ہم اُداس کیوں ہیں – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل میں بہت اداس رہنے لگا ہوں، عجیب بات یہ ہے کہ اِس اداسی کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں، بس یونہی طبیعت میں ایک بیزاری اور مایوسی ہے، کبھی دل کرتا ہے سادھو بن کر باقی کی زندگی لاس ویگاس کے کسی آشرم میں گزار دوں یا پھر جوگی بن کر تھائی لینڈ کے کسی ساحل پر اپنا مسکن بنا لوں۔ اپنی اِس معصوم سی خواہش کا اظہار میں نے ایک دوست سے کیا تو اُس نے نہایت خشمگیں نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ لاس ویگاس میں کوئی آشرم نہیں اور تھائی لینڈ کے ساحلوں پر جو لوگ ملتے ہیں انہیں جوگی نہیں کچھ اور کہا جاتا ہے، اگر سادھو سنت بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے اپنے جسم سے دنیاوی کالک کھرچ کر اتار ڈالو اُس کے بعد تارک الدنیا ہونے کی بات کرنا۔

کسی نے سچ کہا ہے کہ ایسے منہ پھٹ ناداں دوست سے عقل مند دشمن بہتر۔ یہی سوچ کر میں نے فیصلہ کیا کیوں نہ کسی دشمن سے اپنی اداسی کی یہ کیفیت بیان کی جائے، ہو سکتا ہے وہ کوئی اچھا مشورہ دے۔ دوست کی نسبت دشمن تلاش کرنا آسان کام ہے، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں، سو اپنے ایک حاسد ”دوست“ کا نمبر ملایا اور اُسے اپنی ذہنی حالت بیان کی، میری بات سُن کر اُس کی آواز خوشی سے کانپنے لگی ہے، بڑی مشکل سے اُس نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا اور پوچھا کہ میری اداسی کی کیا وجہ ہے!

میں نے جواب دیا کہ یہی تو سمجھ نہیں آ رہی، حالانکہ مجھے کوئی پریشانی بھی نہیں، الحمد اللہ تندرست ہوں، کھاتا پیتا ہوں، بیوی بچوں کو وقت دیتا ہوں، انہیں بھی مجھ سے کوئی شکایت نہیں، گھومتا پھرتا رہتا ہوں، دوستوں سے گپ شپ کرتا ہوں، رشتہ داروں سے ملتا ملاتا ہوں، محفلوں میں بلایا جاتا ہوں، سوشل لائف بھرپور ہے، حسب توفیق ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتا ہوں، اللہ کا بڑا احسان ہے۔ مگر نہ جانے کیوں آج کل اداس ہوں۔

مجھے لگا جیسے یہ باتیں سُن کر میرے دوست نما دشمن کو چُپ سی لگ گئی ہے، میں نے ہیلو ہیلو کیا تو بڑی مشکل سے اُس کی مری ہوئی آواز نکلی، کہنے لگا، تمہیں کوئی مسئلہ نہیں، خواہ مخواہ اداسی کا ڈھونگ رچا رہے ہو، اپنی زندگی کی جو روٹین تم نے بیان کی ہے اُس میں اداسی کہاں ہے؟ میں نے کہا جان برادر اگر یہ بات سمجھ میں آ جاتی تو تمہیں فون کیوں کرتا، اداسی کبھی دل میں ہوتی ہے تو کبھی گھر کی دیواروں پہ بال کھول کے سوتی ہے اور کبھی دیوار سے چھلانگ لگا کے چھت پر چڑھ جاتی ہے۔ میری بات ابھی درمیان میں ہی تھی اُس مرد نا ہنجار نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ اِس اداسی کا علاج تمہارے بابا جی کے پاس ہوگا، میرے پاس نہیں ہے۔

نہ جانے کیوں مجھے پہلے بابا جی کیا خیال نہیں آیا حالانکہ اُ ن کے ساتھ تو میری پرانی یاد اللہ ہے، چند سال پہلے وہ مجھ سے اِس بات پر ناراض ہو گئے تھے کہ جب میں بنکاک گیا تھا تو انہیں ہمراہ کیو ں نہیں لیا تھا، بڑی مشکل سے میں نے انہیں یہ کہہ کر راضی کیا تھا کہ اگلی مرتبہ انہیں نہ صرف بنکاک بلکہ مکاؤ بھی لے کر جاؤں گا، یہ قومیں گناہوں میں لتھڑی ہوئی ہیں اور انہیں آپ (بابا جی) کی روحانی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔

بابا جی نے یہ بات سُن کر تبسم فرمایا تھا۔ اتنے عرصے بعد مجھے دیکھ کر بابا جی بہت خوش ہوئے، فرمانے لگے کہ آج ہی مجھے خواب میں پتا چل گیا تھا کہ تم ڈیرے پر آؤ گے، کہو اداس کیوں ہو، یہ سُن کر میں نے فرط جذبات سے بابا جی کے ہاتھ چوم لیے، آج کل ایسے پہنچے ہوئے بزرگ کہاں ملتے ہیں جو دیکھتے ہی دل کا حال بتا دیں۔ میں نے کہا بابا جی جب آپ کو سب علم ہے تو میں کیا بتاؤں، بس عجیب سی بے چینی اور اداسی ہے، بیزاری اور مایوسی ہے جو جینے نہیں دیتی۔

بابا جی میں نے میری بات سُن کر کمرے میں موجود اپنے مرید کو، جو نہایت تساہل کے ساتھ بھنگ گھوٹ رہا تھا، تخلیے کا اشارہ کیا، وہ تو جیسے اسی بات کا منتظر تھا فوراً کمرے سے باہر کھسک گیا۔ دسمبر کی شام گہری ہو چکی تھی، چاروں طرف گہرا سکوت طاری تھا، کمرے میں ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ روشن تھا جس کی لو میں بابا جی کا روحانی چہرہ سُرخ نظر آ رہا تھا، باباجی کسی مہاتما طرح آنکھیں وا کیے بیٹھے تھے، ان کے لب تھرتھرا رہے تھے جیسے وہ کچھ پڑھ رہے ہوں، الفاظ میری سمجھ میں نہیں آ رہے تھے مگر اُن کے لہجے میں ایک عجیب سا ردھم تھا، مجھے یوں لگا جیسے میں ہزاروں سال پہلے کے زمانے کی پرستش گاہ میں ہوں اور کوئی کاہن مجھ پر جادو کر رہا ہے، تھوڑی دیر بعد اچانک ایک عجیب و غریب آواز نے ماحول میں تھرتھلی سی مچا دی، میں نے گھبرا کر دیکھا، باباجی کی آنکھیں کھُل چکی تھیں اور وہ نہایت اطمینان سے اپنی جیب میں موبائل فون ٹٹول رہے جو رنگ ٹون بجا رہا تھا ”وے سوہنیاں اکھاں والیا میں رہ گئی تیرے تے!“ کیبل والے کا فون تھا، وہ ماہانہ فیس کا مطالبہ کر رہا تھا۔

اسے ٹرخانے کے بعد بابا جی میری طرف متوجہ ہوئے، اب اُن کا چہرہ سُرخ لگ رہا تھا اور نہ ہی وہ کوئی مہاتما لگ رہے تھے، اِس کیفیت میں اُن کی شخصیت بالکل بدل جاتی ہے اور وہ یکدم دانشمندانہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ یہی ہوا۔ بابا جی نے بولنا شروع کیا ”تمہاری مایوسی کی وجہ میں جان چکا ہوں، تم جس بیزاری اور اداسی کا شکار ہو دراصل پوری قوم ہی اُس کی مریض ہے، بظاہر ہم سب زندہ ہیں، اپنا کام کاج کر رہے ہیں، موج مستی بھی کررہے ہیں مگر اصل میں ہماری زبانوں پر تالے پڑ چکے ہیں، ہم سب کو چُپ لگ چکی ہے، ہم میں سے کسی میں سچ بولنے کی ہمت ہے نہ سچ سننے کا حوصلہ، ہم میں اور سچ مچ کے گونگے افراد میں کوئی فرق نہیں، ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جا رہا ہے اور ہم گردن جھکائے چلتے جا رہے ہیں، جو بھیڑ گردن اٹھاتی ہے اُس پر چھری پھیر دی جاتی ہے، ہم سب کی اداسی اور مایوسی کی یہ وجہ کیا کم ہے؟

اِن حالات میں قوم کے رہبر آگے آتے ہیں، لوگوں کو آزادی دلاتے ہیں تاکہ اُن کی مایوسی ختم ہو سکے مگر ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ رہبری کرنے والے بھی مصلحتوں کا شکار ہیں، ان کی زبانیں بھی گنگ ہو چکی ہیں، وہ کسی اچھے وقت کے انتظار میں ہیں یا انہیں خوش فہمی ہے کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا اور اپنے آپ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا حالانکہ اپنے آپ کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ تمہاری مایوسی کا میرے پاس کوئی علاج نہیں، یہ انفرادی نہیں اجتماعی مایوسی ہے، اِس سے نکلنے کے لیے دعا نہیں تدبیر کرنی ہوگی اور تدبیر کے لیے ہمت، حوصلہ اور بہادری چاہیے، بد قسمتی سے وہ ہم میں سے کسی کے پاس نہیں! “

میں نے بابا جی کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور اُن کے آستانے سے نکل آیا۔ دسمبر کی رات گہری ہو چکی تھی، نہ جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے یہ رات کبھی ختم نہیں ہو گی، کم ازکم ہماری زندگیوں میں تو نہیں!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کی گئی تحریر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 45 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada