زندگی کے پانچ بڑے پچھتاوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برونی ویئر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس ہے جس نے کافی عرصہ ایک ایسے ہسپتال میں گزارا جہاں ان افراد کو رکھا جاتا تھا جو بوڑھے تھے، بیمار تھے، بظاہر بول سکتے تھے، سن سکتے تھے، ہوش و حواس میں ہوتے تھے، لیکن طبی اعتبار سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کرتے، ان سے گفتگو کرتے، ان سے ان کی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے وہ ان ”مرتے ہوئے لوگوں“ کے پچھتاوؤں سے واقف ہوئی جن کا اب وہ شکار ہو چکے تھے۔ مریض اس سے اپنے پچھتاوے آزادی سے بیان کرتے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ عمر کے اس حصے میں اور بیمار ہونے کی وجہ سے اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ چڑیاں اب کھیت چگ چکی تھیں۔

برونی نے ان لوگوں کے لیے جو ابھی جوان تھے، تندرست و توانا تھے، ان پچھتاوؤں کی روشنی میں ”Ispiration and“ ”Chai کے نام سے ایک بلاگ لکھا تا کہ ان کو بھی ان بوڑھوں اور بیمار لوگوں کی طرح پچھتانا نہ پڑھے۔ یہ 2009 میں منظرِ عام پر آیا اور اتنا مقبول ہوا کہ اسے دنیا کی 29 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور لاکھوں لوگوں نے اسے پڑھا۔ اس کی مقبولیت کو دیکھ کر برونی نے اسے ایک کتاب کی شکل دینے کا فیصلہ کیا، چنانچہ“ The Top Five Regrets of The Dying ”کے نام سے کتاب مارکیٹ میں آئی جسے لوگوں نے اُس بلاگ سے بھی زیادہ ذوق و شوق سے پڑھا۔ برونی نے ان قریب المرگ انسانوں کے پانچ بڑے پچھتاوؤں کا کا خلاصہ کچھ اس طرح پیش کیا۔

برونی کے مطابق ان لوگوں کا پہلا اور سب سے بڑا پچھتاوا یہ تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی اپنی خواہشات کے مطابق گزارنے کی بجائے دوسروں کی خواہشات کے مطابق گزارنے کی کوشش کی کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی وجہ سے ان کی زندگی کے بہت سے خواب ادھورے رہ گئے۔ اگر ہم اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارتے تو یہ ہمارے لیے بہتر ہوتا۔

ان کا دوسرا سب سے بڑا پچھتاوا یہ تھا کہ کاش ہم نے زندگی میں اتنی محنت نہ کی ہوتی۔ اس محنت کی وجہ سے وہ بیوی بچوں اور والدین سے بہت دور چلے گئے اور آج ہمارے پاس ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ صبح و شام کام کی زیادتی نے ہمارے درمیان احساس اور قربت کا کوئی رشتہ قائم ہی نہیں ہونے دیا۔ بس ہم کولہو کے بیل تھے، ہماری گردنوں کے گرد ”پنجالیاں“ تھیں اور آنکھوں پر ”کھوپے“ تھے، ہم گردنوں کو اِدھر اُدھر موڑ کر کسی اور طرف دیکھ ہی نہیں سکے۔

’دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے ’۔

زندگی کی آخری سانسیں لیتے ان افراد کا تیسرا پچھتاوا یہ تھا کہ وہ کبھی بھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہ کر سکے، اندر ہی اندر گھٹن کا شکار رہے۔ ”چپ“ نے ان کو اندد ہی اندد بیمار کر دیا۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کاش ہم نے کھل کر اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ہوتا تو ہمیں آج یوں پچھتانا نہ پڑتا۔

چوتھا پچھتاوا دوسرے پچھتاوے سے ملتا جلتا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے ہم اپنے پیارے اور مخلص دوستوں کو وقت نہ دے سکے اور ہمارے درمیان ہمیشہ کے لیے دوریاں پیدا ہو گئیں۔ اگر ہم نے دوستوں کو وقت دیا ہوتا تو آج اس مشکل وقت میں وہ ہمارے ساتھ ہوتے۔ ہم بس صحراؤں میں بھٹکتے رہے، ہمارے اِرد گرد جو نخلستان تھے ہمیں نظر ہی نہ آسکے۔

پانچویں اور آخری پچھتاوے کا تعلق اپنی ذاتی خوشی سے ہے۔ یہ لوگ اب سوچتے ہیں کہ ہم نے کبھی اپنے لیے خوشی تلاش کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ ہمارے اندر اس مقصد کے لیے تبدیلی کی خواہش ہی پیدا نہ ہو سکی۔ بس ایک لگی بندی زندگی جس میں اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی خواہشات پوری کرنے اور ان کو خوش کرنے کا عنصر نمایاں تھا۔ ہم نے صرف ان کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کی، اپنی خوشیوں کا ذرا بھی خیال نہ رکھا اور ہم زندگی کی حقیقی خوشیوں سے دور رہے۔ زندگی کے سمندر میں تیرتے ہوئے ہم نے اپنی خوشیوں کے جزیرے اور ان پر جھلملاتے لائٹ ہاؤس دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی۔

برونی نے یہ پچھتاوے بیان کرنے کے بعد اپنے مشاہدات کا نچوڑ یوں بیان کیا :

”Life is a choice. It is your choice. Choice consciously، choose wisely, choose honsetly and choose happiness“.

اب ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہم نے آئینے کے سامنے کھڑے ہونا ہے اور اس میں جس شخص کا چہرہ نظر آئے، اس سے پوچھنا ہے ”کیوں میاں تم نے بھی مرتے دم ایسے ہی پچھتانا ہے، کیا تم بھی مستقبل کی کسی نرس کی کسی ایسی ہی کتاب کا کوئی کردار بننا پسند کرتے ہو“؟ وہ چہرہ یقیناً کوئی نہ کوئی جواب ضرور دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •