پاکستان کے ہیرو، غدار اور خواجہ سرا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد پاکستانی قوم ایک بار پھر نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک معزز جج وقار سیٹھ کی جانب سے جنرل مشرف کی موت کی صورت میں اس کی لاش کو ڈی چوک پر لٹکانے کے ریمارکس نے اس کی نفسیات اور ذہنیت کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا کر دیے ہیں ایسے ریمارکس انسانیت کی توہین اور تذلیل کے زمرے میں آتے ہیں۔

جہاں ایک طبقہ پرویز مشرف کو غدار سمجھتا ہے تو وہاں دوسرا طبقہ اس کو ملک کا وفادار بلکہ ہیرو سمجھتا ہے اور اسی کے ساتھ جج صاحبان کو بھی غدار اور ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں طبقوں کے ساتھ اپنے اپنے طور پر دلائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ لیکن دلائل کس کے صحیح ہیں یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے تاہم نظر ایسا آتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ملک کا تقریباً ہر دوسرا شخص اپنے تیئیں جج بنا ہوا ہے اور اپنا فیصلہ سنا رہا ہے۔

ہمارے یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ کسی بھی مسئلے پر ہماری قوم کے اکثر افراد فتوے اور فیصلے دیتے رہتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بڑے اہم اور ذمے دار لوگ جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں اپنے فیصلے سنانے لگیں تو پھر قوم کو مشتعل اور گمراہ کرنے کی براہ راست ذمے داری ہمارے قائدین اور اکابرین پرعائد ہوتی ہے۔ ایسے جذباتی فتووں اور فیصلوں کی وجہ سے ملک میں انتشار اور افریٰ تفری کا ماحول پیدا ہوتا ہے جس سے بڑے نقصانات واقع ہوتے ہیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت کسی بھی صورت نہیں ملے گی اور نہ ہی وہ گرفتار کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع یا پہلا عدالتی فیصلہ نہیں ہے کہ جس پر قوم تقسیم نظر آ رہی ہے کسی کو ہیرو اور کسی کو غدار قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ سلسلہ شروع سے جاری ہے یہی وجہ ہے کہ متنازع فیصلوں یا اداروں کے باہمی ٹکراٶ اور اپنی آئینی حدود و اختیارات سے تجاوز کے باعث ملک بحرانوں کا شکار رہتا آ رہا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قائد اعظم رح اور ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو بھی معاف نہیں کرتے۔

قائد اعظم کو انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایجنٹ تو فاطمہ جناح کو بھارت کا ایجنٹ قرار دینے والے لوگ بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا اس کے قاتل کو موقع پر ہی اس کے بیٹے کے سامنے قتل کر دیا گیا جس کی وجہ سے آج تک اصل حقائق قوم کے سامنے نہیں آ سکے۔ جنرل ضیا الحق اور محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کا بھی کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ تحریک پاکستان میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے اور جدوجہد کرنے والے بنگالی تھے لیکن بعد میں ایسے حالات پیدا ہوئے یا پیدا کیے گئے کہ یہی بنگالی بھائی بنگلہ دیش کی صورت میں علیحدہ ملک بنا بیٹھے 1970 کے۔

عام انتخابات میں واضح اکثریت کے باوجود بنگالیوں کو اقتدار نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے ان میں غم اور غصہ انتہا کو پہنچ گیا اور وہ بھارت کا آلہ کار بن گئے جس کی وجہ سے ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ ہم لوگ شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار کہتے ہیں مگر اسی غدار کو بنگالی قوم اپنا ہیرو اور نجات دہ دہندہ سمجھتی ہے۔ جب باقی ماندہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو وہ فیصلہ بھی متنازع قرار پایا عوام کی اکثریت بھٹو کو بے قصور اور ہیرو قرار دینے لگی لیکن ایک طبقہ جنرل ضیا الحق کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کابھی ہیرو قرار دینے لگا۔

جنرل ایوب خان کو بھی ایک طبقہ ہیرو اور ایک طبقہ غاصب اور آمر قرار دینے لگا یہی حال نواز شریف اور آصف علی زرداری کا ہے جن کو عوام کا ایک طبقہ ملک کا قائد اور ہیرو سمجھتا ہے تو ایک طبقہ ان کو چور، ڈاکو اور کرپٹ سمجھتا ہے۔ جنرل یحیٰ خان اور غلام محمد بھی ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے تھے جن کی کوئی ایک بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ اب ایک بار پھر ملک میں ہیرو اور غداری کی بحث چھڑ گئی ہے اور اس کا حجام اور مزدور سے لے کر ریڑھی بان ادیب اور شاعر سے لے کر صحافی اور تندور والے سے لے کر گلوکار اور اداکار تک کر قصاب اور ٹرک ڈرائیور یا گدھا گاڑی والے تک رکشہ ڈرائیور سے لے کر میراثی تک ہاری سے لے کر موچی اور لوہار تک اپنا اپنا فیصلہ سنا رہا ہے۔

اور یہ لوگ ہمارے اکابرین کی باتوں اور پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر ان کی تائید و حمایت میں فیصلے سنا رہے ہیں۔ ایسے تمام قومی معاملات میں بس ایک طبقہ ہے جو لاتعلق بنتا ہے اور وہ خواجہ سرا ہے۔ یہ بچارے ازل سے شدید احساسِ کمتری کا شکار رہتے آ رہے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم کوئی رائے دیں گے تو لوگ ہم پر طنز کے تیر چلائیں گے۔ ویسے ان خواجہ سراٶں کے صرف 2 ہی ہیرو ہیں اور وہ دونوں سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار محمد چوہدری اور ثاقب عزیز صاحب ہیں جنہوں نے ان کو معاشرے میں مقام دلانے کے لئے کافی کوششیں اور اقدامات کیے تھے ان کی علیحدہ جنس کا تعین کیا گیا ان کو ووٹ کا حق دیا گیا لیکن اس کے باوجود یہ ظالم معاشرہ ان کو ان کا جائز مقام دینے کو کسی صورت بھی تیار نہیں ہے اس لئے ان کی نہ پرویز مشرف سے دلچسپی ہے اور نہ ہی نواز شریف اور آصف زرداری سے کیوں کہ ان لوگوں نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اگر مجھ سے رائے لی جائے تو میں اپنا ووٹ خواجہ سراٶں کے پلڑے میں ڈال دوں گا کیوں کہ یہ مظلوم اور بے ضرر طبقہ ہے ان کی مدد اور حمایت سے ثواب ملنے کی بہت امید ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *