میڈم اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی تقریر اور عقیدے کی چھلنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے میڈم اے سی اٹک صاحبہ کی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کی گئی اسلام اور آئین پاکستان مخالف تقریر ملاحظہ فرمائیں۔

”۔ اور دیکھیں کہ عورتوں کے حقوق۔ کتنے ضروری ہیں اور خواتین کا احترام کرنے سے آپ کتنے بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نان مسلمز پاکستانی کے رائیٹس ہیں۔ میں سنی ہوں، یہ تو شیعہ ہے یا یہ تو احمدی ہے، آپ نے کسی کو کسی بھی بیسز (بنیاد پر) ڈسکرمینیٹ (تفریق) نہیں کرنا، آپ کا اپنا مذہبی عقیدہ ہے اور ان کا اپنا مذہب ہے۔ ہر ایک کے مذہب کو ریسپیکٹ (عزت) دیں کیونکہ ہمارے قران پاک میں اللہ تعالی کا حکم ہے کہ کسی کے مذہب کو برا مت کہو ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں آپ کے مذہب کو برا کہے۔ تو تمام مذاہب کو اہمیت دیں۔

آپ کو بھی کہوں گی کہ یہ مائینارٹی (اقلیت) کا لفظ ٹھیک نہیں ہے نان مسلم پاکستانی۔ ہمیں ان کے جو ڈیو رائیٹس ہیں وہ دینے ہیں۔ ان کو ان کا ڈیو ریگارڈ دینا ہے۔ آپس میں بھی ہم تفرقہ بازی میں انفارچونیٹلی (بدقسمتی سے ) پھنس چکے ہیں فلاں شیعہ ہے فلاں سنی ہے، فلاں احمدی ہے فلاں وہابی ہے ان سب ڈفرنسی ایشن (تفرقات) کو ختم کر کے صرف اور صرف اپنی شناخت ایک مسلمان ایک پاکستانی بنانے کی ضرورت ہے۔

جب ہم آپس کے تمام ڈفرنسز (اختلافات) کو ختم کریں گے، محنت کریں گے، یہاں بچے بھی موجود ہیں، تو ہم ایک بہتر مستقبل اور بہتر پاکستان، سٹرانگ پاکستان کو کارو آؤٹ (بنانا) کر سکتے ہیں ایسا پاکستان جس کی طرف تمام مسلم ورلڈ دیکھتی ہے، کہ یہ مسلم ورلڈ میں جہاں پہ بھی مظالم ہوتے ہیں تو (مسلم دنیا کی) پاکستان کی طرف نظر جاتی ہے کہ پاکستان کچھ نہ کچھ کرے گا لیکن ہمارا جب تک گھر کمزور ہے ہم انٹرنلی (اندرونی طور پر) کمزور ہیں تب تک ہم اتنی زیادہ اس طرح سے انٹرنیشنل سیناریو میں نہیں تبدیلی کر سکتے، لیکن جب ہم گھر سے مضبوط ہوں گے، ہم خود مضبوط ہوں گے، ہمارے آپس کے تمام ڈفرنسز (اختلافات) ختم ہوں گے اور ہم یونائیٹ (متحد) ہوں تبھی ہم یہ جو دشمن ہے جو ایکسٹرنل اور جو اینی میز (دشمن) ہیں اور جہاں جہاں پہ ظلم ہو رہا ہے مسلمانوں کے خلاف وہاں پہ آواز اٹھا سکیں (گے ) ۔

تو سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ۔ جو ہمارا اسلام اتنا خوب صورت ریلیجن (مذہب) ہے اتنا خوب صورت دین ہے اس کی سنہری تعلیمات پہ عمل کریں تو کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی ہمارے لیے کسی اور گائیڈنس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے لیے تمام جو ایک کوڈ آف لائیف ہے پرفیکٹ ترین کوڈ آف لائیف ہے ”

پوری تقریر تو نیٹ پر مل نہیں سکی، جو ٹکڑے موجود ہیں انہیں میں نے یہاں لکھ دیا ہے۔ تقریر کے معیار کو تو چھوڑ ہی دیں، یہ آج کا موضوع نہیں ہے۔ اور ویسے بھی ہمارے تعلیمی نظام اور مطالعہ پاکستان سے توقع بھی اتنی ہی ہے۔

اب آتے ہیں اصل معاملے کی جانب، اگر یہ تقریر عقیدے کی چھلنی سے نہیں گزر سکتی تو سمجھ لیں کہ معمولی نوعیت کے سنجیدہ سوال کی گنجائش تو ممکن ہی نہیں۔

صورت حال یہ ہے کہ اس تقریر میں بھی ہونہار پاکستانی مسلمان نوجوانوں نے مذہبی لحاظ سے ناقابل قبول مواد تلاش کر لیا ہے۔ اور نہ صرف تلاش کر لیا ہے بلکہ ان کے جذبات اتنے مجروح ہوئے ہیں کہ انہوں نے اسی وقت ایکشن لے لیا۔ ایکشن بھی اس لیول کا کہ ہمارے ملک کی مضبوط بیوروکریسی کو ہلا کے رکھ دیا۔ ضلح لیول کی انتظامیہ جو عام شہریوں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی ہے انہیں بھی جھکنا پڑا اور نہایت توہین آمیز انداز میں کیے گئے سوالات کے جواب دینے پڑے۔ انہیں اپنے ذاتی عقیدے کے متعلق بتانا پڑا کہ وہ کیا ہے اور کیسے اس نوجوان کے عقیدے سے مختلف نہیں ہے۔ اور عقیدے کی وضاحت میں یہ کافی نہیں تھا کہ ”میرے بیٹے کا نام محمد ہے“

وہ تو میڈم شکر کریں کہ وہ پاکستان کی ایک عام شہری نہیں ہیں ورنہ تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ جیلوں کی کال کوٹھڑیوں سے لے کر زندہ آگ میں پھینکے جانے سمیت سب کچھ ہی ہو چکا ہے۔

بہت سے لوگ تو اس واقعے پر بالکل بھی حیران نہیں ہیں کیونکہ انہیں خبر تھی کہ ہم کس سمت بڑھ رہے ہیں۔ مذہب کا سیاست میں استعمال کبھی بھی خیر کی خبر نہیں لائے گا۔ میں بھی حیران نہیں ہوں۔ کون سی بات ہے اس میں حیران ہونے کی۔ ہم نے یہ نسل خود تیار کی ہے۔ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے یہی کر رہے ہیں۔

اس نوجوان کو کیسے پتا چلا کہ اس کا مذہب کیا ہے اور اس کی حفاظت اس نے کیسے کرنا ہے۔ اسے کس نے بتایا کہ تمھارا عقیدہ سب سے اتم ہے اور باقی لوگوں کا عقیدے تم سے کمتر اور جھوٹے ہیں۔ اس نے یہ کہاں سے جانا کہ یہ سب لوگ تمھارے عقیدے کے دشمن ہیں اس لیے تم نے چوکنا رہنا ہے اور انہیں موقع نہیں دینا کہ وہ تمھارے عقیدے کو نقصان پہنچا سکیں۔ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچا ہے کہ اس کے عقیدے کو حفاظت کی خاص اور الگ ضرورت ہے۔

حفاظت میں یہ بھی شامل ہے کہ باقی سب لوگ تو تمہارے عقیدے کا احترام ظاہر کریں اور اس میں کبھی بھی کوتاہی نہ کریں تم پر دوسروں کے عقائد کو احترام دینا لازم نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تو جھوٹے ہیں۔ اس لیے تم تو ان پر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سرعام لعنتیں بھیج سکتے ہو اور بھیجتے رہو۔ اس سے تمھارا عقیدہ محفوظ رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 220 posts and counting.See all posts by salim-malik