کیا طاقتوروں کو سزا ملنا شروع ہو گئی ہے؟
ابھی وزیر اعظم عمران خان کی صدائے باز گشت فضا ہی میں تھی کہ عدالتوں نے طاقتوروں کے خلاف پے در پے فیصلے دینا شروع کر دیے۔ ہم جتنی جلد یہ فیصلہ کر لیں گے کہ طاقت کے قانون کے بجائے قانون کی طاقت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا اتنا ہی جلدی مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ راقم الحروف نے کچھ روز قبل اپنے کالم میں لکھا تھا کہ بابا ئے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان جیسی سیاسی بصیرت سے مالا مال اور جہاندیدہ شخصیت نے بالکل درست کہا تھا کہ جنرل مشرف وہ آخری آرمی چیف ہو گا جو مارشل لا لگائے گا اور پہلا آرمی چیف ہوگا جس پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہو گا۔ آج بابائے جمہوریت کی پیشن گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔
پاکستان جیسے مارشل لاٶں کے مارے ملک میں جہاں کئی ڈکٹیٹروں نے سال ہا سال تک خود کو آئین و قانون سے بالا تر سمجھتے ہوئے سیاہ و سفید کا مالک سمجھا اور نہ صرف اختیارات کی جنگ میں ملک کے اداروں کو تباہ کیا، تعمیر و ترقی کے سفر کو بار بار بریک لگائی بلکہ اس رسہ کشی میں ملک کو بھی دو لخت کر دیا;وہاں پاکستان کی تاریخ کے بد ترین اور سفاک ترین آمر کو خصوصی عدالت سے موت کی سزا ملنا بہت انقلاب آفریں اور خوش آئند فیصلہ ہے۔
یہ بات بھی معنی خیز اور مثبت ہے کہ ڈکٹیٹر مشرف پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ نواز شریف کے جمہوری دور میں چلایا گیا اور جنرل مشرف کو اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا۔ سابق چیف جسٹس جناب ثاقب نثار ڈیم والے نے تو آئین و قانون سے ماورا جا کر ذاتی طور پر بے شمار مراعات اور سہولیات کے عوض مشرف کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔ جب اسحٰق ڈار اور دوسرے ن لیگیوں کے خلاف جائز ناجائز مقدمات قائم کر کے ان کی جائز املا ک ضبط کی جارہی تھی عین اس وقت سابق چیف جسٹس نے جنرل صاحب کی ممکنہ آمد کے پیش نظر ان کے چک شہزاد والے محل کی تزئین و آرائش کی فراخدلانہ پیشکش بھی کر دی تھی۔ مگر اپنے دورسیاہ میں طاقت و تکبر کے زعم میں کمزوروں کو مکے دکھانے والے کمانڈو جنرل کو حوصلہ نہ ہوا کہ وہ پاکسان آکر عدالتوں کا سامنا کرے۔
پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام جمہوریت پسندوں نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یقیناً یہ فیصلہ ملک میں جمہوری قوتوں کو تقویت دے گا۔ ووٹ کو عزت ملے گی۔ جمہور اور جمہوریت دشمن قوتوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ الیکشن چوری کرنے والے اور سویلین وزرائے اعظم کو پھانسیاں دینے والے اور ان کی مدت مکمل نہ ہونے دینے والے منہ کی کھائیں گے۔ ن لیگ کے احسن اقبال نے بجا طور پر کہا ہے کہ اگر ایسا فیصلہ 71 سے پہلے آ جاتا تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا۔
عمران خان کی حکومت یقیناً اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی۔ عمران خان جو مشرف کے ریفرینڈم کے سرگرم داعی تھے اور حال ہی میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو رکوانے کے لیے ہائی کورٹ چلے گئے تھے، آج بری طرح پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ انہوں نے تو اپنی تقریر میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اور زیب داستان کے لیے چیف جسٹس صاحبان سے درخواست کی تھی کہ وہ طاقتور اور کمزور کے انصاف کو یکساں کریں مگر عدالتوں نے تو اسے سنجیدہ ہی لینا شروع کر دیا۔ اگر ہماری عدالتیں ایسے ہی بے باک فیصلے سناتی رہیں تو وزیر اعظم صاحب پر فارن فنڈنگ اور ہیلی کاپٹر سمیت تیرہ مقدمات زیر التواہیں، ان کا کیا ہو گا؟
قربان جائیے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر جس میں انہوں نے جنرل مشرف کے خلاف فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ جناب غصہ صرف طاقتور کو ہی نہیں آتا، کمزور اور بے بس کو بھی آتا ہے۔ کبھی کبھی تو بے غیرت اور بے حمیت کو بھی آ جاتا ہے۔ غصہ ہمیں بھی اس وقت آیا تھا جب طاقتوروں کی رسہ کشی اور زور آزمائی کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا تھا۔ غم و غصہ ہی نہیں، ہم خون کے آنسو روئے تھے۔
جناب مشرف، ہمیں بھی اس وقت بہت غصہ آیا تھا جب آپ نے حب الوطنی کا روایتی ڈراما رچا کر ایک منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹ کر اسے پابند سلاسل کر دیا تھا۔ غصہ تو ہمیں بھی اس وقت آیا تھا جب آپ نے جہموریت پر شب خون مار کر تعمیرو ترقی کے سفر کو بریک لگا دی تھی۔ غصہ اس وقت ہمیں بھی آیا تھا جب آپ نے کارگل کی مہم جوئی کے دوران میں ہمارے ہزاروں سپاہیوں کو دشمن کی توپوں کے آگے کھڑا کر دیا تھا۔ غصہ اس وقت ہمیں بھی آیا تھا جب آپ عدالت جانے کے بجائے راستے میں بیماری کا بہانہ کر کے ہسپتال میں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔
غصہ اس وقت ہمیں بھی آیا تھا جب چاروں صوبوں کی زنجیر اور دختر مشرق کا خون میں لت پت جواں لاشہ اٹھایا تھا۔ آپ کو یاد نہیں کہ اس وقت مفلوک الحال اور بے بس مظلوم دھاڑیں مار مار کر روئے تھے اور کچھ نامحمود ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے تھے۔ ۔ جنابإ آپ کو کیا کیا یاد دلائیں؟ کا ش یہ غصہ اس وقت بھی آپ کو آتا جب آیک ڈکٹیٹر نے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل کر دیا تھا۔ حضورإ کیا کیا یاد دلائیں۔
جناب إ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر جنرل صاحب کو ریلیف مل جائے گا اور برائے نام سزا ملے گی مگر کیا یہ کم ہے کہ ملک میں پہلی بار ایک طاقتور کو قرار واقعی سزا ملی ہے اوراسے آرٹیکل 6 کا مجرم قرار دے کر ٹانگنے کا حکم دیا گیا ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ بات معنی خیز ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا انقلابی اور تاریخی فیصلہ عمران خان کی حکومت میں سامنے آیا ہے۔ یقیناً یہ اعزاز خان کو جاتا ہے کہ انہوں نے عدالتوں سمیت بہت سے اداروں کو آزاد کردیا ہے۔ حکمران پارٹی کے بہت سے لوگ بشمول خان صاحب اس فیصلے کو نشانِ امتیاز کے بجائے کلنک کا ٹیکہ کیوں سمجھ رہے ہیں؟ ابھی تو حقیقی طاقتوروں کو سزا دینے کے سلسلے کا محض آغاز ہوا ہے۔


