ظلم اور رحم کی سرحد پر علامتی نشان: ایدھی جھولا
بچے قتل نا کریں جھولے میں ڈال دیں۔ یہ وہ تحریر ہے جو کراچی میں موجود ایدھی سینٹرز کے باہر رکھے جھولوں پر لکھی ہوتی ہے۔ کوئی رات کے اندھیرے میں آتا ہے اور نومولود بچے کو جھولے میں رکھ کے چلا جاتا ہے اور پھر جھولے میں پائے جانے والے بچے کی ایدھی سینٹر میں نگہداشت شروع ہوجاتی ہے اور کوئی سوال نہیں کرتا کہ یہ بچہ کون ہے؟ کس کی اولاد ہے؟ اور اس کو جھولے میں چھوڑ کرجانے والوں کی کیا مجبوریاں تھیں۔ ایدھی سینٹرز کے یہ جھولے محض جھولے نہیں بلکہ رحم اور ظلم کی سرحدوں پر موجود علامتی نشان ہیں۔
جہاں پر انسانی ظلم جب اپنی آخری حد کو چھوتے ہوئے ایک معصوم اور بے یارومددگار ننھی سی جان سے منہ موڑنا چاہتا ہے تو عین اُس لمحے رحم کی سرحد شروع ہوتی ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس سرحد پر ایک جھولا رکھا ہوا ہے جس کا نام ہے ایدھی جھولا۔ ستم یہ بھی کہ ان جھولوں میں اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ مگر اب یہ شرح بھی کم ہونے لگی ہے اورلوگ ان نومولودبچوں کو جھولے میں ڈالنے کے تکلف سے بچنے کے لیے ان کی جان ہی لے لیتے ہیں اوراب کراچی کی مختلف کچرا کنڈیوں سے آئے روز نومولود بچوں کی لاشیں ملتی ہیں اور ان ملنے والی نومولود لاشوں میں سے اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے۔
یہ لڑکیاں کون ہیں؟ کیوں کوئی ان کو جنم نہیں دینا چاہتا؟ یہ کیسا حالات کا جبر ہے کہ ہم صدیوں سے اس انسانی صنف سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور ہماری جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ کسی نے بہت خوب لکھا تھا کہ ہم ہرروز بستر پر عورت تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر کسی لڑکی کی پیدائش ہمیں گوارا نہیں ہے۔ اور پھر اس ننھی معصوم سی زندگی سے جان چھڑانے کی اتنی بھی کیا جلدی کہ ہم نے اس سے پیدائش کا حق بھی چھین لیا۔ پہلے تو جدید سائنسی آلات سے ہی پانچویں یا چھٹے مہینے پتہ چل جاتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے اور پھر اگر لڑکی ہے اور ہمیں نہیں چاہیے تو ہم اس کی زندگی کا فیصلہ کرلیتے ہیں کہ اس کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کردینا ہے۔
اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نا ہوسکے تو پیدا ہوتے ہی ہم اس سے زندگی کا حق چھین لیتے ہیں اور پھر یہ معصوم سی جان ماں کی کوکھ سے گود میں آنے کی بجائے کچرا کنڈی میں کسی کوڑے کے ڈھیر پر ملتی ہے۔ اسی سبب ہمسایہ ملک میں دوران حمل الٹرا ساونڈ پر قانونی طورپر پابندی ہے کہ ڈاکٹر بچے کی جنس سے متعلق نہیں بتائے گا وگرنہ اس کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ہم ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود اس پر کوئی پابندی نہیں لگا سکے۔ اس کی روک تھام نہیں کرسکے۔ چلیں حکومت تو اپنا فرض کسی دن پورا کرہی لے گی مگر بطور انسان ہم شعور کی کس منزل پرہیں اور کیا کررہے ہیں۔ ہم نے تو ثابت کردیا ہے کہ ہم زمانہ جاہلیت کے اب عرب قبائل سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں جو اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے۔ ان کے ہاں بھی شاید کچھ اخلاقیات تھیں کچھ اصول تھے۔ اس وقت عمومی طورپر رواج یہ تھا کہ جس گھر میں لڑکی پیدا ہوتی تو اس کی چھ سال تک پرورش کی جاتی تھی اور جب اس کی عمر چھ سال ہوجاتی تو اس کو اچھے کپڑے پہنائے جاتے اور خوشبو وغیرہ لگا کر باپ صحرا کی طرف لے کر چلا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں زندہ دفن کردیتا تھا۔
قتل یہ بھی تھا مگر کم سے کم یہ لڑکی اپنے والدین کی شفقت سے ان کے نسب سے محروم نہیں ہوتی تھی اپنی ماں کے زیرسایہ پروان چڑھتی تھی اور بعض اوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ والدین سے انسیت اور محبت اس قدر بڑھ جاتی کہ وہ قتل کا ارادہ ہی ترک کردیتے تھے۔ مگر ہم نے زمانہ جاہلیت کو بھی مات دے دی ہے اور ماں کی کوکھ میں ہوتے ہوئے ہم اس لڑکی کی قسمت کا فیصلہ کردیتے ہیں۔
آج کے دور میں یہ بھی تو ایک سوال ہے کہ ہمیں صرف اولاد میں لڑکا ہی کیوں چاہیے؟ ایسا کیا ہے جو ایک لڑکی اپنے والدین کے لئے نہیں کرسکتی اور لڑکا کرسکتا ہے۔ آج کے دور میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی زندگی کے اُن تمام شعبہ جات میں اسی طرح کردار ادا کرسکتی ہے جس طرح لڑکا کرسکتا ہے۔ آج کی دنیا میں عورت کو جہاں پر کچھ حقوق ملے ہیں اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی قدرت کی ایک بہترین تخلیق ہے اس میں بھی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ آج کی عورت ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، بزنس مین، کھلاڑی اور دیگر شعبہ جات میں مردوں سے آگے یا اُن کے شانہ بشانہ ضرور ہے۔
تو پھر مسئلہ کیا ہے میرا جہاں تک خیال ہے کہ مسئلہ جنس کا نہیں ہے مسئلہ ہماری اپنی سوچ کا ہے۔ ہماری طرز معاشرت، سماج اور ماحول کا ہے۔ ایک مردانہ سوسائٹی میں شاید عورت کا وجود اس لیے تو قابل قبول ہے کہ وہ مرد کی جنسی خواہشات کی تکمیل کرے اُس کی اولاد کی پرورش کرے اور اس کے لئے گھر میں دیگر سہولیات کے لئے کام کرے مگر بطور ایک فرد اُس کو معاشرے میں ایک الگ مقام دینا شاید ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے وہ والدین جن کے ہاں پہلے بیٹیوں کی پیدائش ہوتی ہے وہ بیٹا پیدا کرنے کی آس میں مسلسل بیٹیاں ہی پیدا کیے جاتے ہیں کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں پر ایک بیٹے کی امید پہ کئی بیٹیاں پیدا کرلی گئیں۔ یا پھر بیٹیوں کی مسلسل پیدائش پر لوگ دوسری شادی بھی کرلیتے ہیں کہ دوسری بیوی سے شاید بیٹا پیدا ہوجائے۔
اب آخری سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ حل کیسے ہوگا تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مذہب آپ کو بیٹا اور بیٹی میں فرق نہیں کرنے دیتا اور دونوں کی تعلیم وتربیت کا حکم دیتا ہے اور بیٹوں کی طرح بیٹیوں کے حقوق بھی بتاتا ہے مگر مذہب کو تو ہم نے بالائے طاق رکھ دیا اور مذہب کی ایک بھی نامانی اور نا سنی جس کا ثبوت یہ ہے کہ آئے روز کچرا کنڈی کے ڈھیر سے نومولود لڑکیوں کی لاشیں ملتی ہیں۔ اب اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ریاست اس مرحلے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور سوسائٹی میں مرداور عورت کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے عورتوں کی مختلف شعبہ جات میں حوصلہ افزائی کرے۔
عورتوں کی تعلیم، روزگار اور تحفظ کو یقینی بنائے جس سے عام آدمی جو سماجی اور معاشی جبر اور دباؤ کا شکار ہے کے لئے بیٹی پیدا کرنا ایک طعنہ نا ہو بلکہ ایک اطمینان بخش مرحلہ ہو۔ ا س کی بیٹی جب دنیا میں ترقی کی منازل طے کرے گی تو یہ خالی اس عورت کی کامیابی کا سفر نہیں ہوگا بلکہ یہ اس معاشرے میں موجود دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک مثال ہوگا۔ ریاست کو ایک قدم آگے بڑھ کر عملی طورپر عورت کے بہتر مستقبل کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ آج بھی اگر ریاست یہ طے کردے کہ سرکاری نوکریوں میں سے آدھی خواتین کے لئے مختص ہیں اور آدھی مرد حضرات کے لئے تو یقین کرلیں کہ ایک انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ معاشی دباؤ سے نجات کی یقین دہانی ہی عورت کے عزت اور وقار کی یقین دہانی ہے۔


