مشال خان کا سوال: خدا کی لاٹھی بے آواز کیوں ہے؟

مجھے آوازیں سنائی دیں میں اپنے ہوسٹل کے کمرے میں جا چھپا۔ میرے نام کا ایک خط جو مسلسل میرے مقدر کا پیچھا کررہا تھا اُس پہ صاف لکھا تھا کہ یونیورسٹی میں میرا داخلہ ممنوع ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میرے داخلے پر پابندی کا شور میرے کمرے تک آن پہنچے گا۔ میں اپنے آپ کو قفل میں قید کرنا چاہا تھا، مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کروں۔ پہلے میرے دوستوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ میں بھاگتے بھاگتے اپنے کمرے میں جا چھپا ہوں اور ایک دوست نے باہر سے تالا لگا دیا ہے۔

Read more

بچوں کی بدتمیزی کی میڈیا پر پروموشن

بیہیوئر Behavior سائنس، ایک ایسا علم ہے جو جانداروں کے باہمی اور اپنے ماحول کے متعلق رویوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی برتاؤ یا طرزعمل جسے آپ میل جول کے آداب بھی کہہ سکتے ہیں۔ تہذیب یافتہ معاشروں میں ڈھنگ اور رویوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں باقاعدہ بچے کی پیدائش سے قبل ماں کو ذہنی تربیت دی جاتی ہے اور ماں کو مثبت پہلو پر زیادہ سوچنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور منفی پہلو اور ذہن پر غلط اثر انداز ہونے والی شے سے دور رہنے کی تلقین بھی کئی جاتی ہے۔ یہی وہ دور ہوتا ہے جب آپ کے رویے آپ سے آپ کی اولاد میں ذہنی و جسمانی سطح پر منتقل ہوتے ہیں۔

اس ٹرانسفورمیشن کو یک دم لاگو نہیں کیا جاتا بلکہ آہستہ آہستہ بچے کی عمر کے مطابق وہ ایک مہذب معاشرے میں جینا سیکھتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بجائے بچوں کی تعلیمی، ذہنی و جسمانی نشونما پر دھیان دیں مگر ہم نے تو اب زبان درازی بدتمیزی کو بڑے ہی شاہانہ انداز میں پروموٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسے ہی اس سے قبل ایک بچی کی ویڈیو وائرل کی گئی تھی جو پٹر پٹر زبان چلا رہی تھی۔

بحیثیت ایک مونٹسری ڈائریکٹریٹ کی حثیت کو نظرانداز کرکے بھی میں وہ ویڈیو دیکھوں جس میں ایک چار سے پانچ سال کی عمر کا بچہ انتہائی آمرانہ انداز میں اپنی انگلی کے اشارے سے ہاتھ چلا چلا کر اپنی ٹیچر کو کہتا ہے کہ ”میرا بستہ واپس کر“۔ اور استانی اس کے لہجے کو پسند کرتی ہوئی اس کی ویڈیو بنا رہی ہیں جو کچھ ہی دن میں سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوجاتی ہے۔

Read more