آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں(I)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"muhammadجمعہ کی صبح  حسب عادت تازہ خبریں دیکھنے کے لئے اپنا موبائل کھولا تو سائنسی خبروں میں یونیورسٹی آف فلوریڈاکے سائنسدانوں کی ایک تازہ تحقیق کے ہر طرف چرچے تھے۔ دعوے کے مطابق  سائنسدانوں کی یہ ٹیم اس بات کا سراغ لگا نے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ ارتقائی عمل کے کس مرحلے پر سانپ اپنی ٹانگوں سے محروم ہو گئے اور کرہ ارض پر دوڑنے چلنے کی بجائے رینگنے لگے، اور یہ کہ اس کے در پردہ کون سی میکانیات کارفرما ہیں ۔ چونکہ خبر ارتقا یعنی evolution  سے متعلق تھی اس لئے لا محالہ میرا دھیان اسی ویبسائٹ پر شائع ہونے والے عدنان خان کاکڑ صاحب کے مبینہ استہزایہ اور طنزیہ مضمون کی جانب چلا گیا جس پر آجکل بہت سے فورمز میں گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔  اگرچہ اس موضوع پر اردو میں پہلے بھی کافی کچھ لکھا جا چکاہے تاہم  میری ناقص رائے میں یہ  ایک نہایت اچھا موقع ہے کہ اس بحث کا حصہ بنتے ہوئے اردو قارئین کے لئے ارتقا کے موضوع پر ایک تعارفی قسم کا مضمون رقم کیا جائے۔  ماہر ارضیات احتشام گردیزی صاحب کی جانب سے فراہم کی گئی عمدہ معلومات کے بعد یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ بحیثیت بیالوجی کے ایک طالب علم اور محقق کے، میں اس موضوع پر علم حیاتیات کی مددسے بھی روشنی ڈالوں تاکہ کاکڑ صاحب نے استہزائیہ مضمون کا ڈھول بجا کر جن لوگوں کو اکٹھا کیا ہے ان تک نظریہ ارتقا کے حوالے سے سائنسی معلومات پہنچانے کا بندوبست بھی ہو سکے۔ ارتقا کا موضوع اسقدر وسیع ہے کہ  اس مختصر مضمون میں اس پر کما حقہ روشنی ڈالنا ناممکن ہے، اس لئے اگر اس مضمون سے قارئین کی تشفی نہ ہوسکے تو پیشگی معذرت چاہوں گا۔

نظریہ ارتقا پر کسی بھی قسم کی بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے اس حوالے سے ایک فکری مغالطے کا ازالہ بہت ضروری ہے ۔ اکثر معترضین سب سے پہلا اعتراض یہ لگاتے ہیں کہ نظریہ ارتقا محض ایک نظریہ ہے، جس کا غالباً حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یا یہ کہ چند مفروضوں کی بنیاد پر سائنسدانوں نے ایک نظریہ تشکیل دیا ہے جس کی سچائی ثابت کرنے کے لئے موجود دلائل ناکافی ہیں۔ ڈارون یا اس سے پہلے کے سائنسدانوں نے جب اول اول اس حوالے سے  مشاہدات ،اور کسی حد تک تجربات ، کی روشنی میں اپنے خیالات کو عوام کے سامنے پیش کیا تو یقیناً اس وقت یہ ایک نظریے کے طور پر ہی سامنے آئے ۔ تاہم ڈارون کی شہرہ آفاق کتاب کو منظر عام پر آئے ڈیڑھ صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے میں نہ صرف علوم حیاتیات بلکہ ارضیات،Paleontology  اور سائنس کی دیگر شاخوں کی جانب سے کی گئی تحقیق نے ارتقا کے حق میں ناقابل تردید شواہد فراہم کر دیئے ہیں یا کم از کم ایسے شواہد اور مظاہر وافر مقدار میں موجود ہیں جن کی وضاحت اور توجیح صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے اگر اس بات پر یقین رکھا جائے کہ اس کرہ ارض پر موجود تمام جاندار اپنے سے قبل آنے والے جانداروں کی ارتقائی شکل ہیں۔موجودہ زمانے میں نظریہ ارتقا (theory of evolution)  کی اصطلاح جہاں بھی استعمال کی جائے اس سے مراد وہ تمام نظریات ہیں جو اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ارتقا کا عمل آخر کیسے وقوع پذیر ہوا۔ یعنی جو ثبوت اب تک ہمارے سامنے آئے ہیں، ان کی بنیاد پر ہم بغیر کسی شک و شبہہ کے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ  اس کرہ ارض پر موجود تمام جاندار اربوں سال کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں ، تاہم یہ ارتقا کیسے ہوا، کون سے جاندار پہلے وجود میں آئے اور کونسے بعد میں، ایک خاص نسل کیوں معدوم ہوئی اور دوسری کیوں پروان چڑھی، مختلف جانداروں کے زمین پر ظہور میں کتنا وقفہ ہے، کونسا جاندار کونسے دوسرے زندہ یا معدوم جاندار سے زیادہ قریب ہے یعنی اس کی ارتقائی شکل ہے، اور جیسا  کہ مضمون کے شروع میں ایک تازہ ترین تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے  کہ ارتقا کے اس عمل کے دوران جانداروں کی ساخت میں تبدیلیاں کیوں اور کیسے ہوئیں  وغیرہ وغیرہ۔ نظریہ ارتقا سے مراد وہ تمام تھیوریز ہیں جو ارتقائی عمل کی وضاحت کے لئے تشکیل دی گئی ہیں اور جن میں نئے حاصل شدہ ثبوتوں اور مشاہدات کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً تبدیلیوں اور ترامیم کا عمل جاری رہتا ہے۔

مضمون کے شروع میں جس تحقیق  کا حوالہ  دیا گیا ہے اس کی جانب پلٹنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ کچھ سائنسی اصطلاحات کا سرسری سا ذکر کر دوں تاکہ ایک عام قاری جو سائنس سے متعلق نہایت بنیادی درجے کا علم رکھتا ہے، وہ بھی اس سائنسی تحقیق کے نتائج کو سمجھ سکے۔ ہمارا جسم ایک مشین ہے اور اس میں ہونے والے تمام اعمال ہزاروں مختلف قسم کی پروٹین سر انجام دیتی ہیں۔ کسی بھی جاندار میں کونسیپروٹینز موجود ہوں گی، ان پروٹینز کی ساخت کیا ہوگی، اس سب کا \”کوڈ\” جاندار کے خلئے کے مرکز میں موجود جینیاتی مادے یعنی DNA میں ہوتا ہے۔  DNA  ایک لمبے دھاگے کی مانند ہوتا ہے جس کے مختلف حصوں یا \”قطعوں \”میں کسی مخصوص پروٹین کا کوڈ لکھا ہوتا ہے، اور DNA کے ان \”قطعوں\” کو جینGene کہا جاتا ہے۔ عموماً ایک جین ، یعنی ڈیاین اے کے ایک مخصوص قطعے/ٹکڑے ، میں ایک پروٹین  کا کوڈ موجود ہوتا ہے۔ انسانی جینیاتی مادہ یا جینوم  اب تک کے اندازے کے مطابق 20 سے 30 ہزار پروٹین کا کوڈ لئے ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 20 سے 30 ہزار پروٹین کا کوڈ لمبے دھاگے جیسے  انسانی DNA کے محض 1 فیصد سے کچھ زائد حصے میں پایا جاتا ہے اور باقی کے لگ بھگ 99 فیصد کو \”بیکار\” DNAیا Junk DNA کہا جاتا تھا۔ تاہم تازہ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ یہ \”بیکار\” DNA بھی کچھ ایسا بیکار نہیں۔ DNA کا یہ بیکار حصہ تازہ تحقیق کے مطابقنام نہاد کارآمد حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ یعنی 20-30 ہزار جینز میں سے کونسےجینز جسم کے کس خلئے میں پروٹین بنائیں گے اور کس میں نہیں،کونسےجنیز انسانی بڑھوتری کے کس مرحلے پر پروٹین بنائیں گے، کونسےجینز کس خاص قسم کے ماحول میں پروٹین بنائیں گے، اس سب کا انحصار بڑی حد تک اسی 99 فیصد بیکار حصے پر ہوتا ہے۔

تو آئیے اب آخر کار اس تحقیق کی جانب پلٹتے ہیں جس کا ذکر مضمون کے شروع میں کیا گیا تھا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ لگ بھگ 150 ملین سال قبل تک  سانپ کرہ ارض پر رینگا نہیں بلکہ دوڑا کرتے تھے لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہی ہوں گےموجودہ زمانے میں سانپوں کی بیشتر اقسام کے جسم میں ظاہری طور پر ٹانگوں کا وجود نہیں ہوتا ۔ ازگر(Python) سانپوں میں البتہ نامکمل یا باقیاتی (vestigial) ٹانگیں پائی جاتی ہیں جو ان کے جسم کے دونوں جانب ایک چھوٹے سے ابھار کی مانند موجود ہوتی ہیں اور تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق میں انہی سانپوں کو استعمال کیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آخر کار سانپ کیسے اپنی ٹانگوں سے محروم ہوئے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اگرچہ ازگر سانپوں میں Sonic Hedgehog نامی وہ جین پایا جاتا ہے جو کہ ٹانگوں کی تشکیل کے لئے ضروری  پروٹین بناتا ہے، تاہم DNA کا وہ حصہ جو اس جین کو کنٹرول کرتا ہے کہ کب یہ جین پروٹین بنائے گا، اس میں تبدیلی (mutation) ہو چکی ہے جس وجہ سے جنیوم میں ٹانگوں کی تشکیل کا جین موجود ہونے کے باوجود سانپوں کی ٹانگوں کی نشوونما نہیں ہو سکتی۔ Sonic Hedgehog نامی یہ جین ٹانگوں پر چلنے والے تمام ریڑھ دار جانوروں میں نہ صرف موجود ہوتا ہے بلکہ سانپوں کے برعکس اپنا کام بھی تندہی سے سر انجام دیتا ہے۔ کرہ ارض کے کئی ایک جانداروں کے جینوم میں ایسے حصے/قطعے/ٹکڑے دریافت کئےگئے ہیں جو اس جاندار میں تو ظاہراً کوئِی مقصد پورا کرتے نہیں دکھائی دیتے لیکن معمولی سی تبدیلی کے ساتھ اس مذکورہ جاندار سے پہلے یا بعد آنے والے کسی اور جاندار میں نہایت اہم مقصد کی حامل پروٹین بناتے ہیں۔ آج تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے سائنسدان، پادری یا ملا نے اس امر کی کوئی توجیح  پیش نہیں کی ، سوائے اس کے کہ یہ مان لیا جائے کہ بظاہر مختلف نظر آنے والے  جانداروں  کا ارتقا  لاکھوں  کروڑ وںبرس قبل پائے جانے والے ایک ہی جاندار سے ہوا ہے جس کا جینومبتدریج ارتقائی تبدیلیوں سے گزرتا ہوا موجودہ زمانے کے کئی ایک مختلف جانداروں کے جینوم میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مختلف جانداروں کے جینوم میں پائی جانے والی یہ مماثلت اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں موجود فرق نہ صرف ارتقا کے حق میں ایک ناقابل تردید دلیل ہے بلکہ جینیاتی مماثلتوں اور فرق کا پیٹرن ارتقائی سائنسدانوں کے لئے ارتقا کے عمل کو سمجھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ مضمون کے اگلے حصے میں راقم کوشش کرے گا کہ حیاتیات اور جینیات کے علوم کی مدد سے ارتقا کے حق میں مزید شواہد فراہم کر سکوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

4 thoughts on “آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں(I)

  • 22/10/2016 at 2:29 pm
    Permalink

    ایک ماہر حیاتیات سے ارتقا کے موضوع پر اچھی بحث کی امید کی جاسکتی ہے. اگلے قسطوں کا انتظار رہے گا.

Leave a Reply