بچپن کے کھرنڈ


اپنے والدین کے متعصب رویے کو چیلنج نہ کر سکی؟ میں اس قابل کیوں نہ تھی کہ اس کے ساتھ ان کے گھر میں دیگر بچوں کے ساتھ رات گزار سکتی، ہلا گلا کر سکتی؟ کیا وہ سمجھتے تھے کہ میرا سیاہ رنگ اُتر کر ان کی سفید رنگت پر چڑھ جائے گا۔ کیا میں بدبودار تھی؟ میں نے کبھی اپنے والدین کو نہیں بتایا کہ میرے ساتھ کیا ہوا مگر میری زندگی نے اس دن 180 ڈگری کا ٹرن لے لیا۔ اس دن کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا کہ کیا واقعی مختلف رنگتوں والی افراد کے درمیان پائیدار دوستی ممکن ہے؟

اس واقعے کے چند ہفتوں بعد، میں بس سٹاپ پر بس کا انتظار کر رہی تھی۔ میرے ساتھ میرے ہی اسکول کے چارلڑکے بھی تھے۔ ہم سب اسکول کے ایک فیلڈ ایونٹ سے واپس آ رہے تھے۔ میں اسپورٹس کے ہر مقابلے میں پہلا نمبر لینے والی طالبہ ہوا کرتی تھی۔ اچانک ایک لڑکے نے پوچھ لیا کہ ہم سب بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ J ”“ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا تاکہ عورتوں کو بغیر کپڑوں کے دیکھ سکے۔

”R“ انجینئر بننا چاہتا تھا۔

”G“ آرکیٹیکٹ جب کہ ”F“ فارن سروس میں بحیثیت ”ڈپلومیٹ“ کام کرنا چاہتا تھا اور پھر تمام آنکھیں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔

تم کیا بننا چاہتی ہو جیسمین؟

جب میں نے بتایا کہ میں ایک ٹیچر بننا چاہتی ہوں تو وہ ہنس ہنس کر دوہرے تہرے ہو گئے۔ اور ”J“ ’نے صورتِ حال کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے زمین پر لوٹیں لگانی شروع کر دیں۔ آخرکار اپنی بے ساختہ اور بے تحاشا ہنسی پر قابو پاتے ہوئے ”R“ بولا۔

”دیکھو اگر تم ایک ٹیچر بننا چاہتی ہو تو میں یونائیٹڈ سٹیٹس کا صدر بننا چاہتا ہوں۔ “ میں خاموشی سے بس میں بیٹھ کر گھر آ گئی۔

سارے راستے وہ لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ میرے مضحکہ خیز ارادے یا خواب کے بارے میں مذاق کرتے رہے۔ مضحکہ اُڑاتے رہے۔ میں پریشان ہو گئی۔ میرے مارکس ان سب سے بہتر تھے۔ شروع سے لے کر چھٹی جماعت کر ہر مضمون میں ”A“۔ پھر آخر انہوں نے ایسا کیوں سوچا کہ میں ٹیچر بننے کے قابل نہیں ہوں۔ اس واقعے کے بعد میں نے اپنے اساتذہ اور پرنسپل پر توجہ کی تو مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ مجھے میری زندگی میں کبھی کسی بلیک ٹیچر نے نہیں پڑھایا تھا۔ شاید اسی وجہ سے میں ٹیچر نہیں بن سکتی۔ شاید بلیک لوگ ذہین نہیں ہو سکتے۔ میری خوداعتمادی تباہ ہو کر رہ گئی۔

سورج کی تمازت سے حاصل کیے ہوئے سن برن اور فریکلز والی ہماری جم ٹیچر، جس کے نہایت سلیقے سے بنے شولڈرکٹ لمبے بالوں کی رنگت سٹرابری بلونڈ تھی، ہمیں ایک ہال میں سرکل میں بٹھائے بیٹھی تھی۔ ہم سب یوں بیٹھے اس اس چارٹرڈ بس کا انتظار کر رہے تھے جو ہمیں ہماری منزل تک لے جاتی۔ وقت گزاری کے لیے اس نے ہمارے دائرے میں چکر لگایا اور مختلف سوالات پوچھنے شروع کیے۔ مثلاً۔ آپ لوگ کہاں سے ہو؟ اس کی اُنگلی کا اِشارہ میری طرف تھا۔ میں نے جواب دیا کہ میری پیدائش برطانیہ میں ہوئی۔ فوری طور پر اس کا ہاتھ بے چینی کے ساتھ اس طرح گردش میں آیا گویا وہ بلیک بورڈ پر لکھی کوئی تحریر مٹا رہا ہو۔

” نہیں۔ نہیں۔ برطانیہ میں کالے نہیں ہوتے۔ تمہارے والدین کہاں سے ہیں؟ “

یہ ایک مخصوص سوال تھا۔ جسے میں نے اپنے Adulthoodکے دوران بار بار سننے کے لیے خود کوتیار کرنا تھا۔

ساتویں جماعت میں مجھے ساتویں اور آٹھویں جماعت کے درمیان جو جماعت ترتیب دی گئی تھی اس میں پانچ دیگر طلباء کے ساتھ بٹھایا گیا۔ ہم سب بہترین طلباء اور دوست تھے۔ گو کہ میں نے والی بال، باسکٹ بال ٹریک اور فیلڈ کراس کنٹری اور ڈرامہ پریکٹس کی وجہ سے کئی کلاسیں مس کی تھیں مگر میں نے ہمیشہ اپنا ہوم ورک مکمل کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ میرے اندر ایک مخصوص سی Shynessتھی۔ یہی وجہ تھی کہ میرے لئے کلاس میں ڈولی پارٹن جیسی چھاتیوں اور داڑھی والے لڑکوں کے ساتھ بیٹھنا اتنا آسان نہ تھا۔

گریڈ 7 کے تقریباً تمام طلباء کے شاندار نتائج آئے تھے ہر پرچے میں اچھے۔ مگر جب میں نے اپنا رپورٹ کارڈ دیکھا تو میں گنگ رہ گئی۔ ریڈنگ، میتھس اور سائنس میں مجھے Dگریڈ دیاگیا تھا۔ میرا بُرا حال تھا۔ آج تک کی اِمتحانی رپورٹس میں مجھے کسی سبجیکٹ میں Bپلس سے کم مارکس نہیں دیے گئے تھے۔ میرا کنفیوزڈ ہونا تو بنتا تھا۔

پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں۔ میری ٹیچر نے میری والدہ کو مشورہ دیا کہ مجھے ایک سال پیچھے کر کے یعنی ساتویں جماعت ریپیٹ کروائی جائے، بلکہ زیادہ بہتر ہو گا اگر مجھے کسی ٹیکنیکل سکول داخل کروا دیا جائے تاکہ میں ٹائپنگ وغیرہ سیکھ لوں اور جیسے ہی سکول کے تیرہ سال مکمل کروں کسی آفس میں سیکرٹری وغیرہ کے طور پر کام کرنا شروع کردوں۔ میری والدہ نے تو گویا اس میٹنگ کے دوران ہی ذہنی طور پر مجھے ٹیکنیکل اسکول میں شفٹ کروا دیا تھا۔

کلونیل ذہنیت نے میری ماں کو یہ باور کروایا تھا کہ ٹیچر کے مشورے کو کبھی غلط مت جانو۔ وہ تو میری بڑی بہن تھی جس نے میری ماں کو یاد دلایا کہ میں نے چھٹی جماعت کے تمام سبجیکٹس میں A گریڈ لیے تھے، جو کہ ایک واضح اِشارہ یا علامت ہے کہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ لہٰذا میری ماں کو میرے لیے فائٹ کرنی چاہیے تاکہ مجھے اگلی جماعت میں پڑھنے کا موقع دیا جائے۔ اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی نیم دلی سے میری ٹیچر نے مجھے گریڈ 8 میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔

مگراس ساری صورتِ حال کے باعث مجھے ٹائپنگ سے نفرت ہو گئی اور آج تک میں اچھی طرح ٹائپنگ نہیں کر پاتی۔ اس مقام پر میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے اپنی غیرنصابی سرگرمیوں اور سپورٹس کو بہت حد تک کم کرنا پڑے گا۔ میں اسکول کی والی بال اور باسکٹ بال ٹیم کی کیپٹن تھی مگر میں نے خود کو تمام کھیلوں سے علیحٰدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں تک کہ جب میرے اسکول کی پرنسپل اور جم ٹیچر نے میرے والدین کو میرے فیصلے پر نظرثانی کے لیے کہا۔ میں نے سختی سے منع کر دیا۔ گو کہ میں ایک گفٹڈ ایتھیلیٹ تھی مگر سپورٹس میرا پہلا پیار نہیں تھا۔ میں ایک مضحکہ بن کر زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ میں تعلیم یافتہ ہونا چاہتی تھی۔ جسے ویل ایجوکیٹڈ کہا جاتا ہے۔ میں ان تمام لڑکوں اور اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتی تھی کہ میں ایک ٹیچر بن سکتی ہوں۔

اسکول کے بعد میری چھوٹی بہن اور میں پیانو سیکھنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہ آٹھویں جماعت کا واقعہ ہے۔ اسکول ختم ہوئے ایک گھنٹہ گزرا تھا جب ہم دونوں نے اسکول کا یارڈ عبور کیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ جس لڑکے نے مجھے شدید خوفزدہ کیا ہوا تھا وہ نہ صرف ہمارے باہر آنے کا اِنتظار کر رہا تھا بلکہ آج اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا۔ جو اس سے بھی زیادہ تنومند تھا۔ وہ دونوں خدا جانے کہاں سے اچانک آن ٹپکے تھے ان کے ہاتھوں میں چاقو تھے جنہیں وہ دہشت ناک انداز سے ہمارے چہروں کے سامنے لہرا رہے تھے۔

وہ ان چاقووٴں سے ہمارے گلے کاٹنے کی دھمکی دے رہے تھے، اور متوا تر ”کٹ فکنگ نگر تھروٹس“ کہہ رہے تھے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے سپورٹس میں سیکھی ہوئی دوڑ کی آزمائش کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنی بہن سے کہا یہاں سے فوراً بھاگ کر کہیں مدد لینی ہو گی اور زناٹے کے ساتھ میں نے دوڑ لگائی۔ میری بہن میرے پیچھے تھی۔ دونوں لڑکے چیخ چیخ کر ہسٹیریکل انداز میں کہہ رہے تھے ”نگرز تم دونوں آج گئیں۔ “ ہم ٹریفک سے بچتے ہوئے ان دونوں کے خوف اور اپنی زندگی بچانے کے لیے دوڑ رہے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3