کیا اے پی ایس کے شہیدوں کو انصاف مل سکے گا؟
”میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے بڑادشمن بنا پھرتا ہے
ہم سانحہ اے پی ایس، کبھی نہیں بھول سکتے۔
ماؤں نے بچوں کے ماتھے چومے، بچوں کو سر پر تپتپی دیتے ہوئے پشاورکے آرمی پبلک اسکول روانہ کردیا۔ اسمبلی ہوئی بچوں نے ترانہ پڑھا، اس کے بعد تمام بچے اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئے۔ اچانک زوردار دھماکہ ہوا بچے سہم گئے۔ اساتذہ نے بچوں کوزمین پر لیٹ جانے کو کہا اچانک اسکول کے اندر گولیوں کے تڑتڑاہٹ نے بچوں کو مزید خوف زدہ کردیا۔ مسلح دہشتگردوں نے اسکول کے ایڈوٹوریل ہال میں گھس کروہاں موجود بچوں کو چھلنی کرنا شروع کر دیا۔
16 دسمبر 2014 کو سانحہ پشاور آرمی پبلک اسکول کے بچوں اور اساتذہ نے سورج کی بجائے سیاہ تاریخ کو نمودار ہوتے دیکھا۔ اس دن کچھ مسلح دہشت گردوں نے صرف آرمی پبلک اسکول پرحملہ نہیں کیا بلکہ کئی ماؤں کے لخت جگر چھین کرمعصوم بچوں پر گولیاں برسائیں، سفاک دہشت گردوں نے سہانے مستقل کے خواب دل میں لیے ننھے بچوں کو ہمیشہ کے لئے سلادیا۔ 16 دسمبر 2014 کی صبح کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پشاور پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
دہشتگردوں نے ہال میں ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور چند منٹوں میں ہال کی خشک زمین کو بچوں کے خون سے سرخ کر دیا۔ ہرطرف خون ہی خون دکھائی دینے لگا۔ چیخ وپکار کی آوازیں گونجنے لگی۔ زخمی بچے مدد کے لئے تڑپنے لگے۔ دہشتگردوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔ والدین جوان اور ننھی کلیوں کی لاشیں اٹھا کرگھر لاتے رہے۔ پشاور میں ہرطرف دکھ کا عالم تھا۔ ہر گلی محلے سے شہیدوں کے جنازے اٹھتے رہے۔ آرمی پبلک اسکول کے افسوس ناک سانحہ میں 125 بچوں اور پرنسپل اور اساتذہ سمیت 151 لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔
16 دسمبر 2014 کو پشاور میں ایک طرف دہشت گرد بھاری بھرکم اسلحہ سے لیس تھا، تو دوسری طرف معصوم نونہال بچے قلم، کتاب، بستیں سمیٹے ہوئے تھے۔ ایک جانب ہٹے کٹے بزدل دہشتگرد تھے تو دوسری طرف معصوم ننھے بچے موجود تھے۔ ظلم کی انتہا ہوئی اور انسانوں کے روپ میں جانور پھولوں پر بارود سے حملہ آور ہوئے اور 125 سے زائد آنگن اجاڑ ڈالے۔ بچے مایوس نہیں ہوئے، ہمت نہیں ہاری، دوبارہ کھڑے ہوئے اور دہشت گردوں کو نظم کی صورت میں منہ توڑجواب دیتے ہوئے کہا ”میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے“۔
16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول میں سفاک دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے شہید بچوں میں طالبعلم حارث بھی شامل تھا۔ حارث محمد نوازخان کابیٹا اور سانحہ اے پی ایس میں موت کے منہ سے بچنے والے طالبعلم احمد نواز کا چھوٹاب ھائی تھا۔ احمد نواز برطانیہ میں انتہا پسندی کے خلاف مہم میں سرکاری طور پر شامل ہیں۔ اب تک احمد نوازکو کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کی علامت، اے پی ایس کے جانباز طالبعلم احمد نواز سانحے کے پانچ برس بعد بھی بھائی اور دوستوں کے بچھڑنے کا غم نہیں بھول سکا، مگراحمد نواز نے کبھی ہمت نہ ہاری۔
احمد نواز برطانیہ میں انتہاپسندی کے خلاف تعلیم کے فروغ کی مہم اور ایکشن کاؤنٹر ٹیررازم چلارہے ہیں۔ احمد نواز اب تک برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز، آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت دو سو سے زائد تعلیمی اداروں کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں خطاب کر چکے ہیں۔ احمد نواز کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانے کی مہم ’ایکشن کاؤنٹر ٹیرر ازم‘ میں سرکاری طور پر برطانیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ احمد کو لندن کی ایڈوائزری بورڈ آف نیشنل ٹیررازم کونسل کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ ان کو برطانیہ اور یورپ کا ینگ پرسن آف دی ائیر، ایشیا انسپائریشن ایوارڈ اور درجنوں دیگر ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔
شہید بچوں میں عماراقبال بھی شامل ہے۔ اپنے والدین کوہمیشہ کے لئے روتا چھوڑ کر عماراقبال شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے جنہیں دہشتگردوں نے سرمیں گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ عماراقبال اپنے چھوٹے بھائی ثمیراقبال کے ساتھ ہی اسکول گیا تھا لیکن شام کو جنازے میں ان کی لاش گھر آئی۔ آنکھوں میں فوجی افسربننے کے خواب سجائے عماراقبال کو کیا پتا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔
دلخراش سانحہ میں بارہ سالہ شہید اسد عزیز بھی دہشت گردوں کی گولیوں کانشانہ بنے۔ سولہ دسمبرکی صبح اسد عزیز کواسکول جانے کی بہت جلدی تھی معصوم کلی ناشتہ کیے بغیرہی اسکول کے لئے گھرسے نکل گیا اور چند گھنٹوں کے بعدخون میں لت پت لاش گھرآئی تووالدین پرتوجیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ اسد عزیز کوگھروالوں سے بچھڑے 5 سال بیت گئے مگراسکی یادیں آج بھی اس کے گھرکی دیواروں میں زندہ ہیں۔
اس افسوس ناک سانحہ مین غازی محمد طلحہٰ علی بھی سفاک دہشتگردوں کی فائرنگ کانشانہ بنا۔ غازی محمد طلحہ علی کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کا اسکول پرحملے کا مقصد بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا تھا اور وہ اپنی اس سازش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ دہشت گردوں نے محمد طلحہ علی پر کئی گولیاں برسائی جس سے اس کا چہرہ شدید متاثرہوا۔ حملے کے 5 سال بعد غازی اب چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں۔ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا مقصد بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا تھا مگر بچوں کی بہادری کے سامنے ان کے تمام عزائم کو شکست ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے قلم اور علم کے ذریعے تعلیم دشمن عناصر سے بدلہ لینا محمد طلحہ کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول کے حملہ میں تیرہ سالہ شہیربھی شہید ہوا جو اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا تھا۔ علی الصبح شہیر کو اسکول جانے کی جلدی تھی۔ ذہین اور ہونہار شہید کو دہشتگردوں نے دل پر گولی مارکے قتل کیا۔ شہیر پڑھ لکھ کر آٹوموبائل انجینئربننا چاہتا تھا۔ مگر دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بنا اور اپنے ارمان دل میں ہی لئے دنیائے فانی سے چلا گیا
دہشتگردوں نے بچوں سے علم کی شمع چھیننے کی کوشش کی مگر شہیر سمیت دیگرننھے بچوں نے اپنا خون بہا کر علم کا پرچم گرنے نہیں دیا۔ 2014 کے پشاور آرمی پبلک اسکول کے متاثرہ والدین اب بھی انصاف کے منتظرہیں۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پرحملے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ حکومتی دعوؤں کے برعکس منظرعام پر نہ لائی جا سکی۔ آرمی پبلک اسکول کے حملے کے بعد تین تعلیمی اداروں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد تعلیمی اداروں میں بھی سیکیورٹی اقدامات نہ ہونا صوبائی حکومت کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو بھی 5 سال مکمل ہوگئے اب تک کس کو انصاف ملا اور حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟
سانحہ آرمی پبلک سکول کی جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن کے ترجمان عمران اللہ نے کمیشن کی رپورٹ پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کی جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 140 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ کمیشن نے ریکارڈ شدہ بیانات کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ ترجمان عمران اللہ نے بتایاکہ ایک سے دو مہینے میں تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کر دی جائے گی۔ کمیشن نے مزید گواہ طلب نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 9 مئی 2018 کو ازخود نوٹس لے کر سانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔ سانحہ کی جوڈیشل انکوائری شہداء کے والدین کا دیرینہ مطالبہ تھا




