سندھ کی شاہکار ثقافت اجرک اور ٹوپی۔


زندہ و جاوید قومیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو کبھی بھی بھول نہیں جاتی ہیں۔ جو قومیں اپنی ثقافت، تہذیب کو بھلا دیتی ہیں وہ تاریخ سے ہی مٹ جاتی ہیں۔ پاکستان میں چار صوبے ہیں، سندھ، پنجاب، کے پی اور بلوچستان کے ساتھ گلگت بلتستان، ان چاروں پانچوں کو ملا کر پاکستان کی تہذیب اور ثقافت بن جاتی ہے۔ آج بات کرتے ہیں سندھ کے ثقافت ڈے کے موقع پر سندھی اجرک ٹوپی کی جو کہ سندھ سمیت دنیا بھر میں منایا گیا ہے۔

سندھ صدیوں سے شاہکار ثقافت، تہذیب اور تاریخ رکھتی ہے، وادی مہران کی مہمان نوازی ملک سمت دنیا بھر میں مشہور ہے، یہی وجہ ہے جو بھی سندھ میں آیا وہ اسی دھرتی کا دیوانہ بن کر رہ گیا۔ ہزاروں سالوں سے سندھ دھرتی امن، محبت، پیار پریم کی دھرتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے سندھ کو صوفیاء کرام، بزرگوں، ولیوں اور اللہ والوں کی دھرتی کہا جا تا ہے۔ جبکہ باب الاسلام کا درجہ بھی برصغیر میں سندھ کو اعزاز حاصل ہے۔ سندھ کے اصل باسیوں کا مزاج صوفیانہ، نرم و نازک، اور ملنے کے وقت احتراما جھک کر ملنا، ہاتھ ملانے سے پہلے گلے ملنا، حال احوالِ اور طبیعت کے ساتھ گھر بال بچوں کی خیریت معلوم کرنے کے ساتھ کھانہ کھلانا شامل ہے۔

سادگی پسند اور کچھری کے مور بھی کہا جاتا ہے۔ پہلی ڈسمبر کو سندھ کی عظیم شاہکار ثقافت اجرک ٹوپی کا دن منایا گیا، سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں، گاؤں میں تقریبات منعقد کی گئی۔ پہلے دسمبر سے پہلے ہی ہر سال کی طرح اس سال بھی نومر کے آخری ہفتے میں سرگرمیاں شروع کردی جاتی ہیں۔  تعلیمی اداروں میں کلچرل پروگرام، سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ جہاں اسکولوں کے بچے اجرک ٹوپی پہن کر شریک ہوتے ہیں، طلبہ ٹیبلوز، خاکے پیش کرکے تقاریر کرتے ہیں اور روشنی ڈالتے ہیں۔

اجرک سندھ کی پانچ ہزار سال پرانی تاریخ، تہذیب ثقافت ہے، جس کے نشانات موہن جو دوڑو سے برآمد ہوئے تھے۔ اجرک سندھی چادر میں مختلف قسم کے رنگ ہوتے ہیں۔ یہ رنگ لال، ہرا، نیلا، کالا، سفید اور دیگر رنگ محبت، امن، پیار، پریم اور رواداری، بھائی چارے کے رنگ ہیں۔ اسی وجہ سے سندھی چادر اجرک کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مولانا محمد قاسمی صاحب سابق سندھ یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم صہ کو سندھ سے آئے ہوئے تاجروں نے ایک چادر گفٹ کی جو اجرک کی طرح تھی، اپ صہ نے اس اجرک کو پسند فرمایا، آپ صہ نے ایک جملہ سندھی زبان کا بھی بولا تھا کہ ادا اورے آ، مطلب ادا ایدھر آجا، ۔

یہی باتیں مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی بھی بیان کر کے ہیں، مولانا قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے ایک روایت پڑھی ہے کہ آپ صہ نے سندھ کی طرف چہرہ اطہر فرما کر کہنے لگے کہ مجھے سندھ کی طرف سے ٹھنڈی ہیر، ہوا لگ رہی ہے۔ جس کا ذکر پہلے تفصیل کے ساتھ سندھی لکھاری یاسر قاضی تفصیلات کے ساتھ کر چکے ہیں اور انہوں نے ان کتابوں کے حوالے بھی دیے تھے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یزید کی فوج کو کہا تھا کہ مجھے چھوڑو میں سندھ چلا جاتا ہوں، یہ روایات مختلف تاریخ کے کتابوں میں درج ہیں۔

مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صہ کے دور میں دو یا دو سے زیادہ صحابہ کرام اسلام کی تبلیغ کرنے سندھ پہنچے تھے۔ یے بہت لمبا مضمون ہوجائے گا بات مختصر کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اجرک کے ساتھ سندھی ٹوپی بھی منفرد مقام اور حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا محمد ہاشم ٹھٹوی سندھ کے بہت بڑے بزرگ عالم ہوکر گزرے ہیں، انہوں نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ٹوپی اسلامی ٹوپی ہے۔ یہ واحد ٹوپی ہے جس میں مسجد کا محراب بنا ہوا ہے۔

جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو آپ کو سجدہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ آپ کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ ٹوپی بھی تب ہی بنائی گئی تھی تاکہ پہننے کے ساتھ نماز میں بھی کام آجائے۔ سندھ کے یہ دونوں تحائف سندھی اجرک اور ٹوپی نہ صرف سندھ میں مشہور ہیں۔ بلکہ ملک کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بھارت۔ بنگلہ دیش، افغانستان، چائنہ، ایران، سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک میں بہت مشہور ہے اور لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔

سندھ کے ایک شخص نے 50 ممالک کے دورے کرکے وہاں اجرک اور ٹوپیاں تقسیم کرکے ہو جمالو سندھی گیت گایا ہے اور وہاں کے رہائشی لوگوں کو اس گیت میں شامل کیا ہے۔ جس وقت کلچر ڈے سکھر، لاڑکانہ، نوابشاھھ، کراچی سے کشمور، دادو سے عمر کوٹ تک منایا جا رہا تھا وہاں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ میں رہائشی پذیر سندھیوں نے اسے جوش و جذبہ کے ساتھ منایا بلکہ ملک کے علاوہ دنیا بھر میں تقریبات منعقد ہوئی ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، ایران، امریکا، چائنہ، برطانیہ، کینیڈا، ملائشیا، دبئی سمیت دیگر ممالک میں سندھیوں نے یہ دن بھرپور نمونے سے منایا، پہلی مرتبہ کراچی میں قائم امریکی کونسل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔

جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹویٹ کرکے سندھیوں کو ثقافت ڈے مبارک کہی گئی ہے۔ جے یو آئی کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے بھی مدارس میں سندھ کی سلامتی امن رواداری اور ملک کی حفاظت کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ہیں۔ جبکہ سیاسی، سماجی، مذہبی، قومپرست، تاجروں شہریوں، سول سوسائٹی اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس دن کو سندھ کے قومی کاج عید کے دن خوشیوں کے تہوار کے طور پر منایا گیا ہے۔

اس دن کی شروعات آج سے ایک دہائی قبل دس سال پہلے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری جب باہر ممالک کے دورے پر گئے تو سر پر سندھی ٹوپی پہن کر گئے۔ اس پر ایک اردو ٹی وی کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ آصف علی زرداری کیسے صدر ہیں وہ جب باہر دورے پر جاتے ہیں تو سندھی ٹوپی نہیں اتارتے۔ جس پر سندھ میں اس بات پر پی پی سمیت ان کے پارٹی کے مخالفین نے بھی اس پر شدید مذمت اور غصہ کا اظہار کیا۔

اور سندھی سینئر صحافی علی قاضی کی جانب سے اسے باقاعدہ طور پر سندھ کی ثقافت کا دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور آج تک دس سال گزرنے کے باوجود بھی ہزاروں لاکھوں لوگ اس دن کو سندھ کا دن تہذیب و ثقافت کا دن منا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ کہ سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر ایک بھی تقریب پروگرام، سیمینار یا کوئی میلا منعقد نہیں کیا جا تا۔ ہونا تو اس طرح چاہیے کہ سرکاری سطح پر اس دن کو منانے کے لئے پروگرام تشکیل دیے جائیں۔

اور سندھ کی اس شاہکارثقافت اجرک ٹوپی کو اسکولوں میں یونیفارم میں تبدیل کردیا جائے۔ دعا ہے کہ سندھ کی یہ عظیم شاہکار ثقافت تا قیامت قائم و دائم رہے آمین۔ ہمیں اپنی سندھی ثقافت تہذیب کے ساتھ پاکستان میں رہنے والے دیگر قوموں، سرائیکی، پنجابی، پشتون، براہوی، کشمیری، گلگتی، ہزارہ، بلوچی ثقافت اور تہذیب سے پیار کرنا چائیے اور احترام کرنا چاہیے جب یہ ساری تہذیبیں، ثقافتیں ملتی ہیں تب پاکستانی تہذیب اور ثقافت بنتی ہے۔ ہماری تہذیب ثقافت بھی پاکستان کا حصہ ہے۔

Facebook Comments HS