ایک مولوی صاحب کا خاکہ

 جب تقسیم کے ہنگاموں سے دریا کے کنارے ہنستا بستا شاکر خان تتاری کا کوٹ اُجڑ کر، بلکہ سُکڑ کر ایک چھوٹا سا قصبہ ہی رہ گیا تو کئی لوگوں نے اس کے مضافات سے رہائش ترک کر دی۔ بستی دولت رام اس قصبے کا سب سے متاثرہ حصہ تھی۔ دادا مرحوم نے یہاں سے چند کلومیٹر مغرب کی جانب ریگستان میں آ کر سکونت اختیار کر لی جہاں کی ڈھلوان کے ساتھ بہت زرخیز زرعی زمین تھی۔ یہاں اُن

Read more