اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ویڈیو پر بحث : ’یہاں تو احمدیوں کو دوسرے درجے کا شہری تک نہیں سمجھا جاتا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ہمیں غیر مسلم اقلیتوں کو بھی برابر کے حقوق دینے چاہییں۔ ہم آپس میں تفرقہ بازی میں پھنس چکے ہیں کہ فلاں شیعہ ہے، فلاں سنی ہے، فلاں احمدی ہے، فلاں وہابی ہے۔۔۔ ان سب اختلافات کو بھلا کر کے صرف اور صرف اپنی شناخت ایک مسلمان اور پاکستانی بنانے کی ضرورت ہے۔‘

انسانی حقوق کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں یہ تقریر کرنے کے بعد ضلع اٹک کی اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین مشکل میں پھنس گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اسسٹنٹ کمشنر سے اپنے الفاظ واپس لینے کا کہا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند طلبا جارحانہ انداز میں ان کے ذاتی عقیدے کی وضاحت مانگتے ہیں اور پھر ان کی اس بات کی وضاحت مانگی جاتی ہے کہ انھوں نے اتحاد کی بات کتے ہوئے لفظ ’احمدی‘ کیوں استعمال کیا۔

ویڈیو میں اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے ایک شخص کمرے میں موجود افراد کو بتاتے ہیں کہ ایک طالب علم نے اسسٹنٹ کمشنر کی تقریر پر ایک ’جائز نکتہ‘ اٹھایا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کے بیان سے لگتا ہے کہ ’شیعوں اور سنیوں کے ساتھ احمدیوں کو جوڑا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملا ہے کہ یہ سب مسلمان ہیں‘۔

پاکستان کے 1973 کے آئین میں شامل کیے جانے والے آرڈیننس 20 کے مطابق احمدیہ جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریقے سے سلام کرنا اور متعدد اسلامی اصطلاحات کا استعمال ممنوع ہے۔

انڈیا میں شہریت کا متنازع بل کیا ہے؟

انڈیا میں شہریت کے متنازع بل کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے انڈیا آنے والے ہندو، بودھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اس متنازع قانون کے خلاف انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام اور دلی کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی احتجاج ہو رہے ہیں اور اسے انڈین سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا جا چکا ہے۔ تاہم انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا دونوں سے اس بل کو منظور کر لیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

اٹک کی اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا ہے جہاں ایک طرف صارفین اس بات پر غصہ کر رہے ہیں کہ خاتون کمشنر کو اپنے عقیدے کی وضاحت کیوں کرنی پڑی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایسے سوال بھی پوچھے جا رہے ہیں کہ انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل پر تو پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان اور وفاقی وزرا نے انڈین حکومت اور وزیرِاعظم نریندر مودی اور امت شاہ کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ایسے سلوک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں بھی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ کچھ بہتر برتاؤ نہیں ہوتا۔

افتخار نامی صارف کہتے ہیں ’جس ملک میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کو اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کا بیان دینے پر مذہبی ٹھیکیداروں اور لونڈوں لپاڑوں کو صفائیاں پیش کرنا پڑیں، اس ملک کو یہ حق نہیں کہ انڈیا میں آر ایس ایس اور ہندوتوا کے لیے کام کرنے والی تنظیموں و حکومتی اقدامات پہ کوئی تنقید کرے یا اسکے خلاف آواز اٹھائے۔‘

صارفین احمدی عبادت گاہوں پر حملوں سے لے کر ہندو لڑکیوں کی جبری گمشدگیوں اور مسیحی برادری کے ساتھ پیش آنے والے حادثات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ پاکستانی وزیرِاعظم جو انڈین حکومت کے ہر اقدام پر مذمتی ٹویٹس اور بیانات دینے سے کبھی پیچھے نہیں رہے، پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر کبھی نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

حارث نامی صارف عمران خان کو ٹیگ کرکے کہتے ہیں ’محترم پہلے اپنے ملک میں موجود اقلیتوں کی فکر کریں پھر پڑوسی ملک کی کرنا۔‘

متعدد صارفین گذشتہ روز کی گئی وزیرِ اعظم عمران خان کی ٹویٹس اور چند دن قبل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے الجزیرہ ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے حصے شئیر کر کے اور انھیں ٹیگ کرکے پوچھ رہے ہیں کہ انڈیا اور مودی حکومت کے اقدامات پر انگلیاں اٹھانے والے اپنے ملک میں دیکھیں اقلیتوں سے کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

راجہ عطا المنان وزیرِ اعظم عمران خان کی مودی پر کی گئی تنقیدی ٹویٹ پر اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ہونے والے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ’اور آپ کے زیرِ حکومت پاکستان کہا جا رہا ہے؟ اس بارے میں کوئی فکر؟‘

امر فیاض نامی ایک صارف اسسٹنٹ کمشنر کی ویڈیو میں وزیرِ اعظم کو ٹیگ کرکے پوچھ رہے ہیں ’عزت ماب جناب وزیرِ اعظم صاب! خود ہمارے ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ تھوڑا سوچ رہے ہیں آپ؟‘

یاد رہے گذشتہ روز سلسلہ وار ٹویٹس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نےانڈیا کی پارلیمان سے منظور ہونے والے شہریت کے متنازع ترمیمی بل پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سلسلہ وار ٹویٹس میں وزیرِ اعظم پاکستان کا کہنا تھا ’مودی سرکار کے نیچے انڈیا نہایت منظم انداز میں ہندو نسل پرستی کے ایجنڈے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کشمیرپرغاصبانہ قبضے سے شروع ہونےوالا یہ سلسلہ کشمیر کےجاری محاصرے، آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں کی شہریت سے محرومی اور حراستی مراکز کی تعمیر سے گزرتا ہوا شہریت میں ترمیم کے قانون تک آپہنچا ہے۔‘

یاد رہے چند روز قبل الجزیرہ ٹی وی چینل کے پروگرام ’اپ فرنٹ‘ میں مہدی حسن کو دئیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احمدی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہر طرح کی مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔

اسی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے مونا فاروق نامی صارف شیریں مزاری کو ٹیگ کرکے کہتی ہیں ’اور یہ پاکستان ہے جہاں شیریں مزاری کا دعویٰ ہے کہ احمدیوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔‘

مونا مزید کہتی ہیں ’یہاں تو احمدیوں کو دوسرے درجے کا شہری تک نہیں سمجھا جاتا۔ صرف احمدیوں کا نام لینے سے ہی آپ مشکل میں پڑ جاتے ہیں پھر چاہے آپ افواجِ پاکستان کے سربراہ ہوں یا اسسٹنٹ کمشنر۔ اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔‘

کچھ صارفین اس بات پر غصہ ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر سے اتنے جارحانہ انداز میں وضاحتیں مانگنے والے طالب علم کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

اور کئی ایسے بھی ہیں جن کی خواہش ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جنت حسین کے ساتھ کھڑی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14574 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp