بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ کا دھارا موڑنے والا جرثومہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو طاعون کا جرثومہ ہے اور نہ ہی ہسپانوی فلو جیسی وبا کا باعث۔۔۔ یہ کہانی ایک ایسے جرثومے کی ہے جس نے آج تک ایک انسان کو بیمار نہیں کیا لیکن لاکھوں انسان اس کی وجہ سے لقمہ اجل بنے، اور آج تک اس جرثومہ کے سیاسی اثرات آپ دیکھ سکتے ہیں۔

اب تھوڑا پیچھے چلتے ہیں، بیسویں صدی کے آغاز میں کسی وجہ سے رسد میں کمی کے باعث قدرتی ربڑ کی قیمت میں ایک دم اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی قیمت کو کم کرنے یا ربڑ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے یورپ بھر کے کیمیا دان مصروف ہوجاتے ہیں اور ان کا مقصد قدرتی ربڑ کا سستا متبادل بنانا ہے۔ مصنوعی ربڑ کی تیاری میں ایک مخصوص الکوحل (آئیسومائیل الکوحل) چاہیے ہوتا ہے اور اس وقت کے کیمیا دان اس کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح سے کوئی سستا اور آسان ذریعہ مل جائے کہ جس کی مدد سے مذکورہ الکوحل حاصل کی جا سکے۔ ایسے ہی کیمیا دانوں میں ڈاکٹر وائیزمین بھی شامل ہیں۔ اپنی ان کوششوں میں ڈاکٹر وائیزمین ایک ایسے جرثومہ کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو  الکوحل جیسی بُو پیدا کرتا ہے (مطلب الکوحل بناتا ہے)۔

ڈاکٹر وائیزمین کا جوش بڑھنے لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے مقصد کے قریب پہنچ چکے ہیں مگر قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ جرثومہ آئیسومائیل الکوحل کی بجائے بیوٹانول اور دیگر چند نامیاتی مرکبات بناتا ہے، یعنی کوئی ایک خالص الکوحل بھی نہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر وائیزمین کے ایک سینئر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس بیکار جرثومے کو تم پھینک ہی دو، مگر ڈاکٹر وائیزمین نے ایسا نہ کیا اور اپنی اس دریافت کو مستقبل کے لئے سنبھال کر رکھ لیا، اور حسنِ اتفاق سمجھیں کہ کچھ عرصہ میں ربڑ کی قیمت بھی کم ہونے لگی اور ڈاکٹر وائیزمین سمیت سارے کیمیا دان مصنوعی ربڑ کو بھول بھال کر اپنے دوسرے کاموں میں پھر سے مصروف ہوگئے۔

“ہاں تو ڈاکٹر وائیزمین، ہمیں تیس ہزار ٹن ایسیٹون کی ضرورت ہے۔ کیا آپ یہ بنا سکتے ہیں؟” یہ الفاظ سر ونسٹن چرچل کے ہیں جب انھیں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم نے فرسٹ لارڈ آف ایڈمریلٹی مقرر کیا تھا (یہ عہدہ پاکستانی سیاست کے حساب سے سمجھ لیں کہ برطانوی وزیراعظم کے ‘خصوصی سول مشیر برائے بحری افواج’ قسم کی چیز ہے)۔

سر ونسٹن چرچل نے یہ الفاظ ڈاکٹر خائم وائیزمین سے اپنی ایک ملاقات میں کہے تھے۔ ڈاکٹر وائیزمین ایک روسی نژاد یہودی کیمسٹ تھے جو اتفاق سے چرچل کے حلقہ انتخاب مانچسٹر میں مقیم تھے۔ ڈاکٹر وائیزمین نہ صرف ایک سائنسدان تھے بلکہ پرطانیہ میں یہودیوں کی قومی سیاسی تنظیم صیہونی تحریک کے سرکردہ رہنما بھی تھے۔

ڈاکٹر وائیزمین اور سر ونسٹن چرچل کی اِس ملاقات کا پس منظر تازہ تازہ چِھڑی ہوئی پہلی جنگِ عظیم ہے۔ برطانوی بحریہ جو کہ اب تک سمندروں پر راج کرتی چلی آرہی تھی، اب جرمن بحریہ سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ اس جنگ کی شروعات میں ہی برطانوی بحریہ کو ایک نہایت سنگین نوعیت کے بحران کا سامنا ہوا۔ اس بحران کی شدت اس قدر دگرگوں تھی کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ برطانوی بحریہ کو دشمن سے مقابلہ کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑنے لگا۔ اور اگر اس بحران کا بروقت حل نہ نکالا جاتا تو عین ممکن تھا کہ شاید تاریخ میں پہلی بار صدیوں سے ناقابل شکست سمجھی جانے والی دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت، جرمنی کی تقریباً نوزائیدہ بحریہ کا مقابلہ ہی نہ کرپاتی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی ایسا بھی کیا مسئلہ تھا، تو سنئے برطانیہ کی بحریہ کو پہلی جنگ عظیم کی شروعات میں ایسیٹون کی قلت کا سامنا تھا۔ اگر آپ خاتون ہیں تو آپ نے لازمی طور پر نیل پالش ریمور استعمال کیا ہوگا اور اگر آپ خاتون نہیں ہیں تو بھی آپ نے اپنے گھر کی خواتین کے لئے کبھی نہ کبھی نیل پالش ریمورخریدا ضرور ہوگا۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہاں نیل پالش ریمور کا کیا ذکر، کیا برطانوی بحریہ کے افسران کو جنگ کے لئے اپنی بیگمات کی نیل پالش صاف کروانا تھیں۔ جی نہیں دراصل نیل پالش ریمور کا بنیادی جزو ایسیٹون ہوتا ہے، یہ ایک نامیاتی محلول ہے جو کہ مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ برطانوی بحریہ کو نہ تو کسی کی نیل پالش اتارنا مقصود تھی اور نہ ہی اپنے بحری جہازوں کا پینٹ، بلکہ ایسیٹون بحری جہازوں پر نصب توپوں سے داغے جانے والے گولے بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

کسی بندوق کی گولی سے لیکر بڑی سے بڑی توپ کے گولےتک سب کی ساخت بنیادی طور پر ایک ہی ہوتی ہے، نوکدار حصہ میں اصل کارتوس یا دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جو کہ دشمن کو زخمی کرتا ہے یا اپنے ہدف کو تباہ کرتا ہے مگر اس کے پچھلے حصے میں ایسے کیمکل ہوتے ہیں جو چوٹ کھاتے ہی گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور کارتوس کو آگے کی طرف دھکیلتے ہیں۔ زیر نظر تصویر میں آپ پہلی جنگ عظیم میں برطانوی بحریہ کے زیر استعمال گولے کی ساخت دیکھ سکتے ہیں۔

آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اگلا نوکدار حصہ دشمن کے بحری جہاز کو تباہ کرنے والا ہے جبکہ اس کے پیچھے ڈوریوں کا ایک گُچھا سا ہے۔ یہ گُچھا ‘کورڈائیٹ’ نامی کیمیکل کاہے اس کو انگریزی میں پروپیلنٹ یا دھکیلنے والا کہتے ہیں کیونکہ جیسے ہی اس پر توپ داغے جانے سے چوٹ پڑتی ہے تو یہ فوراً ہی گیسوں میں تبدیل ونے لگتا ہے اور کارتوس کو اس کے ہدف کی طرف شدت کے ساتھ دھکیلتا ہے۔

جی ہاں اسی کورڈائیٹ کے بنانے میں ایسیٹون استعمال ہوتا ہے اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں برطانوی بحریہ ‘نیل پالش ریمور’ یا ایسیٹون کی قلت پر اتنا پریشان کیوں تھی۔ کیونکہ جس کے پاس جتنا زیادہ ایسیٹون ہوگا وہ اتنے زیادہ گولے بنا سکے گا اور جو جتنے زیادہ گولے بنائے گا وہ اتنے زیادہ گولے داغ کر دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکے گا۔

پہلی جنگِ عظیم تک ایسیٹون درختوں سے کشید کیا جاتا تھا مگر ایک تو یہ بہت مشکل اور لمبا کام تھا اور دوسری طرف حاصل ہونے والی ایسیٹون کی مقدار بھی کافی کم تھی۔ اس روایتی طریقے میں جرمنی کو برطانیہ پر ایک فوقیت یہ حاصل تھی کہ برطانوی جزائر میں جنگل نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ جرمنی اس حوالے سے خود کفیل تھا۔ اس صورتحال میں پہلی جنگ عظیم کے شیل کرائسس نے جنم لیا۔ آپ اس بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مارچ 1915ء میں لڑے جانے والے نیو چیپل معرکے میں صرف 35 منٹ کی بمباری کے دوران برطانوی توپوں نے اتنے گولے برسائے جتنے کہ اس سے پہلے کی پوری جنگِ بور (1899ء-1902ء Boer -) میں نہیں برسائے گئے تھے۔

سر ونسٹن چرچل کے ساتھ اس ملاقات میں ڈاکٹر وائیزمین کو اپنے اُس الکوحل بنانے والے جرثومہ کا خیال آیا کہ ان کا دریافت کردہ جرثومہ بیوٹانول کے ساتھ ساتھ ایتھانول اور ایسیٹون بھی بناتا تھا مگر ایسیٹون کی مقدار بہت معمولی تھی۔ چرچل کو ڈاکٹر وائیزمین کا جواب یہ تھا ؛

‘اب تک میں عملِ تخمیر (فرمنٹیشن) کی مدد سے قلیل مقدار میں ایسیٹون بنانے میں کامیابی حاصل کرچکا ہوں، مزید تحقیق سے ایسیٹون کی پیداوار اگر ایک ٹن تک بڑھائی جا سکی تو پھر جتنی مقدار بھی آپ کو چاہیے ہو گی، حاصل کی جا سکے گی، لیکن اس کے لئے مجھے حکومتی سرپرستی اور مدد کی ضرورت ہوگی۔’

Dr, Chaim Weizmann, (1874-1952), (Photo by Popperfoto via Getty Images/Getty Images)

سر ونسٹن چرچل سے آشیرباد ملنے کے بعد ڈاکٹر وائیزمین اپنے جرثومہ سے ایسیٹون کی زیادہ سے زیادہ مقدار کے حصول میں جُت گئے اور چند ماہ بعد ہی مئی 1915ء میں انھوں نے سر ونسٹن چرچل کے سامنے 100 ٹن غلے سے 12 ٹن ایسیٹون حاصل کر تے ہوئے اپنی کامیابی کی نوید سنا دی۔ یہی وہ وقت ہے کہ جب شیل کرائسس اپنی شدت پر تھا اور برطانوی افواج کی توپیں اوسطً پورے دن میں محض 4 گولے ہی داغ رہی تھیں۔ ایسی صورتحال میں جب برطانیہ کو اپنی شکست بڑی واضح نظر آرہی تھی، ڈاکٹر وائیزمین کا دریافت کردہ جرثومہ ایک معجزہ ثابت ہوا۔

ملک بھر میں اسلحہ سازی کے نئے کارخانے لگائے گئےاور شراب کی بھٹیوں کو عملِ تخمیر کی مدد سے ایسیٹون بنانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ ان اقدامات کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور 1914ء میں جنگ ِ عظیم کے ابتدائی 5 ماہ میں برطانیہ میں جہاں صرف پانچ لاکھ گولے تیار کئے گئے تھے وہیں 1917ء میں گولوں کی پیداوار بڑھ کر پانچ کروڑ سالانہ ہوگئی تھی اور ایک اندازے کے مطابق جنگ کے اختتام تک صرف برطانوی توپوں نے سترہ کروڑ گولے اپنے دشمنوں پر برسائے۔

ڈاکٹر وائیزمین کی اس کوشش اور کامیابی کا صلہ برطانوی حکومت نے 2 نومبر 1917ء کو بالفور ڈیکلیریشن کی شکل میں دیا جس میں برطانوی حکومت نے فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن کے قیام کے صیہونی مطالبےکو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ بالفور ڈیکلیریشن کو ڈاکٹر وائیزمین کی ذاتی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت ڈاکٹر خائم وائیزمین کو ان کی قومی، سیاسی اور سائنسی خدمات کے اعتراف میں اسرائیل کے بانی صدر کے عہدے سے نوازا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •