قومی مفاد کے غدار صحافی


\"zeeshanامرتیا سین پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک معروف نام ہے – 1998 میں آپ کو نوبیل انعام قحط کے اسباب کے سائنسی مطالعے اور اس انکشاف پر ملا کہ دور جدید میں جہاں فری مارکیٹ معیشت،جمہوریت اور آزاد صحافت پائی جاتی ہے وہاں قحط نہیں آ سکتے – صحافت کے حوالے سے اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ صحافت ایک معاشرہ کی آنکھ کان اور زبان ہوتی ہے، یہ دراصل ایک معاشرے کا رسپانس سسٹم ہے – جہاں بھی کوئی بے قاعدگی دیکھی ، خوراک کا بحران نمودار ہوتے دیکھا یا کسی اور انسانی المیے کا سراغ لگایا صحافی اس واقعہ کو دیکھتا ہے سنتا ہے اور اس کا عکس بنا کر پورا منظرعوام کے روبرو بیان کر دیتا ہے – یوں ریاستی مشینری حرکت میں آتی ہے اور اس انسانی المیہ کو رونما ہونے سے پہلے ہی روک دیا جاتا ہے– حقیقت یہ ہے کہ میڈیا صرف ریاست کا ستون نہیں بس سماج کا بھی اہم ستون ہے –جمہوریت میں ایک طرف عوامی نمائندگی اگر پارلیمان کے پاس ہوتی ہے تو دوسری طرف سول سوسائٹی بھی جمہوریت کے قیام استحکام تسلسل اور کارکردگی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہوتی ہے – سول سوسائٹی کو آواز میڈیا سے ملتی ہے ،یہی سبب ہے کہ دنیا بھر کی آمریتیں جتنا پارلیمان سے خائف رہی ہیں اس سے کہیں زیادہ عداوت انہیں آزاد صحافت سے رہی ہے اسی لئے جب آمر قوتیں عوام کے حق انتخاب پر شب خون مارتی ہیں تو ساتھ ہی خبر پہ بھی پہرے بٹھا دیئے جاتے ہیں –

دیکھئے ایک عوام دوست قومی ریاست اور جمہوریہ صرف وہی ہے جس میں شہریوں کا قومی امور میں زیادہ سے زیادہ فیصلہ کن کردار ہو – فریڈرک اے ہائیک کہتے ہیں کہ فرد ایک عقلی وجود ہے اور اس کے تمام سیاسی سماجی اور معاشی رویوں میں معلومات کا کردار مرکزی ہے – جو بھی معاملہ زیر بحث ہو اگر اس کے بارے میں مکمل علم و معلومات نہیں ہوں گی تو نہ صرف کسی معقول نتیجے پر پہنچنا محال ہو گا بلکہ مستقبل کی پیش گوئی کر کے اس کی درست منصوبہ بندی بھی ناممکن ہو گی – صحافی کی خبر شہریوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے – صحافی رائے عامہ تشکیل دینے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے – صحافت محض اچھا منظر دکھانے کا نام نہیں بلکہ ہر منظر دکھانے کا نام ہے – آزادی صحافت کے بغیر شہری ایک جمہوری ریاست میں اپنا بنیادی کردار ادا نہیں کر سکتے –

ایک جمہوری ملک میں ہر شہری ریاستی انتظام سے متعلق معلومات کا حق رکھتا ہے – صرف سیاست دان نہیں بلکہ تمام ریاستی ادارے عوام کے حضور جوابدہ ہیں – اصولی طور پر تو کوئی بھی ایسی ریاستی سرگرمی نہیں جس کی معلومات میڈیا اور شہریوں سے خفیہ رکھی جائیں – سیکورٹی کے مسائل کے لئے ایک جواز یقیناً پیش کیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی ایک ادارہ اس حساسیت کا ناجائز فائدہ اٹھائے اور عوام کے حضور جوابدہی سے خود کو مستثنیٰ سمجھے – دوسرا یہ حساسیت بھی سٹریٹجک اہمیت کی حساس معلومات وغیرہ سے متعلق ہے – قومی دفاع اور داخلہ و خارجہ امور سمیت تمام قومی امور پارلیمان میں زیر بحث لانے چاہئیں ،سول سوسائٹی میں جاری مکالمہ سے بھی راہنمائی لی جائے اور میڈیا اس دوران اپنی مؤثر رپورٹنگ سے شہریوں کو تمام امور سے باخبر رکھے – یاد رکھنا چاہئے کہ اقتدار اعلی کا مرکز و منبی صرف شہری ہیں اور اسی سوشل کنٹریکٹ کی بنیاد پر نیشن اسٹیٹ قائم ہوتی ہیں – سیکورٹی ادارے اگر خود کو ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں تو وہ عوام کے حضور جوابدہ ہیں –

ایک انگریزی روزنامہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کو لے کر میڈیا آج کل زیر عتاب ہے ، اس پر سب سے بڑا جو اعتراض کیا جا رہا ہے وہ قومی مفاد سے غداری کا ہے – سوال یہ ہے کہ یہ قومی مفاد ہے کیا اور اس کی تعریف و تشریح کا اختیار کسے حاصل ہے ؟ قومی مفاد کا سوائے اس کے کوئی مطلب نہیں کہ یہ بیس کروڑ شہریوں کے مفاد کا نام ہے اور اسےآئین نے کھول کھول کر واضح کر دیا ہے- آئین نے شہریوں کے حقوق کا تعین بھی کر دیا ہے اور سرکاری اداروں کے فرائض بھی بیان کر دیئے ہیں – قومی مفاد اس چیز کا نام ہے کہ ریاستی ادارے شہریوں کو ان کے حقوق کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی دیں اور ان سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں جس کا ان سے آئین میں وعدہ کیا گیا ہے – قومی مفاد اس چیز کا نام ہے کہ آئین نے جو (درحقیقت پاکستان میں شہریوں اور ریاست کے مابین ایک سوشل کنٹریکٹ ہے) فرائض ان سرکاری اداروں کو سونپے ہیں انکی بجاآوری میں یہ ادارے کوئی کوتاہی نہ برتیں اور اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں – اسی طرح آئین کے بعد اگر دوسرے ذیلی امور میں قومی مفاد و سلامتی کا تعین کرنا ہو تو اس کے لئے پارلیمان کے علاوہ کوئی اور ادارہ معتبر حیثیت نہیں رکھتا-

صرف اسی ہفتے کی تین خبریں سنئے- اول : پاکستان بھوک کے شکار ممالک میں گیارویں نمبر پر ہے ،اس کی کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور سو میں سے تقریبا آٹھ بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں– دوسری خبر پر بھی دیہان دینے کی ضرورت ہے کہ لال مسجد اسلام آباد کی شہداء فاؤنڈیشن نے حکومت پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ اگر ان کی پسند کا نہ آیا تو وہ ریاست سے بغاوت کا نہ صرف اعلان کر دیں گے بلکہ ریاست کو سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے – یوں عدالت عظمیٰ کے ایک جج نے اس کیس کو سننے سے انکار کر دیا ہےاور جون دو ہزار نو سے لٹکا یہ کیس غیر معینہ مدت کے لئے پھر ملتوی کر دیا گیا ہے ، اس پر مستزاد یہ کہ فراہمی انصاف کی ضمانت دینے والے اس معزز ادارے کے سربراہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے بجائے (اخباری اطلاعات کے مطابق ) عوام کو منتخب نمائندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی مؤثر نہیں– تیسری خبر میں ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے شہریوں کی زندگی کی حفاظت میں ناکام ہیں – قومی مفاد ہو یا قومی سلامتی ان دونوں امور میں ہمارے ادارے ناکام رہے ہیں کیونکہ انہوں نے شہریوں کے مفاد کو قومی مفاد سمجھنے کے بجائے مہم جوئیانہ اقدامات کو ہی ترجیح دی ہے –

اگر ملکی سلامتی اور قومی مفاد سے متعلق ہیئت مقتدرہ کے مفروضات کو ہی درست مان لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ آخر ایک خبر کا تعین کیسے کیا جائے گا کہ یہ خبر ملکی مفادات سے متصادم ہے یا نہیں ؟ کون سی خبر شائع یا نشر ہونی چاہئے اور کون سی نہیں اس کا فیصلہ ریاستی ادارے نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بذات خود ایک فریق ہیں – اگر انہیں نیوز ڈیسک پر بٹھا دیا جائے تب تو وہ ویسے اخبار نکالیں گے جیسے ضیاء الحق کے دور میں شائع ہوتے تھے – عموما ہر مقامی خبر کسی نہ کسی سرکاری ادارے سے متعلق ہوتی ہے اگر ان اداروں کو ہی قومی مفاد یا ملکی سلامتی کا شارح بنا دیا جائے تو پھر صحافت سے مراد گونگی زبان بہرے کان اور اندھی آنکھیں ہوا – کہا جاتا ہے کہ سوویت یونین میں محض اس انکشاف پر کہ کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے ممبران نااہل ہیں ایک ممبر کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا کہ اس نے قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے راز کو افشا کیا ہے –

آخری گزارش ان تنازعات سے متعلق ہے جو کسی صحافتی ادارے اور متعلقہ فریقین کے مابین ہو سکتے ہیں – ان تنازعات کے حل کے لئے ایک مستقل ادارہ موجود ہے جو اس ملک کے تمام شہریوں کو فراہمی انصاف کی ضمانت دیتا ہے ، میری مراد عدلیہ سےہے – اگر کوئی بھی شخص یا ادارہ یا آرگنائزیشن یہ سمجھتی ہے کہ اس سے متعلق صحیح رپورٹنگ نہیں کی گئی اور اس کا کوئی تسلی بخش رسپانس بھی اسے اس صحافتی ادارے سے نہیں مل رہا تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے – نتیجے میں اگر عدالت اس غلط رپورٹنگ کا اس صحافتی ادارے کو ذمہ دار قرار دے دیتی ہے تو وہ ادارہ اپنی اگلی اشاعت میں اس پر نمایاں حروف میں نہ صرف معذرت کرے بلکہ جو جرمانہ عدالت اس پر لاگو کرے گی اس کی ادائیگی کا بھی پابند ہو گا – عدالتی نظام کے ہوتے ہوئے شفافیت کی آڑ میں کسی بھی اخبار یا ٹی وی چینل کی خودمختاری پر شپ خون نہیں مارا جا سکتا – اگر سیرل المیڈا کی رپورٹنگ کو کوئی سرکاری ادارہ شفاف نہیں سمجھتا اور اپنے وقار کے منافی سمجھتا ہے تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا نہ کہ اس معاملے پر ریاست اپنی آمریت کا مظاہرہ کرتی – بغیر جرم ثابت ہوئے حکومت سیرل سے مجرم کی طرح کیسے برتاؤ کر سکتی ہے؟ اگر اس کے ملک سے چلے جانے کا کوئی خطرہ تھا بھی تو ڈان گروپ تو پاکستان میں ہی تھا جو اس کی رپورٹنگ کی ذمہ داری لے رہا ہے-

بانیان پاکستان نے اس ملک کو یہاں کے شہریوں کی ترقی و خوشحالی اور مسرتوں کے لئے بنایا تھا – اس ملک کا مقصد نہ تو کسی قسم کی مہم جوئی تھا اور نہ ہی کسی مفروضہ تصور پر شہریوں کو قربان کرنا – ہمارے سرکاری ادارے عوام کے حضور نہ صرف جوابدہ ہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں سہولیات بہم پہنچانا ہی ان کی ذمہ داری ہے – قومی مفاد و سلامتی بھی یہی ہے کہ یہ ادارے اپنے فرائض کی تکمیل کو ہی اپنا مقصد و منصب بنائیں –

 

Facebook Comments HS

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan