ڈنڈا بردار پڑھے لکھے ڈاکٹر و قانون دان اور نیا پاکستان


خالق کائنات نے خلقت بشر کے بعد انسان کو جو پہلی نعمت عطا کی وہ علم کی نعمت ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمایا۔ عالم بشریت کا دوسرا اعزاز یہ ہے کہ قدرت نے ان کو نطق کا تحفہ عطا کیا یعنی انسان کو بولنے کی طاقت دی۔ انسان اپنے رنج و محن، احساسات اور تخیلات کا اظہار کرنے پر قادر ہے۔ ان دونوں نعمتوں کا ذکر قرآن مجید کی سورہ رحمان کے ابتدائی آیات میں ملتا ہے۔ یہی دو چیزیں انسان کو باقی حیوانات سے ممتاز کرتی ہیں۔

علم جب تک عمل سے متصل نہیں ہوجاتا تب تک اس کا ظہور وجود پر وارد نہیں ہو سکتا۔ انسان کا وجود اسیر امر ظہور ہے۔ اس سر خفی تک رسائی صرف عمل سے ہی ممکن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ”روح تو میرے امر میں سے ہے“ روح کی نمو صرف علم و عمل سے ہی ممکن ہے۔ روح اپنی منازل طے کرنے کے لئے تربیت کی محتاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے تو بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے ہی مبعوث کیا گیا ہے“۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ ”بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین درجے پر فائز ہیں“۔ رسول کریم اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ”کہ سب سے اچھا مسلمان وہی ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں“۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین وہی ہے جو بہترین اخلاق کا مجموعہ ہو۔ عالم وہی ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں۔ جہاں علم تربیت سے محروم ہو وہاں بد اخلاقی کا بول بالا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے لوگ تو لاکھوں میں ہیں مگر تربیت یافتہ با اخلاق پڑھے لکھے لوگوں کا شدید فقدان ہے۔

آپ ڈاکٹر تو ضرور ہیں۔ آپ اپنے فیلڈ میں ماہر بھی ہیں۔ آپ نے اچھی اچھی ڈگریاں بھی لی ہیں اگر آپ کا کردار جاہلوں جیسا ہے۔ آپ رویہ ان پڑھوں جیسا ہے۔ آپ کی باتیں اخلاق سے گری ہوئی ہیں۔ آپ کی سوچ بچوں والی ہے۔ تو ایسے تعلیم سے کہیں بہتر تھا کہ آپ ان پڑھ ہوتے۔

اگر آپ وکیل ہیں۔ آپ نے وکالت کی موٹی موٹی کتابوں کو حفظ کیا ہوا ہے۔ مگر پھر بھی آپ میں انسانوں جیسی کوئی ایک بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ آپ کے عادات جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ آپ کو یہ خیال تک نہیں ہے کہ ہسپتال میں تو مریض ہوتے ہیں۔ آپ کو کسی کی جان کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ آپ اپنی چھوٹی سی انا کی تسکین کے لئے انسانوں کی جان تک لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ تو معاف کیجئے آپ کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر پڑھے لکھے وکیل نہیں ہوسکتے۔

آپ نے اتنی موٹی موٹی کتابوں میں اللہ جانے اب تک کیا پڑھا ہے؟ قانون پڑھ کر قانون کی دہجیاں اڑانا، قانون پڑھ کر غنڈہ گردی کرنا، قانون پڑھ کر اخلاقیات کو پامال کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ میں تربیت کی اشد کمی ہے۔ کوئی قانون دان اس طرح کے گھناؤنے کام کرسکتا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ آج وکیل کا نام اور وکالت کے پیشے کا نام تم جیسے وحشی درندوں نے خاک میں ملا دیا ہے۔

آپ نے اپنی ذاتی انا کو تسکین دینے کے لئے تمام حدیں عبور کر دیں۔ آپ نے ساری دنیا میں پاکستان کا تماشا بنا دیا۔ باہر کی دنیا ہمارے بارے میں کیا کہے گی؟ کوئی ذی شعور انسان ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرسکتا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیا آپ کی تربیت یہی ہے کہ کسی مریض کا ماسک ہٹا کر اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا جائے؟ آپ کا ضمیر کہاں مر گیا تھا؟ آپ بچے تو نہیں تھے آپ تو اچھے بھلے انسان نظر آرہے تھے۔ آپ کو دل کے مریضوں پر ذرا بھی رحم نہیں آیا؟ ایسا تو کبھی کسی جنگ عظیم میں بھی نہیں ہوا کہ انھوں نے اپنے دشمنوں کے ہسپتال پر حملہ کیا ہو۔

یہ حالت صرف بے چارے وکیلوں کی ہی نہیں ہے۔ ہم سب اس تالاب میں ننگے ہیں۔ ہمارے مولوی، ہمارے ٹیچرز، ہمارے اداروں کے معزز افسران اور ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء سمیت ہر سطح پر شرپسندی کو اعلی مقام حاصل ہے۔ ہم بہت جلد قانون کو ہاتھ میں لینے کے عادی ہیں اور کسی کی جان لینے سے ذرا بھی گریز نہیں کرتے۔ اس وقت صرف وکلاء کو مورد الزام ٹھرانا درست نہیں ہوگا۔ ہمارے ملک میں اس قسم کے بھیانک واقیات کا رونما ہونا روز کا معمول بن چکا ہے۔

ہم نے اعلی اخلاقیات اور رویوں کو جاہلیت کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ ہم پڑھے لکھے جاہلوں کا ایک ہجوم بنتے جارہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں علم عمل سے محروم ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اخلاقیات پر سرے سے کوئی مضمون ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں حسن سلوک اور زندگی گزارنے کے طریقوں پر کچھ بھی نہیں پڑھایا جاتا ہے۔ بچوں کی تربیت تعلیم سے کہیں زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ مگر تربیت کا درس دینے کے لئے تربیت یافتہ استاد بھی تو ضروری ہوتے ہیں۔ کیونکہ سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھانا آسان ہے سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا بہت دشوار۔ اللہ تعالی ہمارے نئے پاکستان کے حال پر رحم فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS