مسائل کا حل اللہ کی ماننے میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں کوئی ایک قبیلہ یا قوم ایسی نہیں جس کی ہدایت کے لئے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبر نہ بھیجے ہوں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرانِ کرام اس دنیا میں اس لئے بھیجے گئے کہ وہ بندوں کو بگاڑ سے بچائیں، اللہ سے ان کا رشتہ جوڑیں اور اس راہ پر ڈالیں جو فلاح کی راہ ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ کچھ نے ان کی بات مانی اور کچھ نے ان کی ہدایات پر چلنے سے انکار کردیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن جن لوگوں نے ان کی لائی ہوئی ہدایات کے مطابق زندگی گزاری انھوں نے فلاح پائی اور جن جن اقوام نے ان کے لائے ہوئے پیغامات کو رد کیا وہ بالآخر تباہ برباد ہوئیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی بیشمار اقوام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر چلتے ہوئے بظاہر دنیا میں بہت ترقی کررہی ہیں اور ہر آنے والا دن ان کے لئے ترقی کی نئی نئی راہیں کھولتا ہوا نظر آتا ہے اور ان کے مقابلے پر پوری دنیا کے مسلمان یا با الفاظِ دیگر اللہ کے پیغام اور ہدایت کو ماننے والے دنیا کی دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہیں اور نہ صرف ترقی کے میدان میں شکست خوردگی کا شکار ہیں بلکہ بہت ہی ابتلا و آزمائش کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایسا ہی لگتا ہے کہ اہل کفر کے نظریات کو اہل ایمان کے نظریہ پر برتری حاصل ہے اور (نعوذ باللہ) قرآن میں کہی یہ بات (ہزاربار خدا نخواستہ) غلط ہے کہ فلاح کی راہ وہی ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے منتخب کی ہے۔

یہ بہت نازک بات ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کا بہت باریکی کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔ ہر وہ دل و دماغ جس میں ایسی سوچ ابھرتی ہے اور ایمان کے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں تو ان کے لئے علامہ اقبال نے پہلے اپنی نظم ”شکوہ“ میں کچھ اس طرح ذکر کیا کہ

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملے حور و قصور

اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدہ حور

اور پھر ”جواب شکوہ“ میں اسی شکوے کے جواب میں کچھ اس طرح لا جواب کر دیا کہ

کیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور

شکوہ بیجا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستور

مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں

جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں

اگر اللہ سے کیے گئے شکوے کے جواب میں جوابِ شکوہ میں کہی گئی بات پر غور کیا جائے تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنے بھی مسلمان ہیں کیا وہ واقعی مسلمان ہیں؟ ، اور خاص طور سے جتنی بھی مسلمان ریاستیں ہیں کیا وہ واقعی ”اسلامی“ ریا ستیں ہیں؟

اگر دیانتداری سے دل پر ہاتھ رکھ کر اور نہایت سچائی کے ساتھ غور کیا جائے تو ہم اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ”اسلام“ سے بہت دور ہیں اور وہ تمام ریاستیں جن کو اسلامی ریاستیں تصور کیا جاتا ہے وہ مسلمانوں کی ریاستیں تو ضرور ہیں لیکن ان سب میں ”اسلام“ دور دور تک بھی نہیں پایا جاتا۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے میں پیغمبرانِ کرام آئے کیا ان میں سے کسی ایک پیغمبر نے بھی اپنی دعوت لوگوں تک پہنچاتے ہوئے یہ کہا کہ اے لوگوں مہنگائی نے تمہارا خون چوسا ہوا ہے، میں تمام اشیائے خور د نوش کے نرخ کم کردوں گا۔ تمہاری معیشت تباہ ہو رہی ہے، میری باتیں مانو کے تو معیشت ترقی کی جانب گامزن ہو جائے گی۔ تمہیں روٹی دوں گا، کپڑا فراہم کرونگا اور تمہارے لئے عالی شان بلڈنگیں تعمیر کر واؤں گا۔

شہر جگمگ جگمگ کرنے لگیں گے۔ گلی گلی قمقمے روشن ہوجائیں گے۔ سڑکیں چم چم کرنے لگیں گی۔ دریاؤں پر پل بن جائیں گے، انڈر پاسز تعمیر ہوں گے، روزگار ملے گا، ملیں اور کارخانے ملک کے کونے کونے میں پھیلادیئے جائیں گے اور پاور سیکٹر ایسا زبردست بنایا جائے گا کہ چوبیس گھنٹے بجلی بلا تعطل جاری رہے گی اور نہایت ارزاں قیمت پر فراہم کی جائے گی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے کسی ایک نے بھی یہ ساری باتیں نہیں کیں لیکن جس جس قوم نے اللہ کے مبعوث پیغمبروں پر بھیجی گئی ہدایات پر عمل کیا تو کیا اس نے یہ سب کچھ نہیں پایا۔

کیا ناپ تول میں کسی کو کچھ فرق ملا۔ کیا ان کی غربت دور نہیں ہو گئی۔ کیا وہ قوم اتنی امیر نہیں ہو گئی کہ اپنی زکوہ کا مال جانوروں پر لاد کر پھرا کرتی تھی اور لینے والا کوئی نہیں ہوا کرتا تھا۔ جن کی زکوہ کا مال اتنا ہوتا تھا کہ وہ جانوروں کی پشت پر لادنا پڑتا تھا تو پھر کسی نے سوچا کہ اصل مال و دولت کتنی ہوا کرتی ہوگی۔ کیا یہ وہی لوگ نہیں تھے جن کے تن پر لباس بھی پورا نہیں ہوا کرتا تھا اور جو اپنی بھوک کا احساس مٹانے کے لئے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتے تھے۔ کیا ان کی معیشت ترقی نہیں کر گئی تھی۔ کیا ان میں کوئی بے روزگار نظر آتا تھا۔ کیا ان سب کے سروں پر پختہ چھتیں تعمیر نہیں ہو گئیں تھیں۔ کیا وہ پوری دنیا پر نہیں چھا گئے تھے۔ کیا وہ سائنس کے میدان میں دنیا کی ہر قوم سے آگے نہیں چلے گئے تھے۔

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جتنے بھی پیغمبران کرام اس دنیا میں مبعوث کیے گئے ان سب نے انسانوں کو ایک ہی تعلیم دی اور وہ یہی تعلیم تھی تم مخلوق ہو اور تمہارا خالق صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ ہم اس کے بھیجے ہوئے یعنی رسول ہیں اور یہ کہ تم ہی میں سے ہیں۔ اپنی حقیقت کو پہچانو اور اپنے آپ کو صرف اس ایک اللہ کے احکامات کا پابند بنالو۔ یہی وہ پیغام تھا جو تمام پیغمبرانِ کرام نے اپنے بندوں کو دیا اور یہی وہ پیغام ہے جو آقائے دو عالم، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے لے کر آئے۔ جب تک اس پیغام کو مسلمانوں نے اپنے سینے سے لگا کر رکھا، کسی قوم میں یہ جرات اور ہمت پیدا نہ ہو سکی کہ وہ مسلمانوں پر غلبہ پا سکے لیکن جیسے جیسے وہ اس پیغام سے عملاً دور ہوتے گئے ان سے روٹی بھی گئی، کپڑا بھی گیا، مکان بھی چھن گیا اور عزت و آبرو کا جنازہ بھی نکل گیا۔

آج دنیا میں جو اقوام بظاہر ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اگر ان کے اس عروج پر غور کیا جائے تو جو بات نہایت واضح ہو کر سامنے آئے گی وہ یہی ہوگی کہ انھوں نے اسلام کے ان سارے بنیادی اصولوں کو اختیار کرنا شروع کردیا جو کبھی مسلمانوں کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ آج ان کی معیشت اس لئے مضبوط ہے کہ وہ ناپ تول میں دھوکا نہیں دیتے۔ ان پر دنیا اس لئے اعتماد کرتی ہے کہ وہ جو دکھاتے ہیں وہی برآمد کرتے ہیں۔ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہیں۔

فضاؤں اور ہواؤں کو صاف رکھتے ہیں۔ انصاف کرتے ہیں۔ تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔ لوگوں کو بے روزگارنہیں ہونے دیتے اور بیروزگاری کی صورت میں انھیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہیں ہونے دیتے۔ وہ مریضوں کے لئے علاج کی سہولیات مہیا کرتے ہیں اور بے بسی کی صورت میں ان کی داد رسی کرتے ہیں۔ یہ وہ ساری صفات ہیں جو ایک مسلمان اور مسلمان معاشرے کا تقاضا ہے لیکن مسلمان ان سے بہت دور ہوگئے ہیں جبکہ اہل کفر ان سے نزدیک سے نزدیک تر ہیں۔ یہی وہ واحد وجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں ذلت و خواری کی زندگی گزار رہے ہیں اور اہل کفر ان بنیادی اصولوں کر اپنا کر دنیا پر غالب آتے جا رہے ہیں۔ اسی بات کو علامہ اقبال نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

آج ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

ان ساری باتوں کو بیان کرنے کرنے کے بعد مختصر طریقے سے یہ بات کہنے کی جرات کرونگا کہ انسان تک یہ بنیادی پیغام پہنچاکر کہ تم مخلوق ہو اور ایک اللہ تمہارا خالق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، میں وہ کیا خوبی ہے جس کی وجہ سے دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رہ جاتا ہے۔ معیشت ٹھیک ہوجاتی ہے، دولت کی ریل پیل ہوجاتی ہے، زمینیں سونا اگلنے لگتی ہیں، آسمان سے ہن برستے لگتا ہے اور ہر جانب امن، سکون، اطمنان اور خوشحالی کے چمن مہک اٹھتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس گھر کی مثال کافی ہے جس میں باپ کو باپ اور ماں کو ماں مان لیا جاتا ہے۔ ہے کوئی ایسا گھر جو خوشی و خوشحالی میں کسی ایسے مثالی گھر کا مقابلہ کر سکے۔

جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنے اور اللہ کے تعلق کو سمجھ لیتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے ہے کہ وہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے معاملے سے لے کر امور سلطنت تک کے معاملے کو اُس ایک اللہ کی مرضی و منشا کے خلاف چلائے۔ گویا صرف یہی ایک پیغام زندگی میں وہ انقلاب برپا کردیتا ہے کہ پھر سارے عالم کے ایران اور روم مسلمانوں کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتے۔

پاکستان تو بنایا ہی اس وعدے پر تھا اس لئے یہ کسی اور نظام سے مستحکم ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا اللہ سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق ہی چلنا ہوگا ورنہ ہر قدم تباہی و بربادی کی جانب ہی اٹھتا چلا جائے گا۔ پاکستان کو اگر واقعی پاکستان بنانا ہے تو عہد کی جانب پلٹنا ہے ورنہ تباہی کا عفریت پورا دہانہ کھولے کھڑا ہے اور قریب ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے جہنمی پیٹ میں اتار لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •