ایک سارنگی نواز ساحر اور بے حیا چیتے کی کہانی
کہتے ہیں کہ میاں تان سین کے زمانے میں ایک ایسا سارنگی نواز ہوا کرتا تھا جس کا جواب نہیں تھا۔ وہ ایک سر چھیڑتا اور اسے سننے والا بے اختیار وجد میں آ کر اس کا حکم بجا لانے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ کوئی انسان ایسا نہیں تھا جو اس کی آواز کے سحر سے بچ سکتا ہو۔ جس تک اس کا پیام پہنچتا وہ ڈھیر ہو جاتا یا پھر کہیں دور دیس بھاگ جانے میں عافیت پاتا۔
رفتہ رفتہ سارنگی نواز کو اپنے فن کی طاقت پر بہت غرور ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ سب انسان تو میں نے مسحور کر دیے ہیں، کیا میرا بے مثال فن جنگلی جانوروں کو بھی غلام نہیں بنا لے گا؟ کیا وہ بھی جینے مرنے کے فیصلے میرے حکم سے نہیں کریں گے؟ کیا جنگل کا قانون بھی میرے حکم کے تابع نہیں ہو گا؟ یہ سوچ کر ایک دن اس نے اپنی سارنگی اٹھائی اور ایک ایسے جنگل میں پہنچ گیا جہاں خرگوش سے لے کر ہاتھی اور بلی سے لے کر شیر تک سب جانور دندناتے پھرتے تھے۔
سارنگی نواز ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ایک بارہ سنگھا آیا اور غصیلے انداز میں اس کی جانب بڑھا۔ سارنگی نواز سے اپنے ساز کو چھیڑا۔ بارہ سنگھا اس کے قدموں میں آن بیٹھا اور آنکھیں بند کر کے دراز ہو گیا۔
کچھ دیر میں ایک ریچھ آیا۔ اس نے پنجے نکالے اور تیزی سے سارنگی نواز کی طرف بڑھا۔ مگر جب قریب پہنچا تو سحر انگیز آواز نے اسے ایک معصوم ہرن کی مانند پرسکون بنا دیا۔ وہ بھی سارنگی والے کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ اب ایک مست ہاتھیوں کا غول ادھر نمودار ہوا مگر وہ بھی ساری مستی بھول کر سارنگی نواز کا حلقہ بگوش ہو گیا۔ بھیڑیوں تک نے اس کی غلامی قبول کی۔
لیکن سارنگی نواز مطمئن نہیں تھا۔ جنگل کا بادشاہ ابھی اس کا مرید نہیں بنا تھا۔ اس نے مزید اونچے سروں میں راگ چھیڑا۔ تھوڑی دیر میں ایک شیر نمودار ہوا۔ اس کی آنکھیں لال تھیں، گردن کے بال کھڑے تھے، منہ سے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے، وہ سارنگی نواز کو کھانے کے لئے تیزی سے آگے بڑھا مگر ساز کی آواز جیسے ہی اس کے کان میں پڑی وہ بھیڑ کی مانند دبک کر بیٹھ گیا۔
سارنگی نواز کو اطمینان ہوا۔ شیر ہاتھی گینڈے ریچھ بھیڑے اور ہرن سب ہی اس کا لوہا مان چکے تھے۔ انسانوں کے بعد اس نے وحشی جانوروں کو بھی سیدھا کرنے کا کمال دکھا دیا تھا۔ ابھی وہ خود کو داد دیتے ہوئے وجد میں آ کر سارنگی پر اپنے بے مثال فن کے جوہر دکھا رہا تھا کہ جنگل سے اچانک ایک چیتا نکلا اور ایک ہی جست میں اس نے سارنگی نواز کی گردن دبوچ کر اسے مار ڈالا۔
سارنگی کے سر بکھر گئے۔ سب جانور اس سحر سے نکل آئے۔ شیر کو بہت غصہ چڑھا۔ اس نے غضب آلود لہجے میں چیتے سے پوچھا ”او بے حیا چیتے، تم نے اس بے مثال سروں والے سارنگی نواز کو مارنے کی جرات کیسے کی؟ کیا تمہارے دل پر اس کی آواز کا کوئی اثر نہیں ہوا؟ کیا تم مجبور نہیں ہوئے کہ اس کا راگ سنو اور پھر اس کے مطابق اپنا فیصلہ دو؟ “
چیتے نے ایک پنجہ اپنے کان کے پیچھے رکھا اور اونچی آواز میں بولا ”کیا کہا بادشاہ سلامت؟ مجھے آواز نہیں آئی۔ میں بہت اونچا سنتا ہوں“۔
تو صاحبو، معاملہ یہ ہے کہ اگر کسی چیتے کو بروقت آواز نہ پہنچ پائے تو وہ بہت گڑبڑ مچا دیتا ہے۔ ایسا زبردست نقصان کرتا ہے کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چیتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔


