صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروان حسین

\"aabida-ali2\"ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ مسلمان پاکستان میں بستے ہیں جن کی کل تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق 40 ملین ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے اہل تشیع مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ 90 کی دہائی میں شیعہ پروفیشنلز کو ٹارگٹ کر کے موت کے گھاٹ اتارنا ہو یا حالیہ برسوں میں جلوسوں، امام بارگاہوں اور آبادیوں میں خود کش دھماکوں میں ان کا قتل عام ہو۔ طریقہ واردات تبدیل ہوتا رہا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ریاست ان کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ گذشتہ تین برس میں تقریباً بارہ سو افراد کو اس بنیاد پر موت کی نیند سلایا گیا کیونکہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔

رواں سال میں حالیہ واقعات میں کوئٹہ میں چار ہزارہ خواتین کو بس میں فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا واقعہ، سیالکوٹ میں عاشورے کہ جلوس پہ فائرنگ، کراچی میں خواتین کی مجلس پر ہینڈ گرینڈ کا حملہ یا منگل کی شب کار پہ فائرنگ کے نتیجے میں دو شیعہ افراد کا قتل۔ تمام واقعات ریاست کی اپنے شہریوں کی جان ومال کی تحفظ کی ذمہ داری پر سوالیہ نشان ہے۔ اس پر انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ جنوری 2015 میں گود لیے گئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی مذہبی انتہاپسندی کے خلاف موثر اقدامات اور فرقہ وارانہ تشدد کرنے والوں کا سر کچلنے کا وعدہ اور دہشتگردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا اعادہ کیا گیا ۔ مگر مذکورہ بالا تمام واقعات ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے شاید مختلف واقعات میں کچھ افراد کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا کوئی بڑی بات نہیں۔ مگر ایک نظر ان غم زدہ خاندانوں پر بھی ہو جہاں بوڑھا باپ اپنے جواں سال بیٹے کی میت اٹھا رہا ہے۔ ماں بہنیں لاشوں پہ نوحہ کناں ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے کربلا آج بھی جاری ہے۔ آج بھی حسینی صرف اپنے عقیدے کی وجہ سے صعوبتوں کے سفر پر رواں دواں ہیں۔

1973 کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہونے کی آزادی دیتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ بلا خوف و خطر یہ حق استعمال کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words