نئے پاکستان میں کامیڈی آف ایررز
”کامیڈی آف ایررز“ انگریزی ادب کی خاص صنف ہے جس میں ایک جیسی شکل کے دو کردار یا بہت زیادہ کنفیوژن پیدا کر کے یا ایک کے بعد ایک غلطی کر کے یا بار بار زبان کی پھسلن سے مصنف مزاح تخلیق کرتا ہے۔ شیکسپئیر کے ڈرامہ میں کامک ریلیف کے طور پر استعمال کیے گئے کئی کرداراور چارلی چیپلن کی کامیڈی کو بھی اس زمرے میں ڈالا جاسکتا ہے۔
خیر پاکستان میں کامیڈی اف ایررز کی اصطلاح کو با معنی لے لیا گیا ہے۔ خاص طور پر حکومت اور حکومتی ارکان نے کامیڈی آف ایررز کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ حکومت کی ایک کے بعد ایک غیر سنجیدہ حرکات خوب جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہیں۔ تو کبھی دل آزاری اور گستاخی کا روپ دھار لیتی ہیں۔ حکومت نے کامیڈی آف ایررز کے لئے کتنا کام کیا بتانے بیٹھیں تو بلاگ کبھی ختم نہ ہو۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ اس کامیڈی آف ایررز کی نا ختم ہونے والی فلم میں سب سے زیادہ اسکرین ٹائم کھیل کے مرکزی کردارکو حاصل ہے۔ اس کردار کا جغرافیہ، تاریخ بلکہ کسی حد تک مذہبی معلومات بھی کافی ناقص ہیں۔ دنیا کے دو کونوں میں موجود ممالک کو ہمسایہ بتانا، کبھی ایسی غیر یقینی ٹرینوں کا ذکر کرنا جو روشنی کی رفتار سے تیز دوڑتی ہیں تو کبھی کچھ اور کہہ دینا۔ یہاں تک تو قابل برداشت ہے لیکن انتہائی عالی مقام مذہبی شخصیت کے بارے میں انتہائی غلط الفاظ کا چناؤ لگ بھگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جگ ہنسائی اوردل آزاری کا باعث بن رہا۔ چارلی چیپلن کی طرح یہ کردار جب ایک حکومتی کام کرتا ہے تودوبگاڑدیتاہے اور دو کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں مزید چارخراب ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کردار نے مصنف کو ایکنولج کرنے کے معاملے میں بھی جوک آف دا ائیر بنا ڈالا۔
مرکزی کردار دیگر شعبوں کی طرح اکنامکس میں بھی کافی ویک ہے۔ مگرمصنف کا کہنا ہے کہ صاف دل اورمعصوم ہونے کی وجہ سے یہ کردار دلوں اور اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں گھر کرنے کا حقدار ہے۔ اردو کے اکثر لطیفے ایک ایسے بچے کے گرد گھومتے ہیں جواپنی اماں کے وہ پلانز جو اس نے سب سے چھپ کر بنائے ہیں سب کے سامنے آشکارکر دیتا ہے اور اماں کی سبکی کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں ماں کے چہرے پرایک خاص لک ہوتا جو آج کل اکثر ڈرامے کے مصنف کے چہرے پرنظر آتا ہے۔
ڈرامے کے مصنف نے نے اس ڈر سے کہ مرکزی کردارکی مٹی پلید زیادہ نہ ہو اس لئے ڈرامے میں دوسرے سستی اور ٹھنڈی کامیڈی والے ایکسٹراز بھی رکھے ہیں۔ ان کرداروں کو سائنس دان، قانون دان، میڈیا مینجر، ماہر معاشیات اور صحافیوں کے کاسٹیومز دیئے گئے ہیں۔ یہ ایسی سستی اور تھکڑ کامیڈی کرتے ہیں کہ ان پر ہنسی کے بجائے غصہ آتا ہے اور کوفت ہوتی ہے۔ کبھی سائنس دان کے کاسٹیوم میں یہ شخص ہیلی کاپٹر کو پچپن روپے فی کلومیٹر میں اڑاتا ہے تو کبھی کسی اور کی برسوں کی محنت سے خلا میں بھیجی گئی دوربین کا سہرا اپنے سر لے لیتا ہے۔
معیشت دان کا ایکسٹرا مہنگائی کی ماری عوام کو سستی سبزی کا پتہ بتاتا ہے۔ صحافی کاروپ دھارے شوقیہ فنکار ایسی ایسی خبریں لاتا ہے کہ خبروں کو بھی نہیں پتہ ہوتا کہ وہ آ گئیں ہیں۔ قدرتی آفت پر ایسے سستے فقرے کسے جاتے ہیں کہ سننے والا شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔ زلزلے پر کہا جاتاہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے کہ اس کو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں۔ کبھی بارش اور خوشگوار موسم کو بھی مرکزی کردار کی برکت کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مگرجب ان کے سینز ختم ہوتے ہیں اورمرکزی کرداراسٹیج پر آتا تو اس کی سچی کامیڈی آف ایررزمیں کچھ وزن نظر آنے لگتا ہے۔
ڈارمے کے دورانیہ کے بارے میں شکوک وشبہات پائے جاتے یہاں بھی مصنف سسپنس بنائے رکھے ہوئے ہے۔ انتہائی ان ٹینس سین جو کہ ڈارمے کا کلائمیکس لگنے لگتا ایک دم کامک ریلیف بن جاتا ہے اور کامیڈی جاری رہتی ہے۔ کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ یہ ایک طویل دورانیے کا کھیل معلوم ہوتا ہے مگر کچھ سینز میں لگنے لگتا ہے کہ یہ ون ایکٹ پلے ہے۔
خیر کھیل جاری ہے، لوگ بیٹھے ہیں، کام چل رہا ہے۔ جب بے چینی زیادہ بڑھنے لگتی ہے تو مصنف یاد دلاتا کہ عوام کی پرزور فرمائش پر اس ڈرامہ کمپنی نے یہاں پڑاو ڈالا ہے۔ اس کھیل کے ختم ہونے کا فیصلہ مصنف خود کرے گا۔
چلتے چلتے افتخار عارف کے چند اشعار پڑھتے جایئے
بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا
مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا
کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشاختم ہوگا
کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
دل نا مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا


