آسیہ بی بی عدالت سے انصاف مانگ رہی ہے


\"hafsa-noor\"وہ فالسے کی فصل کی چنائی کررہی تھی، شیخو پورہ کے نواحی گاؤں اٹاں والی سے تعلق رکھنے والی آسیہ نورین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ پانی پہ ہونے والا ایک چھوٹا سا تنازع اس کی زندگی کو اتنا متنازع بنادے گا کہ کئی لوگ اس نزاع کی بھینٹ چڑھ جائیں گے

اس کا موقف ہے کہ وہ پیاس بجھانے کے لیے پانی کے گھڑے تک ہی گئی تھی، جہاں وہ ہمسائی عورت بھی کھڑی تھی، جس کے ساتھ اُس کا پہلے سے زمین کا ایک تنازع تھا، جیسے ہی آسیہ نورین ٹیوب ویل کی منڈیر پر رکھے گلاس سے پانی پینے لگی، اُس عورت نے گلاس کو ناپاک قرار دیکر جھگڑا شروع کردیا۔ جھگڑے کے بعد واپس کھیتوں کی جانب چلی گئی اور ادھر وہ عورت گاؤں کی  دیگر عورتوں کو آسیہ کے ساتھ جھگڑے کی بابت بتانے لگی

آسیہ بی بی کے بیان کے مطابق پانی پر ہونے والی لڑائی معمولی تھی مگر عورتوں کی دشمنی ایک ایسا خوف ناک روپ دھارچکی تھی، جس کا خمیازہ شاید پورے ملک کو بھگتنا تھا، جھگڑا طول پکڑتا گیا، آسیہ اور گاؤں کی خواتین میں پھر تکرار ہوگئی

بات اس قدر بڑھ گئی کہ دونوں جانب سے گالیوں سے لے کر سنگین الزامات کی جھڑپ ہونے لگی، ایسے میں سے ایک خاتون نے مسجد کے پیش امام کو خبر کردی۔ پیش امام کو بتایا گیا کہ آسیہ نے توہین مذہب کی ہے

یہ سنتے ہی امام صاحب آگ بگولا ہوگئے اور آسیہ کے گھر کی جانب لاؤ لشکر لے کر پہنچ گئے، شرپسند عناصر نے آسیہ کے گھر پر دھاوا بول دیا، آسیہ کے شوہر عاشق اور پانچ بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور معاملہ اتنا بڑھا کہ بالآخر پولیس نے آسیہ کو گرفتار کرلیا

آسیہ پر نو جون سنہ دو ہزار کو مقدمہ ہوا اور اگلے تین سو پینسٹھ دن وہ جبر کے لمحوں میں اپنی بیتی زندگی کے دنوں کو یاد کرکے روتی رہی، پھر ایڈیشنل سیشن جج محمد اقبال نے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔

 آسیہ کا شوہر نام سے صرف عاشق نہیں ہے، وہ آج بھی اپنی بیوی سے عشق کرتا ہے، وہ آسیہ کے لیے قانونی جنگ لڑے جا رہا ہے، اس انتظار میں کہ شاید روشنی کی کرن چمکے اور انصاف کا سورج طلوع ہو۔

کسی بھی مذہبی عقیدے کی توہین کرنا بے شک کم ظرفی، جہالت اور کم علمی ہے مگر الزام لگانے والوں کے پاس ٹھوس شواہد ہونا بھی لازم ہیں تاکہ قانون کے مطابق ملزم کو سزا دی جا سکے۔

آج آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام ہے جو گواہان سے جرح کے بغیر ملزمہ کے زیر حراست بیان کو اعتراف قرار دے کر انصاف کے نظام پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے

آسیہ مسیح کیس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حکم پر شیری رحمان آسیہ سے ملنے جیل گئیں، جس کے بعد ایک انکوائری \"asia-bibi\"کمیٹی بٹھائی گئی، کمیٹی کی رپورٹ سلمان تاثیر کی نظروں سے گزری، جس کے نتیجے میں انہوں نے مظلوم عورت کو انصاف کی فراہمی کیے لیے آواز بلند کی، ناانصافی کے خلاف بولنے کی سزا میں انہیں موت دے دی گئی ۔

ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا دین توہین کے الزام میں گرفتار ایک لاچار غریب عورت کے ہاتھوں خطرے میں بتایا جا رہا گیا، ایک عورت زندگی و موت کے بیچ جھول رہی ہے، ایک طرف عدلیہ کو قانون کے مطابق فیصلہ دینا ہے تو ایک فریق صرف اپنی پسند کا فیصلہ سننے کا منتظر ہے۔

اگر آسیہ بی بی کو زندہ چھوڑ بھی دیا گیا تو اس ملک میں زندہ ویسے بھی نہیں بچے گی، لوگوں کی نفرت اسکو مار ڈالے گی کہنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کا قتل سیاسی تھا جسکو مذہبی رنگ دیا گیا۔ آسیہ بی بی کیس میں شہباز بھٹی بھی قتل کر دئے گئے اب اگر آسیہ کو پھانسی نہیں دی گئی تو ممتاز قادری کی پھانسی سے پیدا ہونے والے اشتعال میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔

پاکستان میں قانون توہین مذہب کا سوال ایک وکیل کی لکھی ہوئی ایک کتاب سے اٹھا۔ یہ 1983 کی بات ہے۔ اس وقت توہین مذہب کے حوالے سے ملک میں کوئی قانون نہیں تھا چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل سے حکومت کو قانون بنانے کی سفارشات بھیجیں تاہم ان پر عمل درآمد نہ ہوا، جس کے بعد شریعت کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی، اس وقت تک مذکورہ کتاب کی اشاعت کو ایک سال گزرچکا تھا

اسی سال عاصمہ جہانگیر کی ایک تقریر پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا، رکن قومی اسمبلی آپا نثار فاطمہ نے بھی اس تقریر کا نوٹس لیا اور تعزیرات پاکستان میں اضافے کا بل پیش کردیا جو فوری طور پر منظور ہوگیا۔

آج دُنیا کی نظریں ہمارے قانون پر مرکوز ہیں اور اُس اسلام کے دین کی طرف ہیں جو سلامتی کا دین کہلاتا ہے۔ آج سب لوگ دم سادھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب انصاف طلب نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ قرائن کہتے ہیں کہ انسانوں کی اس بستی میں دہشت، جبر اور موت کا راج قائم ہے۔

(آسیہ بی بی کے مقدمے کا جلد فیصلہ کر کے انصاف کیا جانا چاہیے۔ اگر وہ مجرم ہے تو اسے سزا دی جائے، بے قصور ہے تو رہا کیا جائے، مگر فیصلہ جلدی کیا جائے تاکہ قومی بے چینی کا باعث یہ معاملہ ختم ہو: مدیر)

Facebook Comments HS

3 thoughts on “آسیہ بی بی عدالت سے انصاف مانگ رہی ہے

  • 21/10/2016 at 11:10 شام
    Permalink

    نہایت خراب روایت پل رہی ہے کہ کسی کو بھی ذاتی دشمنی کی وجہ سے قصداً "توہین رسالت” کا مرتکب قرار دیا ج

  • 23/10/2016 at 10:22 شام
    Permalink

    انصاف سب کا برابر ہونا چاہیے ورنہ مغرب میں ہولو کاسٹ پر بات کرنا جرم ہیں تو یہاں پر بھی اسلام کے خلاف بات کرنا جرم ہیں کیوں کہ اس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اگر اس نے ایسا کیا ہے تو ضرور اسے سزا ملے ۔

  • 24/10/2016 at 9:21 شام
    Permalink

    اگر یہی روداد ہے تو پھر آسیہ بے قصور ہے ، جسکے مکتبہ فکر کے پاس بیٹھوں ایک نئی خانی
    سننے کو ملتی ہے .
    اس میں کوئی شق نہیں ہمارا انصاف کا نظام انتہائی ناقص اور بزدل ہے جو طاقتور کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ،

Comments are closed.