احتیاط وزیراعظم صاحب احتیاط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب وزیراعظم!

کم بولنا دانائی کی علامت ہے۔ دانا کہتے ہیں ہوشیار افراد بولتے ہیں کہ ان کے پاس بولنے کے لیے کچھ ہوتا ہے جبکہ احمق لوگ بولتے ہیں کیوں کہ انہیں کچھ کہنا ہوتا ہے۔

کثرتِ کلام یعنی زیادہ بولنا علم نفسیات کی رو سے ذہنی بدنظمی (Mental Disorder) کا نتیجہ ہے۔ اسے Logorrhoea کہاجاتا ہے۔ یہ خود پسندی و نرگسیت اور خود توصیفی یا کسی احساس محرومی اور خود ترحمی کے باعث بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ ADHD (Attenion Deficit and hyperactive Disorder) کے متاثرہ لوگ اور کسی مقصد کے حصول سے والہانہ عشق رکھنے والے افراد بھی زیادہ بولنے کے شوقین ہوتے ہیں۔

جناب وزیراعظم!

زیادہ بولنے کا سبب نرگسیت ہو، خودترحمی ہو، مقصد کے حصول کا جذبہ ہو یا کوئی اور، یہ ایک مستحسن عمل نہیں۔ کسی بھی چیز کی کثرت اچھی نہیں ہوتی، تقریر کی بھی نہیں۔

امید ہے آپ جانتے ہیں کہ جو زیادہ بولتا ہے اس سے غلطی کا احتمال زیادہ ہوتا جاتا ہے اور جو کم بولتا ہے اس کی لسانی کمزوریاں اور علم و معلومات میں نقائص چھپے رہتے ہیں۔ جبکہ زیادہ بولنے والے کی قابلیت آشکار ہوہی جاتی ہے۔

آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ زیادہ بولنے والے فرد کے خیالات جاننے کی خواہش اور تجسس دوسرے انسانوں میں بتدریج ختم ہوتا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ لوگ اس کی تقریر میں دلچسپی لینا بالکل چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اکتاہٹ اور تنفر کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔

محترم وزیراعظم صاحب!

جو لوگ آپ کو یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں، آپ پر توہین رسالت، توہین صحابہ اور توہین شعائر اسلام کا الزام لگاتے ہیں، ہم ان میں سے نہیں ہیں۔ ہمیں یقین ہے آپ بھی رسول اللہ سے محبت کرتے ہیں، صحابہ کرام کی عزت کرنا جانتے ہیں اور شعائر اسلام کی توہین کو گناہ عظیم سمجھتے ہیں۔

لیکن کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ماضی میں ان حوالوں سے آپ عدم احتیاط کا باربار مظاہرہ کرچکے اور یوں مخالفین کو اپنے خلاف مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانے کا موقع دیتے رہے؟

چلیے ہم مان لیتے ہیں کہ آپ قابل ہیں، آپ بنا کسی چٹ و نکات کے اچھی تقریر کرسکتے ہیں، آپ کو ہر موضوع پر بولنے میں ملکہ حاصل ہے اور آپ کو ضروری نکات یاد رہتے ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ بالکل بات یا تقریر نہ کریں کیوں کہ ہمیں معلوم ہے آپ بولنا پسند بھی کرتے ہیں اور آپ کا منصب بھی جا بجا تقریر کا متقاضی ہے۔

جناب وزیراعظم!

اب آپ عام انسان نہیں ہیں بلکہ وطن عزیز کے ایک انتہائی اہم منصب، وزارت عظمٰی، پر براجمان ہیں۔ وزیراعظم کے منصب اور ملک عزیز کی لاج اب آپ کے قول و عمل پر منحصر ہے۔

آپ کی ہربات، ہر عمل، ہرلفظ اور ہر حرف کا ریکارڈ تاریخ میں بن رہا ہے۔ تو پھر بنا تیاری اور چٹ کے تقریر کرکے باربار غلطیاں کرنے اور یوں مخالفین کو اپنے خلاف مذہبی بنیادوں پر تحریک چلانے اور فتوے لگانے کا موقع دینا کیا ضروری ہے؟

اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ

1۔ کم سے کم اور اشد ضروری تقریر و گفتگو فرمائیں۔ ہمیشہ لکھی ہوئی تقریر کریں۔

2۔ بولتے وقت احتیاط فرمائیں، انصاف سے کام لیں۔ دوسروں کے بارے میں بولتے وقت اپنے آپ کو نفرت، تعصب اور ذاتی وگروہی مفاد سے بالاتر رکھیں۔

3۔ بولنے سے پہلے ضروری نکات لکھ ڈالیں اور وہ چٹ سامنے رکھیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ تقریر سے پہلے متعلقہ شعبے کے ماہرین سے حقائق اور نکات کی تصدیق فرمائیں۔ جرمنی اور جاپان کی سرحد پھر نہیں مل سکے گی۔

4۔ حساس اور متنازعہ موضوعات پر گفتگو سے اجتناب فرمائیں۔

5۔ مقدس مذہبی ہستیوں اور مذہبی شعائر پر فی البدیہہ بولنے سے حتی الوسع اجتناب فرمائیں۔

6۔ اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں بات کرتے وقت اپنے الفاظ اور انداز دونوں کو مناسب، متوازن، باوقار اور شائستہ رکھیں۔ ایسا کرنا ان کے لیے بھی لازم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •