نام تو سنگِ مر مر رکھا ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں تُو نے مجھے کیوں جنما؟ کاہے کود ردِ زہ سہا؟ پہلے ہی مار دیا ہوتا میرے اندر نمو ہی پھل نہ پاتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ مارنا ہی تھا تو جنما کیوں؟ ماں تجھے درد نہ ہوا؟ تیری سانسیں نہ تھمیں؟ ماں! تیرا دل دھڑکنا بند نہ ہوا؟ اے اللہ! تُو نے اپنے بندوں سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ستر ماؤں کی محبت کی مثال دی ہے۔ لیکن کیا تُو نے مجھے صرف اس لیے پیدا کیا کہ میں نو عمری میں ہی پتھر کھاتی سنگ سار ہوتی ہوئی مر جاؤں؟

میری کمزور ہڈیوں سے خون رِستا رہا اور دل پاش پاش ہوتا رہا۔ اے میرے ربّ! مجھے اپنے ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آئی؟ میں اس ظلم و بربریت کی دنیا میں کیا لینے کو آئی؟ اے اللہ! کیا یہ دنیا صرف ظلم بپا کرنے کو بنائی گئی؟ کیا اس کا رنگ صرف زرد لرزتے پتوں یا لال رِستے زخموں سے مزین ہے؟ کیا اس دن بہ دن بگڑتی دنیا میں ان کہی باتیں دلوں میں دبے دبے ہی دفن ہوجاتی رہیں گی؟ کیا دنیا کے خدا یونہی اپنے زہر میں بُجھے تیر برساتے رہیں گے؟

لگتا ہے آج کا سارا کالم صرف سوال کے نیزوں پہ چڑھا رہے گا اور ان سے خون رستے روح کے قطرے انگارے بن کر جسم و جاں پہ گرتے رہیں گے۔ اے میرے ربّ! میں اور میرا دل تو نازک ننھی سی چڑیا جیسا بس خوف سے گُندھا لرزتا ہی رہا۔ کاش اے کاش! ماں تُو مجھے پیدا نہ کرتی اور میں کرچی کرچی ہو کر یوں نہ مرتی۔ آج مجھے زہرہ نگاہ آپا کی وہ نظم یاد آرہی ہے جو انہوں نے شاید اسی موقع کے لیے لکھی تھی۔ اس نظم میں اس لڑکی کا ذکر ہے جو پیدا نہ ہوسکی اور ماں کی کوکھ میں ہی مر گئی۔ قارئین کی نذر کرتی ہوں۔

میں بچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں

تیرے کچے خون کی مٹی

میری پور پور میں رچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں

گر میرے نقش اُبھر آتے

وہ تب بھی لہو سے بھر جاتے

میرا قد جو تھوڑا سا بڑھتا

میرے باپ کا قد چھوٹا پڑتا

میری چُنی سر سے ڈھلک جاتی

میرے بھائی کی پگڑی گر جاتی

میری آنکھیں روشن ہوجاتیں

تیزاب کا سُرمہ لگ جاتا

سٹے وٹے میں بٹ جاتی

ہر خواب اُدھورا رہ جاتا

تیری لوری سُننے سے پہلے

میں آپ نیند میں سو گئی ماں

انجان نگر سے آئی تھی

انجان نگر میں کھو گئی ماں

میں بچ گئی ماں

میں بچ گئی ماں

شاید یہ نظم اسی سیاق و سباق کے حوالے سے تخلیق کی گئی ہوگی۔ اے میرے ربّ! کاش میری ماں میرا بھی اسقاطِ حمل ہی کروا دیتی تو یوں دنیا کے سامنے رُسوا تو نہ ہوتی۔ ماں جب مجھ پر پتھر برستے رہے تجھے میرے چہرے کی زرد ہوتی رنگت سے تکلیف کیوں نہ ہوئی؟ ماں! ہم تو مسلمان تھے۔ نبی ؐ کی اُمت سے ہیں۔ آلِ نبی ؐ کے واسطے سے دعائیں مانگتے ہیں۔ بابا! تم کو نہیں پتہ کہ شر انسان کے نفس کی خوراک ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ بنی اسرائیل میں ربّ تعالیٰ فرماتا ے : ”انسان تو بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔

اپنے لیے شر ایسے مانگتا ہے جیسے خیر ”: افسوس ہوا بابا! کہ تم نے اپنے لیے نفس کی خوراک کو چُنا اور خیر جو انسان کی روح کی خوراک ہے اسے نہیں چُنا۔ ہائے بابا ہائے! کاش تم مجھے بچا لیتے۔ میری ڈھال بن جاتے۔ باغبان کی طرح میری ذات کے شجر کی آبیاری کرتے۔ بابا! تم نے سوچا بھی نہیں کہ میں ننھی ناتواں سی جان کیا بدکاری کرسکتی ہوں؟ بابا! تمہارا سینہ کیوں نہ پھٹا؟ میں تو اپنے انجام کو پہنچی لیکن کیا تم کو اب بھی نیند آتی ہے؟

کیا تم اب بھی سانس لیتے ہو؟ کیا تمہارے دل نے اس شیطانی عمل کو قبول کر لیا؟ ابھی تو میری خواہشوں نے انگڑائی بھی نہ لی تھی۔ ابھی تو میرے قدموں نے جوانی کی دہلیز کو چُھوا بھی نہیں تھا۔ ابھی تو عشق پیچاں کی شاداب کونپلیں کھلی بھی نہ تھیں۔ ابھی تو میں نے نارنجی پھولوں کے گجرے دیکھے بھی نہ تھے۔ ابھی تو دل کے کسی کونے میں کوئی ڈھلوان آئی بھی نہ تھی۔ ابھی تو گاؤں کی کچی منڈیروں پر میں نے کوئی گیت بھی نہیں گنگنایا تھا۔

ابھی تو میری زندگی میں رقص کرنے کی گھڑی بھی نہ آئی تھی۔ ابھی تو گُل سما کی کونپل مسکرائی بھی نہ تھی کہ عورت ہونے کی ابدی سزا پا لی۔ ہائے میرے ربّ! کیا یہ تقدیر کا لکھا تھا؟ نہیں ہرگز نہیں! تُو تو سراپا محبت ہے میرے اللہ! تُو کیسے کسی کے لیے ظلم لکھ سکتا ہے؟ ماں! تیرے دل میں بھی زنگ کے دھبے پڑ گئے یعنی تیرا دل بھی تجلی سے عاری ہوگیا۔ اب تیرے دل میں کبھی سکون نہ آئے گا۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ نفس کے بہکاوے میں آکر انسانی گناہوں کی وجہ سے ربّ کی رحمتیں رُوٹھ جاتی ہیں اور مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔

بابا! کیا تُو نے نہیں سوچا کہ فلک بھی اپنے ربّ کی اطاعت کرتا ہے۔ اللہ کے حکم سے اس میں سورج اور چاند چمکتے ہیں۔ بابا! میں تو رنجور چُور چُور ہو کر چلی گئی اس ظالم دنیا سے لیکن تم نے دنیا کے خداؤں کے ساتھ مل میرے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا یہ ناحق قتل تمہارے گلے کا طوق نہیں بن جائے گا؟ جرگے کے سرداروں کے سر پہ تو خدائی پگڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ان کی آوازوں میں شیطان کی للکار تھی۔ جس روح میں بزرگی نہ ہو وہ مرنے کے بعد جہنم ہی کا ایندھن بنے گی۔

افلاس اور کُنبے کے ڈر سے غلط کار انسان در گور ہو کر ہی رہے گا۔ ماں! میں مدد کو چلاتی پُکارتی رہی لیکن کوئی بھی نہ آیا۔ بابا! تمہاری آپس کی دشمنیوں کی وجہ سے میں تو عمرِجاوداں کو پہنچی لیکن یاد رکھو! ظلم کا نتیجہ تو بلا شبہ اندھا کنوں ہی ہے۔ حرص اور طمع کی وجہ سے انسان پستیوں میں گر جاتا ہے اور اس کی دنیا ویران ہوجاتی ہے۔ بُرے کو سب ہی بُرے نظر آتے ہیں خواہ وہ اک چھوٹی معصوم لڑکی ہی کیوں نہ ہو؟

اللہ اپنی کتاب قرآنِ مجید میں بار بار فرماتا ہے کہ پہلی قوموں کے منکرین سے عبرت حاصل کرو۔ مگر انسان تو آئینے میں صرف اپنی پسند کی شبیہہ دیکھنا چاہتا ہے۔ انسان دیانت دار نہیں پوچھیں کیسے؟ وہ اس طرح کہ ربّ تعالیٰ نے اسے اپنا نائب بنا کر اس زمین پر بھیجا اور اللہ کے احکامات اس کے لیے ایک امانت ہیں۔ لیکن ہر وہ انسان جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت نہ کی وہ دیانت دار ہی ٹھہرے گا۔ میرے بابا! میرے پیارے نبی ؐ کا فرمان ہے : ”گھوڑا بھی اپنے بچے کے اوپر سے اپنا کُھر اس ڈر سے اُٹھا لیتا ہے کہ کہیں اسے نقصان نہ پہنچ جائے“۔

میں تو انسان کی بیٹی تھی۔ اپنے ربّ کی بندی۔ اللہ اور اُس کے نبیؐ نے تو اولاد کے درمیان عدل کرنے کی بات کی ہے۔ کیوں بھلا دیا تم نے یہ سبق بابا؟ سُنو میرے بابا! اب میں اوپر آسمانوں سے تمہارے اس جرم کو دیکھتی رہوں گی کہ تم نے مجھے آگے بڑھ کر بچایا نہیں۔ ماں! مرنا بھی تو زندگی کرنے کی طرح ایک ہُنر ہے لیکن تم سب لوگوں نے مجھ سے مرنے کا ہُنر جیسے میخیں ٹھونک دیں۔ اگر اب بھی حاکم وقت نے میرے دل گرفتہ قتل سے انصاف نہ کیا تو میں سمجھوں گی کہ وہ بھی ظالموں کے زمرے میں آتا ہے۔

میں چاہتی ہوں خلق خدا کے بیچ فساد اور لڑائیوں کی بجائے ہر نکتہ نیکی اور اچھائی کا ہو۔ آج یہ اللہ کی بندی مریم ارشد جو میرا نوحہ لکھ رہی ہے۔ وہ بھی رنجور ہے غمزدہ ہے، حالانکہ میرا اس سے خون کا رشتہ نہیں صرف انسانیت کا رشتہ ہے۔ اختتام اس بات پہ کرتی ہوں میرے ربّا! اب کسی اور گُل کی پنکھڑیوں کو بکھرنا نہ پڑے۔ ماں! کاش تُو نے میرا نام گُل سما نہ رکھا ہوتا! نام تو سنگِ مر مر رکھا ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •