دفاعی منصوبہ بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوانوں کے چہرے جوش سے تمتما رہے تھے۔ ان میں سے کچھ اپنے ہتھیار سہلا رہے تھے، کچھ فخر سے سر بلند کیے کھڑے تھے اور اپنے کمانڈر کی طرف پرعزم انداز میں دیکھ رہے تھے کہ وہ حکم دے اور وہ بجا لائیں۔ ان کی برسوں کی سروس کے بعد آخر وہ لمحہ آ گیا تھا جس کے وہ منتظر تھے۔ آخر کمانڈر گویا ہوا۔

حبیب، تم اپنے جوان لے کر شمالی راستہ بند کرو۔ اکرم تمہارے جوانوں کے ذمے ہے کہ جنوب کی طرف سے ایک چڑیا بھی تمہاری نظروں میں آئے بغیر پر نہ مار سکے۔ شمیم تم جنوب کا مورچہ سنبھالو اس طرف نقل و حرکت ہر قیمت پر بند ہونی چاہیے۔ کریم تمہارے جوان مشرقی اور فضل تمہاری نفری مغربی محاذ سنبھالے گی۔ وہاں سے دشمن کی آمد کا راستہ مسدود ہونا چاہیے۔

جوانو خیال رکھنا کہ دشمن نہایت عیار ہے۔ وہ بھیس بدل کر آ سکتا ہے۔ حملے میں سرپرائز ایک بہت بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ دشمن اسے استعمال کرے گا۔ یہ تمہارا امتحان ہے کہ ادھر سے گزرنے والا ایک شخص بھی تمہیں دھوکہ نہ دے سکے۔ اس علاقے کے چپے چپے پر تم نے ہر قسم کی نقل و حرکت کو ناممکن بنا دینا ہے، پانچ میل کے دائرے میں چیونٹی تک کا گزرنا مشکل بنا دو۔ دشمن کی شناخت کو یقینی بنانا ہے۔ قریبی راستوں سے گزرنے والے ہر انسان کو دشمن سمجھنا ہے اور اسے روکنا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن ایک آزمودہ حربہ استعمال کرے۔ تمہیں انتظار کی کوفت میں مبتلا کر دے۔ کئی دن بعد جب تم تھک جاؤ اور تمہیں یقین ہونے لگے کہ دشمن اب ادھر کا رخ نہیں کرے گا تو اس وقت وہ غفلت میں تم پر آن پڑے۔

پرویز تم نے اپنے جوانوں کے ساتھ اندرونی پیرامیٹر سنبھالنا ہے۔ مشین گن کے نیسٹ تیار رکھو۔ مورچہ بند ہو جاؤ۔ اگر دشمن سخت حملہ کرے اور ہمارے بیرونی ڈیفینسز کو ناکارہ بنا کر اندر تک پہنچ جائے تو اسے چیک کرنا اور پھر شکست دینا تمہاری ذمہ داری ہے۔

جاوید تم نے ٹکٹ گھر کے پاس اپنے جوانوں کے ساتھ چوکس کھڑے رہنا ہے۔ اور یاد رکھنا، سری لنکا کے کھلاڑی نیلے یونیفارم میں ہوں گے، انہیں سٹیڈیم کے اندر جانے کے لئے ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں نہیں روکنا ورنہ یہ میچ نہیں ہو گا۔ پولیس لنگر کی گاڑی ٹھیک بارہ بجے آ جائے گی۔ ممکن ہے کہ اس میں کھانا بھی ہو، ورنہ صبر شکر کر لینا۔ ہمیں مطلوبہ بجٹ نہیں دیا گیا۔

یوں پولیس کے جوانوں اور افسروں کی نگرانی میں ٹیسٹ میچ شروع ہوا اور راولپنڈی کا شہر تمام دہشت گردوں اور شہریوں سے محفوظ کر دیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1297 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar