پاکستان کا آئین، اٹھارہویں ترمیم اور مستقبل میں آئینی اصلاحات کے لیے سفارشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کثیر القومی، کثیر السانی و ثقافتی ریاستوں میں وفاقی طرز کا آئین ہی قومی یکجہتی اور ترقی کے لیے زیادہ مؤثر اور کارآمد ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مختلف ثقافت، زبان، نسل، تاریخ اور شناخت رکھنے والی قوموں کے حقوق کا تحفظ وحدانی یا نیم وفاقی آئین میں قطعی طور پر محفوظ نہیں ہوتا اور اقوام مطمئن نہیں ہو سکتیں۔ اس وقت 47 ملکوں میں وفاقی طرزِ حکومت نافذ ہے۔ دنیا میں 7 ارب کی آبادی کا 42 % فیصد وفاقی آئین کے تحت زندگی گزار رہا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ (مخص آئینی ساخت کی حد تک) ۔

آئین سازی کا عمل پاکستان میں ابتدا سے ہی مشکل اور پیچیدہ رہا ہے۔ ریاستی قوم پرستی کے مقاصد کے حصول کے لیے مضبوط مرکزیت اور آمرانہ طریقہ کار کا استعمال کیا گیا جو کہ حقیقی وفاقی ڈھانچے کے خلاف تھا۔ روزِ اول سے پاکستان کی سیاست میں دو مختلف اور واضح نکتہ نظر سامنے آئے۔ ایک نظریہ قوموں کی تاریخی شناخت اور وسائل پر ان کا حق اور وفاقی جمہوری آئین کا حصول تھا۔ جب کہ دوسرا نظریہ دو قومی نظریہ کی ہی بنیاد پر تھا جس کی حیثیت تقسیم کے بعد تقریباً ختم ہو چکی تھی۔

تقسیم کے بعد بھارت میں قوم پرستی کو فروغ دینے کے لیے بروقت غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات، با اختیار اور غیر جانبدارانہ الیکشن کمیشن کا قیام، شفاف اور غیر جانبدارانہ احتساب، زرعی اصلاحات، سیکولرازم اور سیاسی نظام کے بنیادی فلسفہ پر ایمانداری کے ساتھ عمل ہوا جس کے نتیجے میں وہاں اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن اور سیاسی استحکام مضبوط ہوا۔

پاکستان میں سیکولر اور جمہوری نظام کے سانچے کو نظرانداز کیا گیا تھا، حالاں کہ مسلم لیگ نے جو مطالبات 1940 کی قرارداد میں کیے، اس میں وفاقی وحدتوں کی خودمختاری، مرکز اور صوبوں میں (ریاستوں ) اختیارات کی تقسیم شامل تھی۔ لیکن بعدازاں مسلم لیگی قیادت اس سے مکمل طور پر مخرف ٹھہری اور 1949 میں لیاقت علی خان نے قرادادِ مقاصد کی بنیاد رکھی جسے پھر بعد میں ضیاءالحق کے دور میں آئین کا حصہ بنا کر بنیادی طور پر ایسی غلطی کی گئی جس کے بطن سے ریاستی اداروں کے فکر و خیال اور پالیسیوں کے ذریعے مذہبی تفریق اور عقائد کے مابین تصادم پیدا ہوا۔

انڈین ایکٹ 1935 کو ترمیم کے ساتھ نافذ کر کے ملک کے قیام سے ہی اداروں میں عدم توازن، سیاسی عدم استحکام اور قوموں کے مابین شکوک و شہبات پیدا کیے گئے۔

پہلا آئین

پاکستان میں پہلا متفقہ آئین ( 9 ) نو سال بعد 1956 کو بنا۔ اس دوران برطانوی آئین کا ایکٹ 1935 انڈین ایکٹ (جس کے خلاف قیامِ پاکستان سے قبل مسلم لیگ نے تحریک چلائی تھی) کے تحت ریاست کے معاملات کو چلایا گیا۔

1956 کے آئین میں صوبوں کو زیادہ اختیارات دیے گئے۔ اس آئین کے مطابق جمہوری حاکمیت و وفاقیت مستحکم ہو سکتی تھی لیکن ستم ظریفی یہ کہ ایسا کرنا حکمران اشرافیہ کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا۔ حالاں کہ ملک کے استحکام سالمیت و یکجہتی کا تقاضا تھا۔ 1958 کے مارشل لا نے حکمران اشرافیہ کی ملی بھگت سے آئین منسوخ کر کے وفاق پاکستان میں گہری خلیج پیدا کر دی۔ چنانچہ وفاقیت کو ختم کر کے اکثریتی صوبے کے عوام کو اقلیت کے برابر کر دیا گیا جو کہ ریاستی تاریخ کی انوکھی مثال بنا۔ ون یونٹ کے نظام سے نہ صرف اکثریتی صوبہ کی حق تلفی ہوئی بلکہ مغربی پاکستان میں پنجاب نے دیگر قوموں کو نظر انداز کر کے ان کی بھی حق تلفی کی۔ جس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان اور چھوٹی قوموں کے عوام وفاق سے مزید بدظن ہوگئے اور تحفظات و خدشات بڑھنے لگے۔

دوسرا آئین

دوسرا آئین 1962 کو بنا۔ جنرل ایوب خان نے اپنے اقتدار کو آئینی جواز دینے اور اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے یہ شخصی آئین بنایا۔ چوں کہ 1962 کا آئین ایوب خان نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا تھا، اس لئے اس آئین سے توقع نہ تھی کہ عوام اور قوموں کے مفادات اور حقوق کا تحفظ کرے۔ اس آئین کی تشریح آسان لفظوں میں آئینی ماہرین اس انداز میں کرتے ہیں کہ ایک آمر کا آئین، آمر کی طرف سے اور آمر کے لیے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ وہ دور تھا جس میں ریاستی نیشنلزم، قومی یکجہتی اور حقیقی وفاق کے ارتقا کے عمل کو شدید نقصان پہنچا۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے تنگ آ کر بحالتِ مجبوری آئینی، سیاسی حقوق کے لیے تحریک کا آغاز کیا جس کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا۔ عوام جیت گئے اور طاقت ہارگئی۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا۔

مشرقی پاکستان کے عوام نے تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آخر کیا وجوہات تھیں کہ مشرقی پاکستان کے عوام علیحدگی پر مجبور ہوئے۔ اس کے اسباب اور وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ عظیم قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل کر کے اپنی اصلاح اور درستگی کرتی ہیں۔

1973 کا آئین

سقوطِ بنگال کے بعد 1973 کا آئین متفقہ طور پر بنایا گیا۔ چوں کہ یہ آئین ریاست کی تقسیم کے فوراً بعد بنا تھا اور اس وقت مشکل اور نازک حالات تھے، اس لیے اس وقت کے سیاست دانوں نے دور اندیشی اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وعدہ کو شامل کیا کہ دس سال بعد 1983 تک صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا اور کنکرنٹ لسٹ کے اختیارت صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے لیکن بدقسمتی سے غیرسیاسی اور غیرجمہوری قوتوں نے موقع ملتے ہی 1973 کے آئین کو معطل کر کے ملک میں ایک مرتبہ پھر مارشل لا لگایا اور بعد میں ملک کو مذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنا دیا۔ آئین کی اصل ساخت اور روح کو تبدیل کر کے سابقہ آمروں کی طرح اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو آئینی تحفظ اور اقتدار کو آئینی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔

آئین میں ‌ ترامیم

جنرل ضیاءالحق نے آئین میں 8 ویں اور جنرل مشرف نے 17 ویں ترمیم کر کے 1973 کے متفقہ جمہوری آئین کو قومی وحدتوں اور جمہوری سیاسی پارٹیوں کے لیے متنازع بنا دیا۔ ان غیرآئینی اور غیرقانونی آئینی ترمیموں کے خلاف اور 1973 کے آئین کی بنیادی ساخت اور اصل روح کے مطابق بحال کرنے کے لیے 2006 میں ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے جمہوری وفاقی اور پالیمانی اصولوں پر مشتمل دستاویز، میثاق جمہوریت پر ایک بار پھر اتفاق کیا۔

ملک میں 2008 کے انتخابات کے بعد ایک مرتبہ پھر نیم جمہوری نظام کا آغاز ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ملک کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں پر مشتمل 26 رکنی پارلیماتی کمیٹی بنائی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سینٹر رضا ربانی کو کمیٹی کا چیئرمین چنا۔ پارلیمانی کمیٹی نے دس مہینوں میں 77 اجلاس کیے۔ 982 تجاویز پر مختلف آئینی اصلاحات پیش کیں۔ جن میں تقریباً سو تجاویز کو 18 ویں ترمیم کا حصہ بنایا گیا۔

پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مختلف نظریات رکھنے والے افراد شامل تھے۔ اس لیے سب جماعتوں کا اتفاق ہونا لازم نہ تھا لیکن اس عظیم سیاسی اور آئینی عمل کو مجموعی طور پر تحفظات کے باوجود تمام جماعتوں نے قبول کیا۔

اٹھارہویں ترمیم کی خصوصیات

1۔ آئین میں پارلیمانی جمہوری نظام کو دوبارہ بحال کیا۔

2۔ کنکرنٹ لسٹ کو ختم کر کے زیادہ اختیارات صوبوں کو دیے گئے۔

3۔ وفاقی لسٹ پارٹ 2 کے اختیارات کونسل آف کامن انٹرسٹ (مشترکہ مفادات کونسل) کو منتقل کیے اور مشترکہ مفاداتی کونسل

کو مستقل سیکریٹ دے کر اس کی آئینی اہمیت تسلیم کیا گیا۔

4۔ قوموں کے وسائل پر حقِ ملکیت کو تسلیم کیا گیا۔

5۔ صوبوں کی اجازت کے بغیر نئے الیکٹرک پروجیکٹ پر پابندی لگائی گئی۔

6۔ خیبر پختونخوا کو پہلی مرتبہ قومی شناخت دی گئی۔

7۔ مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کے آئینی شہری حق کو تسلیم کیا گیا۔

8۔ الیکشن کمیشن کو آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے کوشش کی گئی۔

9۔ این ایف سے ایوارڈ میں صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ دیا گیا۔

10۔ جمہوری اور وفاقی اصولوں کی آئین میں ضمانت دی گئی۔

11۔ غیرجمہوری اور غیرآئینی اقدامات کی روک تھام کی گئی۔

12۔ انفرادی طاقت کو کم کر کے اداروں کی اہمیت کو بڑھایا گیا۔

وفاقیت پر سیاسی یقین رکھنے والی جماعتوں کے تحفظات کی وضاحت مندرجہ ذیل جدول کے تحت پیش ہے۔

مستقبل کے لیے آئینی سفارشات، مطالبات

1۔ دفاع، کرنسی اور خارجہ تعلقات کے اختیارات وفاق جب کہ دیگر تمام اختیارات صوبوں کو دیے جائیں۔

2۔ سینٹ کو قومی اسمبلی کے اختیارات دیے جائیں۔ مثلاً بجٹ کی منظوری اور مسترد کرنے کا اختیار، وزیراعظم کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔

3۔ وفاقی محکموں بشمول عدلیہ اور تمام سروسز چیف کی تعیناتی سینٹ کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے 3 مثلاً سپریم کورٹ کے ججوں، چیف الیکشن کمیشن، سفرا، پبلک سروس کمیشن اور خاص طور پر فوج کے سربراہ کی تعیناتی سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے۔

4۔ مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔

5۔ قوموں کے وسائل پر ان کا مکمل حق اور کنٹرول ہونا چاہیے۔

6۔ قوموں کے حقِ حاکمیت اور تاریخ و شناخت کو 1940 کی قرارداد کے مطابق تسلیم کیا جائے۔

7۔ ملک کے دفاعی اداروں میں تمام صوبوں کی متناسب نمائندگی یقینی ہو۔

8۔ وفاق اور صوبوں کے مابین یا صوبوں کے مابین آئینی اختلافات کے حل کے لیے علیحدہ سے وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے۔

9۔ وسائل کی تقسیم میں آبادی، غربت، ریوینیو اور رقبے کو ملحوظ رکھا جائے۔

10۔ ملک کی قومی سلامتی، خارجہ کی تشکیل کا مکمل اختیار پارلیمان کو دینا چاہیے۔

11۔ سینٹ کے ممبران کا انتخاب، عام انتخابات کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔

12۔ وفاقیت کی حقیقی روح کو سمجھ کر اس کے مطابق وسائل تقسیم کیے جائیں۔ وفاقیت کی حقیقی روح یہ ہے کہ وفاقی ملک کی اکائیاں اپنے وسائل سے ایک طے شدہ حصہ وفاق کو ادا کرتی ہیں جب کہ ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسے پاؤں کے بل کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آئین کو زبردستی عوام اور قوموں پر مشین کی طرح نصب نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ زندہ معاشروں کے لیے ضروری ہے کہ آئین بھی جاندار ہو۔ عوام و اقوام کی مسلسل رضا کارانہ تائید کا پابند ہو۔ قوموں کے نظریات کے برعکس جو آئین ہو وہ زیادہ دیرپا نہیں ہوتا اور اس کے نقصانات قوموں کو صدیوں تک بھگتنے پڑتے ہیں۔

پاکستان، مشرقی بنگال کھو کر یہ نقصان بھگت چکا ہے۔ مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر طور پر تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا یا پھر اسے تاریخ دہرائے جانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ مستقبل میں ماضی کے وفاق اور جمہوریت دشمن اقدام سے گریز کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *