آج رات کے بے نوا مسافر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے


موجودہ دور کا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ فطرت سے بہت دور ہو گیا ہے۔ جدید شہر کی غیر فطری، مصنوعی اور میکانکی زندگی میں انسان اپنا جیتا جاگتا وجود کھو کر محض ایک مجرد تصور بن گیا ہے۔ لیکن فطرت سے یہ دوری جدید دور کا خاصہ نہیں بلکہ اس کا آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا جب انسان نے تمدنی زندگی کی ابتدا کی تھی۔ جب اس نے درختوں اور غاروں کی رہائش چھوڑ کر اپنے لئے گھر کی بنا ڈالی، شکار پر گزارہ کرنے کے بجائے زمین میں ہل چلا کر اناج اگایا اور اسے آگ پر پکا کر کھایا، تن ڈھانپنے کے لئے لباس کا استعمال کیا تو فطرت سے دوری کا عمل شروع ہو گیا تھا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے حیاتیاتی اور تہذیبی وجود میں ایک کش مکش جاری رہتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے تہذیبی وجود کے مقابلے پر اس کا حیاتیاتی وجود بہت قدیم ہے۔ تمدن سے قبل کا دور انسان کا دور وحشت کہلاتا ہے۔ اس دور میں انسان کا فطرت سے الگ کوئی وجود نہیں تھا۔ اسی دور میں اس کی جبلتوں کا نظام متشکل ہوا۔ جب اس نے تمدن کی شاہراہ پر سفر کا آغاز کیا تو جبلتوں کے بجائے مجرد اخلاقی اصولوں کا نظام رائج ہوا۔ نسب، نسل اور دھرتی کی بنا پر وجود میں آنے والے رشتوں سے بلند تر بنی نوع انسان سے روابط کا آغاز ہوا۔ لیکن دور فطرت کی یاد انسان کو ستاتی رہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں بعض لوگ ماضی پرستی کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور فطرت کی طرف رجوع کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ رومانی ادب کا یہ امتیازی وصف ہے۔ جو شاعر اور ادیب فطرت، دھرتی اور خون سے از سر نو توسل قائم کرنے کے متمنی ہیں وہ شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ انسان کی تہذیبی ترقی کو ردکیے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ اور اگر کبھی ایسا ہو گیا تو انسان ایک بار پھر دور وحشت میں واپس چلا جائے گا۔ تاہم ناصر کی اداسی کا سبب ماضی پرستی نہیں بلکہ اس کی اداسی کارخ مستقبل کی طرف ہے۔ اس کا تو کہنا ہے :

گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک

الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا

ناصر کی اداسی کا اصل سبب یہ ہے کہ اسے اب وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جو زمین کا بوجھ اٹھانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ ان دیکھے جہانوں کی دریافت کرنے والے اب بنے بنائے راستوں کے مسافر بن کر رہ گئے ہیں۔ اسے اس بات کا دکھ نہیں کہ سورج پور اجڑ گیا کیونکہ ایسا تو کئی بار ہو چکا ہے اور شاید ہوتا بھی رہے گا۔ المیہ تو یہ ہے کہ نیا شہر بسانے کا حوصلہ رکھنے والے نظر نہیں آتے۔ اس کی اداسی اور تنہائی کا سبب یہی ہے کہ اس کے عہد کے سب فنکار دنیا کے دھندوں میں کھو کر اپنا کار منصبی بھول گئے ہیں۔

نالہء آخر شب کس کو سناؤں ناصر

نیند پیاری ہے مرے دور کے فنکاروں کو

دیوان کی آخری غزل میں ناصر کی اداسی پورے طور پر اپنا رنگ دکھاتی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کے لمحہ بہ لمحہ غروب ہوتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی شاعری کے آغاز میں ایک خواب کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا تھا۔ وہ خواب اس وقت ریزہ ریزہ ہو گیا جب ناصر کی زندگی کی شام ہو رہی تھی۔ وہ جاتے جاتے بھی ہم سے یہ کہہ رہا تھا:

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر!

وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہوگئیں

عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

(اس مضمون کا ایک ابتدائی ورشن 2 مارچ 1997 ء کو ناصر کاظمی کی پچیسویں برسی کی تقریب میں، منعقدہ الحمرا آرٹس کونسل لاہور، پڑھا گیا۔ )

مشمولہ: ہجر کی رات کا ستارہ۔ مرتبہ احمد مشتاق، باصر سلطان کاظمی۔ طبع دوم۔ سنگ میل پبلی کیشنز۔ لاہور۔ 2013 ;

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5