سپاہی تو ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرا تصور کریں آپ کا نوجوان بیٹا جسے آپ خود گھر سے تیار کرکے اس کے اچھے مستقبل کے لیے ڈیوٹی پر بھیجتے ہیں اور شام کو زندہ سلامت واپس آنے کی بجائے سبزاور سفید جھنڈے میں لپٹی ہوئی آپ کو اس کی کٹی پھٹی مسخ شدہ جلی ہوئی ایسی لاش ملتی ہے جسے پہچاننا بھی ناممکن ہے تو انسانیت کے ناتے اس باپ کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں۔ اس نوجوان بیوی کے بارے سوچیں جو اپنے خاوند کے چہرے کی عبادت کرتی تھی۔ ان معصوم بچوں کے بارے سوچیں جو شام کے کھانے پر اپنے پاپا کا انتظار کر رہے تھے۔ اس بوڑھی ما ں کے بارے شوچیں جس نے اپنے لخت جگر کو بخوشی ملک و قوم اور اس مٹی کے سپر د کردیا اور زبان پر حرف شکائیت تک نہ لائی بلکہ شہید کی ما ں کہلانے پر فخر کرتی رہی۔

سچ بتائیں کتنی بار آج تک آپ نے اپنی گرم یا ٹھنڈی گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے ناکوں پکٹس پر کھڑے باوردی جوانوں کو سلام کیا یا ان کو پانی کی بوتل ہی دی ہو۔ کبھی سرد رات میں آپ کی گلی میں بوسیدہ سرکاری گاڑیوں میں گشت اہلکاروں کو روک کر ان کی کسی ضرورت کے بارے پوچھا ہو۔ نہیں آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ چلیں آپ یہ بتائیں آپ کے گھر کے آس پاس جب کسی شہید کی لاش لاتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں۔ چند لمحے افسوس وہ بھی اپنے موبائل کی ٹچ سکرین کو اوپر نیچے کرتے کرتے۔

بہت برا ہوا کہہ کر بھول جاتے ہیں۔ اگر اللہ کا کچھ خوف انسانیت کی کچھ رمک آپ میں موجود ہے تو آپ اس شہید کے جنازے میں محض اس لیے چلے جاتے ہیں کیوں کہ آپ ثواب کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے آس پاس رہنے والے شہید کے خاندان یا اس کے بچوں کے لیے کیا کیا۔ یقینا کچھ بھی نہیں۔ کیوں کہ آپ کو تو فرصت ہی نہیں۔ اپنی آزاد خودمختار اور مصروف ترین زندگی سے اس شخص کے لیے آپ نے کتنا وقت نکالا جس نے آپ کی آزادی کے تحفظ کے لیے آپ کے گھر محلے شہر کے امان کو قائم رکھنے کے لیے اپنی جان تک دے دی۔

کسی عید تہوار پہ ہی شہید کے خاندان کو ملنے آپ اسپیشل گئے ہوں؟ کیا کوئی جوان اس لئے شہید ہوتا ہے کہ اس کی بیوہ لوگوں کے گھروں میں کام کرے۔ یا اس کے بچے تعلیم چھوڑ کر فیکٹریوں کارخانوں میں مزدوری کریں۔ اس کے بوڑھے ماں باپ اپنے شہید بیٹے کی قبر کو حسرت سے دیکھتے رہیں۔ نہیں نہیں سپاہی اور اسپیشلی شہید تو ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔

کیا کبھی کسی بارڈر کا وزٹ کیا آپ نے؟ یقینا نہیں۔ تو ٹھٹھرتے دسمبر میں ہیٹر والے کمرے میں بیٹھ کر کمبل لپیٹے چلغوزے گرم میوہ جات کھاتے ہوئے قہوے اور سبز چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے فورسز کی کارکردگی پہ تبصرہ کرنے سے پہلے کسی سرحد پہ شہری آبادی سے کوسوں دور پہاڑوں، ریگستانوں، جمی برف کے دامن میں دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے کھڑے مسلح سپاہی کو دیکھیں۔ جس کی بندوق کی نالی دشمن کی طرف مگر دل دماغ روح اور حیالات کی وادی میں چھوئی موئی کی طرح کھلتے اور مرجھاتے سوچوں کے شگوفے اور پھول کلیاں اپنے گھر اور خاندان والوں کے دم سے مہکتے ہیں۔

وہ جوان چند ہزا ر روپوں کے عوض اپنی جان کا نذرانہ لیے سرحد پہ کھڑا ہوتا۔ تصور میں گھر بیوی بچوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ جب اسے گھر فون کرکے کسی رشتہ دار عزیز کو کہنا پڑتا ہے کہ ”میرے بوڑھے ابا یا اماں بیمار ہیں پلیز انھیں ڈاکٹر کے پاس تو لے جائیں، مجھے ابھی چھٹی نہیں مل رہی“۔ تو اس کرب تکلیف کو سمجھنا ہرانسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ سینہ تان کے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہوتا۔ اپنے محرومیوں کے، گھر سے دوری کے آنسو اپنی شجاعت کے پیچھے محض اس لیے چھپا لیتا ہے کیوں کہ اسے معلوم ہے ملک قوم اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے وہ کھڑا ہے اسے معلوم ہے کہ اس کا اس طرح گھر سے دور رہنا ویرانوں میں تنہاء وقت گزارنا وقت کا ضیاع نہیں بلکہ ملک و قوم مذہب وطن کی وہ خدمت ہے جس پ نہ صرف اسے بلکہ اس کے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچوں کو فخر ہے۔ اس کے بچے سینہ تان کر اپنا تعارف کرواتے ہیں کہ ہم سپاہی کے بچے ہیں ہم سولجر کی اولاد ہیں۔

کبھی کسی شہید کے گھر کا چکر لگائیں، اس کے معصوم بچے اسی حوصلے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کہ وہ شہید کے بچے ہیں۔ اس کے بوڑھے ماں باپ اس فخر کے ساتھ غربت بڑھاپے کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ایک شہید کے ماں باپ ہیں۔ کبھی کسی شہید کی بیوہ کو دیکھا ہے؟ وہ کس طرح اپنے آس پاس نوجوان بیویوں کے سرخ گلابی پہناوے اپنی زبان پر بغیر کوئی حرف شکایت لائے دیکھتی اور برداشت کرتی ہے۔ بلکہ خوش ہوتی ہے کہ اپنی قوم کی انھیں خوشیوں کے لیے اس کے سہاگ نے چوم کر موت کو گلے لگا لیا۔

کس طرح وہ آئینے کے سامنے جانے سے ڈرتی ہے۔ کس طرح وہ خوشی اور غم کے تہوار اپنے بچوں کے ساتھ گزارتی ہے۔ کبھی بھی کسی شہید کے خاندان کی زبان پہ حرف شکایت دیکھا ہے تو بتائیں۔ میں نے تو شہداء کے خاندانوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو وطن سے محبت کا درس دیتے ہی دیکھا ہے۔ میں نے شہداء کے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جو اپنے شہید والدکی وردی کو روزانہ چومتے اور ہر روز فوج میں بھرتی ہونے کا عزم کرتے ہیں۔

جب کوئی فوجی جوانی میں وطن کی آن پہ قربان ہوجاتا ہے تو آپ اسے کیا دیتے ہیں ایک چوک کا نام اس کے نام پہ رکھ دیتے ہیں۔ اس کی تصویر کے چند پینافلیکس لگادیتے ہیں۔ کبھی پلٹ کے آپ نے اس کی بیوہ بچوں اس کے خاندان کا حال تک پوچھا تو بتائیں۔ بحیثت قوم آپ مجھے بتائیں اس ملک میں آج تک کل شہدا ء کی تعدار کتنی ہے۔ نہیں آپ نہیں بتا پائیں گے۔ آپ کو پتہ ہے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو جب دشمن نے شہید کیا وہ زمین پہ گرے نہیں بلکہ اپنی گن کے سہارے بیٹھ گئے۔

ذرا سوچیں کیا جذبہ ہوگا۔ کیا تھا کیپٹن کرنل شیرخان شہید کے دماغ میں۔ وطن، قوم، دین، قوم کا میرے آپ کے بچوں کا تحفظ، ہمارے روشن مستقبل کی تصویر۔ کیوں کہ آپ کو تو اپنی ذاتی زندگی کی رنگینیوں سے ہی فرصت نہیں۔ آپ کو کیا پتہ۔ آپ تو ہر باوردی شخص کو ذاتی نوکر سمجھتے ہیں۔ ٹھٹھرتے دسمبر میں گرم گاڑی، ہیٹر والے کمرے سے نکل کر مورچے میں کھڑے باوردی مسلح شخص سے ہاتھ تو ملائیں آپ کو احساس ہو سپاہی ہونا فوجی ہونا کس کو کہتے ہیں۔

آ پ کو پتہ ہے ایک فوجی کا سیاچین جانے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اس کا مطلب ہوتا ہے موت کو ہنسی خوشی گلے لگا لینے کو تیار ہوجانا۔ وزیر ستان کی بلندیوں پر بلوچستان کے صحراؤں میں سندھ کے میدانوں میں پنجاب کے ریگستانوں میں کون کھڑے ہیں۔ کون ہیں وہ جن کے دم پہ آپ سکون کی نیند سوتے ہیں۔ کون ہیں وہ جن کی وجہ سے آپ کے بچے سینہ تان کر گلیوں شہروں میں آزاد گھومتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے عراق میں کیا ہوا شام میں کیا ہوا سعودی عرب کے حالات آپ جانتے ہیں مصر برباد ہوگیا مراکش کا کیا ہوا لیبیا کو دیکھ کر بھی آپ عبرت نہیں پکڑتے قوم کے تراسی فیصد زندہ ضمیر لوگ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ ان کا

مورال ڈاؤن نہیں کرسکتے۔ ایک سولجر کا تو مقصد ہی شہادت ہے۔ یہ جذبہ شہادت سے لڑتے ہیں۔ ہماری فوج حالت جنگ میں ہے۔ کشمیر میں ہمارے سپاہی لڑ رہے ہیں ہندوستان کے بارڈر پر روز ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں اور آپ ان کی یہ حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ کمانڈو کی ضروریات میں سب سے پہلی اور اہم ضرورت اس کی غیرت کا تحفظ ہوتا ہے اس کا مورال بلندرکھنا پڑتا ہے خشک روٹی جوہڑوں کا پانی اور جنگلات کے پتے کھا کر لڑنے سپاہی آپ سے عزت خوداری اور معاشرے میں معتبر زندگی گزارنے کے سوا مانگتے ہی کیا ہیں۔

جس گھوڑے کو میدان جنگ میں اتارنا ہو جس گھوڑے کو ریس کے میدان میں نبرد آزما ہونا ہو اس کی پیٹھ تھپکنی ہی پڑتی ہے۔ جوان اپنی غیرت کی خاطر قربان ہونا سیکھتا ہے۔ ڈیفینس فورسز شہداء کے خاندان ہیں ان کی عزت وقار اور خوداری کو قائم رکھنا ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ جب کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے باوردی جوان پر کوئی سول بندہ آواز کستا ہے، ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ کسی ایک انسان کی تذلیل نہیں کرتا پوری ریاست کی توہین کرتا ہے۔ ریاست کے قانون کی توہین کرتا ہے۔ جہاں باوردی افسران کے لیے کڑے احتساب طریقہ کار رائج ہے وہاں ان لوگوں کے لیے بھی کسی قسم کی معافی یا نرمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ باوردی جوان معتبر ہوگا تو قانون مضبوط ہوگا۔ قانون مضبوط ہوگا تو ریاست کے تمام ادارتے مستحکم ہوں گے۔ انصاف کا بول بالا ہوگا۔

تاجر منافع لیتے ہیں۔ سول نوکریوں والے بھی تنخواہ لیتے ہیں۔ لیکن وردی کی شکل کفن پہن کر سولجر ہی گھر سے نکلتا ہے۔ جن ممالک افواج ذمہ داری نہیں لیتی قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر مستحکم ہوتے ہیں ان ممالک کے حالات آپ سب کے سامنے ہیں۔ دنیا میں عزت وقار چاہتے ہو تو اپنی فورسزکو عزت دینا سیکھو۔ وردی کا احترام نہیں کرو گے تو تمھارا نام بھی نہ رہے گا ناموں میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply