سانحۂ پی آئی سی میں حکومت اور میڈیا کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے ”شو بازیوں کا دور گزر چکا ہے۔ “ اور الیکشن کے بعد تحریک انصاف کی منتخب حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ اس لئے عمران خان اینڈ کمپنی کو چاہیے۔ مخالفین پہ کرپشن کے راگ الاپنا بند کریں اور کھوکھلے دعووں کی بجائے صرف کام پہ توجہ دیں۔

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے ”شہباز شریف نے دھیلے کی نہیں، اربوں کی کرپشن کی ہے۔ “ یہ الگ بات ہے کہ ہم ارب کی بجائے، ایک دھیلا بھی ثابت نہیں کر پائے۔ اور اسے ثابت کرنا اتنا ضروری بھی نہیں سمجھتے۔ بس ہم نے ’کرپشن کہانی‘ کے سہارے اقتدار حاصل کرنا تھا جو کہ ہم کر چکے۔ اور احمقوں کی جنت میں پانچ سال اسی کرپشن کہانی کے بل پہ گزار لیں گے۔

ن لیگ کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا ہے ”حکومتی دباؤ سے ڈرنے والا نہیں، خود گرفتاری دوں گا۔ “ مجھے اندازہ ہے ن لیگی قیادت کے بیرون ملک فرار کے بعد، اب میری ہی باری ہے۔ اس لئے اگر رضا کارانہ طور پر گرفتاری کے لئے پیش نہ ہوا تو بھی دھر لیا جاؤں گا۔ تو پھر کیوں نا سیاسی ہیرو بنا جائے۔

اب کچھ بات ہوجائے سانحہ پی آئی سی کے تناظر میں حکومت اور میڈیا کے کردار کی۔

گو کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ عمرانی ٹولہ ہر حکومتی معاملے میں نااہل ثابت ہوا ہے۔ لیکن سانحۂ پی آئی سی کے حوالے سے حکومت کی نا اہلی نظر نہیں آتی۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں ایک ماہ پیچھے جانا ہوگا۔ جب مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی دھرنے کی اجازت دی گئی تو اس لاکھوں کے اجتماع میں بہت سے ڈنڈا بردار اور کچھ اسلحہ بردار بھی موجود تھے۔ پھر بھی یہ سب رومانس خیر و عافیت سے بیت گیا۔ کیوں؟

کیونکہ دھرنے کے شرکاء کو کسی مخالف گروہ کا سامنا نہیں تھا۔ ورنہ حکومت کا اس دھرنے کو پُرامن رکھنے میں کوئی کردار نہیں۔

اس سے پہلے عاشورہ 2013 ء کے موقع پر، روالپنڈی راجہ بازار میں جب اہل تشیع کے ایک چھوٹے سے پُرامن ماتمی جلوس کا اپنی مخالف جماعت سے سامنا ہوا تو دس کے قریب انسانی جانیں چلی گئیں۔

ایسے ہی جو لوگ سانحہ پی آئی سی کے رونما ہونے کو حکومت کی کمزوری گردان رہے ہیں۔ دراصل انہیں اصل حقائق کا اندازہ نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے جب سات کلومیڑ دور سے وکلاء کا ریلا چلا آ رہا تھا تو اسے کیوں نہ روکا گیا؟

حکومتی اداروں کا اسے روکنا بنتا ہی نہیں تھا۔ گو کہ موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ لیکن یہ ایک پُرامن احتجاج تھا۔ جو ایک گھنٹہ، ہسپتال کے مین گیٹ پر بھی جاری رہا۔ اور قارئین اب تک وہ ویڈیوز بھی دیکھ چکے ہوں گے جس میں ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے وکلاء نے ایمبولینس کو راستہ دیا۔ پھر جب ہسپتال کی چھت سے اینٹوں اور پتھروں کی بارش شروع ہوئی تو وکلاء بھی لڑائی پہ اتر آئے۔ اور پولیس کو امن قائم کرنے کے لئے بیچ میں کودنا پڑا۔ اور اس دھینگا مشتی میں، جہاں سینکڑوں کی تعداد کے حامل دو گروہ آپس میں برسرِ پیکار تھے۔ انہیں منتشر کرتے کرتے اتنا نقصان ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس سارے پس منظر میں حکومت کی نا اہلی تو کہیں نظر نہیں آتی۔

بلکہ یہ حکومت کا مخلصانہ رویہ تھا۔ کہ تلافی کے طور پہ، پھینٹی لگوانے کے لئے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو پیش کر دیا۔ وہ تو عمران خان کو مصروفیات آڑے آ گئیں۔ ورنہ گمان غالب تھا کہ وہ خود اس کار زار میں کودتے۔ اور 2007 ء پنجاب یونیورسٹی والی تاریخ دہرائی جاتی۔

اب کچھ میڈیا کا ذکر ہوجائے۔

آج اگر یہ آزاد ہے تو اسے غیر جانبدار بھی رہنا چاہیے۔ اور کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کی جھولی میں نہ بیٹھے۔ ورنہ پھر میڈیا کو شکایت ہوتی ہے جیسے 2014 ء والے دھرنے میں کچھ میڈیا ہاؤسسز کے نمائندگان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔ کیا کسی بھی میڈیا ہاؤس میں اتنی اخلاقی جرات ہے؟ کہ وہ وکلاء کے ایمبولینس کو راستہ دینے والی ویڈیوز آن ائیر کر سکے۔

آخر کیا وجہ ہے؟ ہم کسی ایک نیوز چینل کو ایک سیاسی پارٹی کا قلعہ سمجھتے ہیں۔ اور دوسرے نیوز چینل کو کسی دوسری جماعت کا ہوم گراؤنڈ۔ اور سوشل میڈیا کے متعلق تو کچھ کہنا ہی عبث ہے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا بھی کبھی کبھی ہمارے محلے کی مائی رحمتے کا کردار ادا کرنا نہیں بھولتا۔

پہلے کہا گیا کہ درجنوں مریض جاں بحق ہوئے۔ پھر شاید ملک الموت سے غلطی ہوگئی۔ اور چھ سے کم ہوتے ہوتے مرنے والوں کی تعداد چار رہ گئی۔ جو اب تین ہو گئی ہے۔ پھر کل ایک ویڈیو الیکٹرانک میڈیا پہ دکھائی گئی۔ جس میں بیچ سڑک کے، ایک شخص پستول تانے کسی نہتے شہری پہ تشدد کر رہا تھا۔ اور عزت مآب اینکر پرسن فرمانے لگے کہ یہ ظالم شخص بھی ایک وکیل ہے۔ اور نجی ہاؤسنگ کالونی کا رہائشی ہے۔ ’نجی ہاؤسنگ کالونی‘ سے میرا دھیان بحریہ ٹاؤن پہ چلا گیا۔

کیونکہ ہمارا آزاد میڈیا ابھی اتنا نمک حرام نہیں ہوا کہ اپنے محسنین کی عزت اچھالے۔ اسی اثناء میں ایک دوسرے نیوز چینل سے بتایا گیا کہ وہ صاحب ایک بنک مینجر ہیں۔ پہلے تو صرف سوشل میڈیا پہ بیٹھے دانشور ایسی بونگیاں ہانکا کرتے تھے۔ اب خیر سے الیکٹرانک میڈیا کے بڑے بڑے نام بھی ان میں شامل ہو رہے ہیں۔

ایک اور خبر بھی میڈیا پر چلی۔ جس سے ان دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ جب مجھے اپنے تئیں نئی نئی عقل آئی تھی۔ تب میں حکومتِ وقت کی کافی طرف داری کیا کرتا تھا۔ مخالفت میں جب یار لوگوں سے کچھ نہ بن پڑتا تو دشنام طرازی پہ اتر آتے۔ اور کہتے تم کیوں حکومت کی اتنی حمایت کرتے ہو۔ کیا وزیراعظم تمھارا ’ماما‘ لگتا ہے؟

اور میڈیا پہ حسان نیازی ایڈووکیٹ کی خبر دیکھی تو سوچنے لگا کہ چلو میرے نہ سہی، ان صاحب کے تو ماموں ہی لگتے ہیں۔ اسی لئے پانچ چھاپوں کے بعد بھی وہ پولیس کے ہاتھ نہ آسکے۔ ویسے پنجاب پولیس جو کہ ملزمان کو پکڑنے میں ضرورت سے زیادہ مہارت رکھتی ہے۔ اسے تو چاہیے تھا پہلی ریڈ میں ہی حسان نیازی کے ابا جی کو اٹھا لاتی۔ کہ ہمارے ہاں تو ملزم پکڑنے کے لئے ایسا نایاب طریقہ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •