طلبہ یونینز کی بحالی کا۔ ”کٹا“ نہ ہی کھولیں تو بہتر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمیع اللہ (نام فرضی، کہانی اصلی) نے اپنی لگنے والی پھینٹی کی کہانی خود ہی سنائی تھی۔ سمیع اللہ ایک شہر میں ایک طلبہ تنظیم کا ایک سرگرم عہدیدار تھا اور اس تنظیم کی اس شہر میں کافی دہشت تھی اور اپنی اس دہشت کو برقرار رکھنے کے لیے بوقتِ ضرورت وہ چھوٹا موٹا ”کھڑاک“ بھی کر دیتے تھے۔ اس کھڑاک کی نوعیت بعد میں بتائی جائے گی۔ گیدڑ کی شامت آئے تو وہ گاؤں کی طرف بھاگتا ہے، اس عہدیدار کی کم بختی جو آئی تو وہ ایک دن کسی دوسرے شہر میں ایک یونیورسٹی کے بینک کے باہر لائن میں کھڑا اُس شہر میں دہشت رکھنے والی ایک اور طلبہ تنظیم کے ایک عہدیدار کی نظر میں آگیا۔

یہ تنظیم سمیع اللہ کی تنظیم کی مخالف تنظیم تھی اور وہ بھی اپنی بادشاہت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے شہر میں ویسے ہی کھڑاک کرتی رہتی تھی جیسے سمیع اللہ کی تنظیم اپنے شہر میں کرتی تھی۔ سمیع اللہ نے یونیورسٹی سے اپنی کوئی سند وغیرہ لینی تھی اور وہ اس کی فیس جمع کروانے اس دن بینک کے باہر طلبہ کی لائن میں کھڑا ”فوکس“ ہوگیا۔ اپنے ایک مخالف کو اور وہ بھی ان کی ”سلطنت“ میں کھڑا دیکھ کر ان کا چوکنا ہونا یقینی تھا۔

چنانچہ وہ اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے اپنے طریقے سے سمیع اللہ کو اس لائن سے الگ کر کے تھوڑی دور نسبتاً محفوظ اورویران علاقے میں لے گیا۔ سب کچھ چونکہ اچانک ہوا تھا اس لیے وہ جلدی میں اپنے آپ کو ضروری ”سازوسامان“ سے لیس نہیں کر سکے تھے۔ ”خوش قسمتی“ سے وہاں درختوں کا ایک جھنڈ بھی تھا، چنانچہ فوری ایک درخت کی شاخ سے ایک چھڑی تیار کی گئی اور یوں اس سازوسامان کا بندوبست بھی ہو گیا جس کا عجلت کی وجہ سے انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔

اس گیلی چھڑی سے پھر اس کے ساتھ چھوٹا سا ”کھڑاک“ کیا گیا۔ اصل میں یہ لوگ یہ سمجھے تھے کہ یہ اس یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے بینک میں فیس جمع کروانے کے لیے لائن میں کھڑا ہوا تھا۔ گیلی لکڑی کی کرامات دکھانے کے بعد اس سے تحریری ضمانت لی گئی کہ وہ اس ہونیورسٹی میں کبھی بھی داخلہ نہیں لے گا۔ مزید تسلی کے لیے اس کے پاس موجود بینک چالان بھی دیکھا گیا۔ یہ چالان پہلے بھی دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے لائن میں نہیں کھڑا تھا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس طرح دہشت قائم ہونے سے رہ جاتی، مفت میں ہاتھ آئی مرغی کو آسانی سے تھوڑا جانے دیا جاتا ہے۔

اس کے قریبی اس کارروائی پر بہت پریشان اور افسردہ تھے لیکن اس کے بقول یہ ایک معمول کی کارروائی تھی کہ ہم بھی اپنے شہر میں اس طرح قابو آئی ان کی مرغی کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں کہ وہاں ہماری چودھراہٹ کا مسئلہ ہوتا ہے اور وقت آنے پر ہم بھی گیلی یا خشک چھڑی کے ساتھ حساب برابر کر دیں گے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں طلبہ یونینز کے دو ر میں بہت دفعہ بات گیلی اور خشک چھڑیوں سے بہت آگے بڑھ کر چاقوؤں، چھریوں اور کلاشنکوفوں تک چلی جاتی تھی۔

قتل و غارت کے بہت سے واقعات میں بہت سے نوجوانوں کا خون بھی اسی دور میں بہہ چکا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ہم خود بھی طلبہ یونینز کو بھگت چکے ہیں۔ کبھی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا لیکن آنکھوں سے بہت کچھ دیکھتے اور کانوں سے بہت کچھ سنتے رہے ہیں۔ سائنس کالج ملتان میں دورانِ تدریس بہت دفعہ ایسا ہوا کہ ہمسایہ کالج سے یونین والے آتے اور پروفیسرز کی موجودگی میں زبردستی چھٹی کروا کے ہمیں کلاسز سے نکال کر لے جاتے کہ جلوس نکالنا ہے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ جلوس کس مقصد کے لیے نکالا گیا ہے لیکن ہم شاملِ جلوس ہوتے تھے کہ ہمیں اس کا حکم ملا ہوا تھا۔ یونیورسٹی اور کالجز کے پروفیسرز رزلٹ اور مارکنگ کے مراحل کے دوران طلبہ یونینز کے کس طرح کے دباؤ کا سامنا کرتے تھے؟ اس کا جواب اُس وقت کے پروفیسر صاحبان سے پوچھا جا سکتا ہے۔

سمیع اللہ کے ساتھ جو ہوا تھا وہ صرف ایک شہر، کالج یا یونیورسٹی کی کہانی نہیں تھی، ہر طلبہ تنظیم اپنے زور والے علاقوں میں یہی کچھ کرتی تھی۔ کسی ایک تنظیم کو اس کا قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز والے فارمولے پر خوب خوب عمل ہوتا تھا۔

اب ایک بار پھر طلبہ یونینز کی بحالی کی باتیں زوروشور سے شروع ہیں۔ اس کی بحالی کی وکالت کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس سے جہاں تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے وہاں معاشرے میں قتل و غارت اور انارکی کو فروغ ملتا ہے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی انتہا پسندی، عدم برداشت اور ایک دوسرے کو مرنے مارنے کی خواہشات کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارے خیال میں یونینز کی بحالی سے یہ معاملات پہلے سے زیادہ بگڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹیز میں جہاں پہلے طلبہ و طالبات گریجویشن کے بعد آتے تھے، اور کسی حد تک ان میں سنجیدگی آ چکی ہوتی تھی، زندگی کی کچھ اونچ نیچ کا ان کو علم ہوتا تھا اور ان کو آلہ کار بنانا بہت آسان نہیں ہوتا تھا۔

اب یونیورسٹیز میں بی۔ ایس پروگرامز شروع ہو چکے ہیں جہاں محض انٹر میڈیٹ پاس طلبہ و طالبات جن کی عمریں بمشکل اٹھارہ انیس سال ہوتیں ہیں داخل ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ سنجیدگی موجود نہیں ہے جو ماضی میں یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات میں ہوتی تھی۔ ان کی موجودگی میں طلبہ یونینز کی بحالی کسی طور بھی کوئی اچھا شگون نہیں۔ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی حیرت ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کی بحالی کے لیے کام شروع کر چکے ہیں۔

وزیرِاعظم بھی اس کی بحالی کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کی خوش فہمی ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا وہ اب نہیں ہو گا۔ سنا ہے حکومت اس کے لیے کچھ قواعد و ضوابط طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 16 دسمبر کو نیشنل کنسلٹینٹی فورم میں تمام سیاسی قیادت، میڈیا، وکلأ اور طلبہ تنظیموں کو بلایا گیا ہے تا کہ مشترکہ قواعد و ضوابط پر بات ہو سکے۔ گویا حکومت طلبہ یونینز کی بحالی پر تلی بیٹھی ہے۔ سنجیدہ حلقے اس بحالی پر بہت سے تحفظات رکھتے ہیں۔

معروف صحافی جناب ضیأ شاہد نے کل ایک ٹی۔ شو میں بہت سے سنجیدہ سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے سوالات یہ ہیں : ماضی میں پابندی لڑائی جھگڑوں سے لگی، بحالی پر امن کی ضمانت کون دے گا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ طلبہ یونینز کے دور میں ایک معروف یونیورسٹی کے وائس چانسلر سات، آٹھ ماہ تک یونیورسٹی میں داخل ہی نہیں ہو سکے تھے کہ طلبہ نے طاقت کی بنیاد پر متوازی حکومت قائم کر رکھی تھی؟ عمران خان کے ساتھ ایک یونیورسٹی میں بد تہذیبی کرنے والے کون تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اس دور میں تعلیمی ادارواں میں جو کچھ ہوتا رہا جس کی وجہ سے لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے کہ یا اللہ یہ کس عذاب میں مبتلا ہیں، پتہ نہیں بچہ یونیورسٹی گیا شام کو واپس آئے گا کہ نہیں۔ ان کے بقول بحالی کے اعلان کے بعد والدین ایک بار پھر پریشان ہو گئے ہیں کہ اتنی مشکلوں سے تو بچوں کو یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ ملتا ہے اور بحالی کے بعد کیا گارنٹی ہے کہ ماضی کی طرح تعلیمی ماحول خراب نہیں ہو گا۔

طلبہ یونینز کی بحالی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ طلبہ یونینز میں نوجوانوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ماضی کا ریکارڈ تو یہی کہتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ اس سے مستقبل کی سیاسی قیادت بھی سامنے آئے گی۔ اس دلیل کا پرچار کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ محض دلیل برائے دلیل ہے، مستقبل کی سیاسی قیادت تو موجودہ سیاسی قیادتوں کے گھروں میں ان کی آل اولاد کی صورت میں پھل پھول رہی ہے۔

اگر جاوید ہاشمی یا جہانگیر بدر جیسے ایک دو دانے طلبہ ہونینز کے فورم سے سیاسی میدان میں آ گئے ہیں تو اس کو آئندہ کے لئے کوئی موئثر دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ ان حالات میں ہمارے خیال میں حکومت طلبہ یونینز کی بحالی کا ”کٹا“ نہ ہی کھولے تو بہتر ہے۔ اس کی بجائے معیارِ تعلیم کی بہتری اور کالجز، یونیورسٹیز کی بھاری بھرکم فیسوں میں کمی کے بارے میں سوچے۔ طلبہ یونینز کی بحالی سے پرائیویٹ سیکٹرز کے کالجز اور یونیورسٹیز کی مزید چاندی ہو جائے گی کیونکہ یہ یونینز صرف سرکاری کالجز اور یونیورسٹیز میں بحال ہوں گی اور دودھ کے جلے سرکاری یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلوں کی بجائے پرائیویٹ اداروں میں داخلوں کو ترجیح دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •