مستقبل کے نام خط اور حقیقی مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے تقریباً 50 سال قبل روس میں (جو تب یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکن USSR کا حصہ تھا) یہ چلن تھا کہ ”ٹائم کیپسول“ بنا کر مختلف مقامات پر رکھے جاتے۔ یہ ٹائم کیپسول دراصل مقفل ڈبے ہوتے کہ جن میں مستقبل کے کسی خاص سال کے اہلیان وطن کو خط لکھ کر رکھ دیے جاتے۔

ان میں کئی ٹائم کیپسولز کی مدت حال ہی میں پوری ہوئی تو انہیں کھولا گیا، ان میں سے کئی ٹائم کیپسولز کے حوالے سے وقتاً فوقتاً نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا۔

ان خطوط میں بے حد دلچسپ باتیں درج ہیں، مثلاً ایک خط میں 2018 کے عوام سے کہا گیا ہے کہ اشتراکیت کے اصولوں سے وفادار رہنا۔ ایک میں درج ہے کہ 2018 ء وہ عظیم دور ہو گا جب دنیا سے ظلم و نا انصافی ختم ہو چکی ہو گی اور ایک بھی Capitalist دنیا میں نہ ہو گا۔

60 ء کی دہائی میں روس کے لوگ جو 2018 ء اپنے دماغ میں بنائے ہوئے تھے آج کا روس اس کا بالکل متضاد ہے۔ وہ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ ساری دنیا ہی پچاس سال بعد اشتراکیت کے زیر فرمان ہو گی۔ دنیا میں صرف ایک ہی نظام ہو گا جو کہ مارکس، لینن اور اسٹالن کا دیا ہوا اشتراکیت کا نظام ہو گا۔

مگر یہ مسئلہ تب کے اشتراکیوں یا روسیوں تک مخصوص نہیں۔ انسان اپنے ا جتماعی مستقبل کا اندازہ اپنے حال سے لگاتے ہیں۔ اگر وہ غالب ہوں تو ان کو لگتا ہے کہ ان کا عروج تو مستقبل میں بھی قائم ہی رہے گا۔ جو محکوم ہوں، غلام ہوں ان کو بھی لگتا ہے کہ مستقبل میں بھی وہ غلام ہی ہوں گے۔ لوگوں کو یہی محسوس ہوتا کہ دنیا کا نظام بھی ہر اعتبار سے وہی رہے گا جو ان کے دور میں ہے۔

انسان دراصل ”حال“ کا قیدی ہے۔ وہ حال سے مستقبل کا تصور بناتا ہے۔ لوگ Back to the future جیسی فلمیں دیکھ کر ہنستے ہیں کہ جن میں 2016 ء میں اڑنے والے اسکیٹ اور کئی دیگر ایسی اشیاء دکھائی گئی ہیں جن کا آج تک وجود نہیں۔ 70 ء یا 80 ء کی دہائی میں امریکا میں ایسی فلمیں بہتات سے بنیں کہ جن میں خلائی سفر یا خلائی مخلوق دکھائی گئی۔ ان فلموں میں اگر مستقبل دکھایا جاتا تو بس انسان خلانورد ہی ہوتا۔ عام دنوں میں بھی لوگ خلائی لباس ہی پہن کر گھومتے اور دروازے ایسے دکھائے جاتے جو انسان کی آہٹ سے وا ہوتے۔

پھر 90 ء کی دہائی اور 2000 کی اصل دہائی میں ایسی فلموں نے یورش کی کہ جن میں مستقبل میں کمپیوٹر کو یا انسان کی کسی تخلیق کو بے قابو ہوتے دکھایا گیا۔ (یاد کیجئے Terminator، Jurrasic Park اور Matrix) اور اب تک تقریباً مستقبل انہی چشموں سے دیکھنے کی سعی جاری ہے۔ فلمیں تو محض ایک اشارہ ہیں۔ ادب دوسرا اشارہ ہے۔ شاعری ایک اور اشارہ ہے۔ انسان اپنے حال سے اپنے مستقبل کا اندازہ قائم کرنے سے باز نہیں آتا، علامہ اقبال نے ایک جگہ فرمایا ہے۔

گیا دور سرمایہ داری گیا

تماشا دکھا کے مداری گیا

اس شعر کو تحریر ہوئے کوئی 80 یا 90 سال تو گزر ہی گئے مگر دور سرمایہ داری موجود ہے۔ علامہ نے یہ پیش گوئی دراصل اشتراکی انقلابات کو دیکھ کر کی تھی مگر آج سرمایہ داری کے بے پناہ عروج کو دیکھ کر کوئی یہ اندازہ بھی قائم کرتا ہے کہ سرمایہ داری نظام بھی جیسا کہ ابھی ہے ویسا ہی آج سے 100 سال بعد ہو گا تو یہ پیش گوئی بھی ان روس کے ٹائم کیپسول میں خط لکھ کر رکھنے والے سادہ انسانوں کی مستقبل کی تصویر سے کچھ مختلف نہ ہو گی۔

جب ایڈولف ہٹلر کو جرمنی میں اقتدار ملا اور فون ہنڈن برگ کے انتقال کے بعد ہٹلر جرمنی کے چانسلر سے جرمنی کا ”فیورر“ بن گیا اور جرمنی کو اچانک عروج ملنے لگا تو نازیوں نے جرمنی کے اس عہد کو ”تھرڈ رائخ“ کا نام دیا۔ یعنی آریہ قوم کی تیسری عظیم سلطنت۔ پہلی عظیم سلطنت ہزار سال قائم رہی تھی، دوسری بھی ہزار سال قائم رہی تھی اور نازی یہ کہتے تھے کہ تیسری بھی ہزار سال قائم رہے گی۔ تب جو عمارتیں تعمیر کی جاتیں ان میں بھی اتنا شکوہ بھر دیا جاتا کہ واقعی دیکھنے والے کو لگتا کہ یہ عمارت اور آریہ قوم کا نیا عروج جرمنی کے زیر سایہ ہزار سال ضرور قائم رہے گا مگر یہ ہزار سال کا اقتدار ایک دہائی میں ہی ختم ہو گیا۔ نہ جانے تب کے جرمنی کے ادیب و شاعر مستقبل کی کیسی تصویر اپنے قلم سے تراشتے ہوں گے۔ شاید ویسی ہی جیسی کہ ان روسی ٹائم کیپسول کے خطوط سے سامنے آتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان مستقبل کے نام محض ایک ہی خط لکھ سکتا ہے اور وہ خط ہی واحد ایسی تحریر ہے جو مستقبل کی کسی بھی نسل کو ہنسنے اور تمسخر کرنے کے بجائے سوچنے پر مجبور کرے گی اور وہ خط یہ ہے۔

”اے اہل مستقبل، تم ہمارے حال سے واقف ہو کیونکہ ہم گزری ہوئی داستان ہیں، تمہارے بعد کے انسان بالکل اسی طرح تمہارے حال سے واقف ہوں گے، مگر ظاہر ہے کہ ہمارے اذکار سے تم کچھ نہیں سیکھو گے، کوئی سبق نہیں حاصل کرو گے، کوئی عبرت نہیں لو گے، اس لئے کہ انسان کبھی کسی دوسرے کے تجربات سے کچھ سیکھتا کب ہے؟ اسی لئے تاریخ ہر مرتبہ خود کو دہراتی رہتی ہے، اسی تاریخ کے چکر کے شکار ہم بھی تھے اور تم بھی ہو۔ اسی لئے سب کچھ بدل کر بھی کچھ نہیں بدلے گا، ہم بھی نہیں بدلیں گے، تم بھی نہیں بدلو گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •