاحب میں ایک ایسے معاشرے کا نمائیندہ ہوں جہاں پر زندگی سسکتی اور بلکتی ہے یہاں پر ڈگریوں کی بہتات ہے مگر شعور کی بہت زیادہ کمی ہے یہ طے شدہ روایات کا معاشرہ ہے اور ہر نئی سوچ پرکفر کافتوی لگا کر اس کاگلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں پر زندگی کی سچائیوں کو مختلف خانوں میں بند کر کے دیکھا جا تا ہے اور آزاد سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

میری کہانی بھی بڑے مزے کی ہے جب میں نے روایات سے بغاوت کی اور آزادانہ طریقے سے سوچنا شروع کیا تو مجھے میرے معاشرے نے سپورٹ نہیں کیا اور میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو سن کر مجھے استغفار کی تسبیح پڑھتے رہنے کی تبلیغ کی۔ اپنے سوالوں کی کھوج کرنے کے دوران مجھے ہم سب پر میرا مسیحا مل گیا۔ بھلا ہو اس سائبر کی دنیا کا کہ جس کی بدولت میرا ذہنی رشتہ ایک ایسے درویش کے سا تھ بن گیا جو سا ت سمندر پا ر کینڈا میں آبا د تھا۔

میں نے موقع سے فائد ہ ا ٹھاتے ہوئے فرینڈ رکیویسٹ بھیج دی اور کچھ ہی لمحوں بعد اس درویش نے مجھے بطور دوست قبول کر لیا۔ میر ی خوشی کی انتہا نہ تھی کیونکہ میرا تعلق ایک ایسے انسان کے ساتھ قائم ہو چکا تھا جو انسانی رشتوں کی دل سے قدر کرتا ہے اوران رشتوں کو رنگ، نسل اور ذات سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ میرے اس مسیحا کا نا م ڈا کڑ خالد سہیل جنھیں میں پیار سے (مائی سویٹ میوس) کہتا ہوں۔ ڈاکڑ صاحب آپ کے ساتھ یہ دوستی مجھے بہت مہنگی پڑی۔

چونکہ آپ بیسیوں کتابوں کے خالق ہیں اور پاکستان میں آپ کی چند ایک کتابیں دستیاب ہیں۔ میں نے پوری تگ و دو کر کے آ پ کی کچھ کتابیں حاصل کر لیں اور ان کو دن رات ایک کر کے پڑھ ڈالا۔ ان کو پڑھنے کے دوران ہی میرا آپ سے دوستی کار شتہ آہستہ آہستہ پروان چڑ ہنے لگا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ کب یہ ر شتہ انسیت، محبت اور اپنائیت میں تبدیل ہو گیا۔ آج مجھے اس رشتے پر بہت فخر ہے۔ میں اس بات کو بڑے ا چھے سے جانتا ہوں کہ آپ کو اپنی تعریف کرنا اچھا نہیں لگتا مگر میں حقائق سے روگر دانی نہیں کر سکتا۔

اس لیے میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے آپ کی شخصیت اور آپ کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کا یہ عمل مسلسل جاری رہے گا۔ آپ آئیڈیا ز کی جنت میں آبا د ہیں اور اسی جنت میں سے ہمیں ہم سب کے پلیٹ فارم کے ذریعے سے آگہی کی تازہ خوشبوئیں نصیب ہوتی رہتی ہیں۔ ڈئیر ڈاکڑ صاحب میرے معاشرے کے لوگوں کا خیال ہے کہ آ پ بزدل تھے اور اسی وجہ سے ا ٓ پ نے اس روایتی معاشرے سے منہ موڑلیا اور ایک ایسے معاشرے میں آباد ہو گئے جہاں آپ کو اپنے آدرشوں، خواہشوں، آرزؤں اور آزادی اظہار کی صورت میں مختلف نعمتیں حاصل ہیں۔

مگر میر ی نظر میں ا ٓ پ صاحب بصیر ت تھے اور آ پ نے ہم جیسے معاشروں کے لیے مسیحائی کا کام کرنا تھا ہم جیسے گرے پڑے سماجوں کے لیے کچھ آدرش تشکیل دینا تھے۔ اسی مشن کو پورا کرنے کے لیے بڑے بوجھل دل کے ساتھ ا یک دن آپ نے اپنی جنم بھومی کو گڈ بائے کہا اور ہجرتوں کے دکھ برداشت کیے اور آخر ایک ایسے آزاد سماج میں آبا د ہو گئے جہاں پر ا ٓ پ کے خیالا ت پر کو ئی قدغن نہ تھی اور ا سی آ ز اد خیالی سے فائدہ ا ٹھاتے ہوئے آپ اب تک بیسیوں محبت نا مے اپنی کتابوں کی صورت میں ا نسا نیت کے نا م کر چکے ہیں۔

آ پ کے یہ محبت نا مے ہم جیسے معاشروں کے لیے مسیحائی سے کم نہیں ہیں۔ جب سے میں نے ہم سب کے پلیٹ فارم پر آپ کی کتابوں کا تعارف کروانا شروع کیا ہے۔ تو میرے معاشرے کے مجھ جیسے روایات کے باغی دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور وہ مسلسل رابطے میں رہ کر صرف ایک ہی سوال مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں (ڈا کڑ خالد سہیل کی کتابیں ) کہاں سے مل سکتی ہیں۔ اس حوالہ سے جو لوگ میرے قرب و جوار سے تعلق رکھتے ہیں ان کی میں مدد کر دیتا ہوں مگر جو لوگ دوسرے علاقوں میں ر ہتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔

میں تو صرف ا پنے معاشرے کے دوستوں کی آواز ایک اپیل کی صورت میں ہم سب کے پلیٹ فارم کے ذریعے سے آپ کو پہنچا سکتا ہوں کہ برائے مہربانی کوئی ایسا بندوست کر دیجیے کہ آپ کی سا ری کتا بیں ہما رے اس سماج میں دستیاب ہو سکیں آپ کی کتابیں شعور کا نقارہ ہیں۔ آپ کے لکھنے کا ا نداز اتنا سہل اور آسان ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے درمیان میں کسی واسطے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہمارے معاشرے میں کچھ مخصوص سوالات ہی پوچھے جا سکتے ہیں اوران کا بھی جواب صرف ایک ہی مخصوص اینگل آف تھاٹ سے دیا جاتا ہے۔

آپ کی کتابیں ان سارے سوالا ت کا جواب بڑی آسا نی سے فراہم کر دیتی ہیں۔ ڈاکڑ صاحب آپ کو جاننے اور پڑھنے سے پہلے ہم صرف ایک ہی سچ کو اول و آخر تسیلم کیے ہوے تھے مگر آپ سے آشنائی کے بعد پتہ چلا کہ دنیا میں بے شما ر سچ پائے جاتے ہیں جتنی کہ دیکھنے والی آنکھیں۔ آپ سے سیکھا کہ بطور انسا ن دوست ہمیں دنیا کہ تما م آدرشوں کا احترام کرنا چاہیے۔ جب میں دوستوں اور اپنے طلباء و طالبات کے درمیا ن آپ کے محبت نامے شئیر کرتا ہوں تو وہ حیرانگی سے صرف ایک ہی سوال پو چھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے خیالات میں اتنا توازن کیسے آیا ہو گا۔

ہم اپنے طورپر اس پیدا ہونے والے سوال پر غور کرتے ہیں اور کچھ تبادلہ خیالا ت بھی ہو جاتا ہے۔ آپ کی کتابوں کی صورت میں میر ے طلباء کے اندر آپ کے سا تھ قلبی تعلق کی شمع ٹمٹمانے لگتی ہے اور وہ آپ کے ساتھ دو بدوملاقات کی تمنا کرنے لگتے ہیں۔ آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ڈاکڑ صاحب مجھ کو میری اپنی ذات سے ملانے کا شکریہ اور اسی طرح اپنے محبت نا مے انسانیت کے نام کرتے رہیے مجھے آپ کے سا تھ اس تعلق اور وابستگی پر فخر ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •