نظریات، کمیشن اور عدلیہ


نظریہ سے مراد اصولوں کا ایسا مجموعہ ہے جس پر کسی قوم کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ کسی قوم کی بقا کے لیے امن پسند نظریے کا ہونا لازمی امر ہے۔ مگر شومئی قسمت ہمارے ہاں لوگوں اور اداروں کا عجیب و غریب نظریہ ہے۔ چونکہ فرد ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے تو سب سے پہلے فرد کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں امراء کا نظریہ نوسر بازی اور غریب و پسماندہ لوگوں کا نظریہ پاپوش برداری ہے۔ اس کے بعد اگر بات اداروں کے نظریے کی کریں تو اداروں میں پولیس کا نظریہ دہشت پیدا کرنا ہے یہ دہشت ظلم و تعدی کا بازار گرم کر کے پیدا کی جاتی ہے۔

اس ظلم نے اک عمارت کھڑی کر رکھی ہے جس کی بنیاد میں مظلوموں کا خون اور جس کی دیواریں انھیں مظلوموں کی ہڈیوں سے اٹھائی گئی ہیں یہ اک ایسی عمارت ہے جہاں کوئی نوائے حزیں سنائی نہیں دیتی۔ صلاح الدین ہو یا ماڈل ٹاؤن کے پر آشوب لمحات دہشت کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ اس کے بعد اگر بات ملک کے سیاستدانوں کی کی جائے تو ان کا نظریہ دشنام طرازی، بیان بازی اور مبا لغہ آرائی ہے۔ بات اگر صحافت کی کی جائے تو ان کا نظریہ چیرہ دستی ہے۔

لوگوں پر تہمت پرستی سے چیرہ دستی کے نقش نمودار کرنا۔ یہی نقش لوگوں کے کرداروں کا قتل عام کرتے ہیں۔ ہماری صحافت میں بات کو منطق کی کسوٹی پر پرکھنا جرم ہے۔ اور اگرآخر میں بات منصفوں کی کی جائے تو ان کا نظریہ روز اوّل سے نظریہ ضرورت ہے۔ اس نظریہ ضرورت نے وطن عزیز کو بہت نقصان پہنچایا۔ آج عدلیہ کے کچھ ایسے کمیشن کی بات ہو جائے جو آج تک عدلیہ سے انصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔ کہاں سے شروع کریں کہاں اختتام کریں؟

بات اگر نوابزادہ لیاقت علی کے قتل کی کریں تو منطق سمجھ سے بالا تر ہے کہ اگر سید اکبر کی گولی ہی ملک کے وزیراعظم کی موت کا۔ سبب بنی تو ایس پی نجف خان نے سب انسپکٹر محمد شاہ کو اسے گولی مارنے کا حکم کیوں دیا۔ زندہ کیوں نہیں پکڑا۔ اڑتیس سماعتوں، نواسی گواہوں کے بعد بھی کمیشن نے مواد فقط سید اکبر کے متعلق منظر عام پر لایا اور باقی مواد کا منظر عام پر آنا ملکی مفاد میں نہیں جیسی دلیِل طفلاں پیش کرکے کیس کو اندھیروں میں جھونک دیا اور یہ کیس آج تک سحر ہونے کا منتظر ہے۔

عدلیہ کے ایک اور کمیشن حمودالرحمٰن کی بات کی جائے جس نے سقوط ڈھاکہ کی وجوہات کو لوگوں پر آشکار کرنا تھا ۔ اس کے لیے 26 دسمبر 1971 کو یہ کمیشن تشکیل دیا گیا اس کے لیے 213 افراد کے انٹرویو کیے گئے جن میں یحیٰی خان، نورالامین، عبدالحامد خان (اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف) ، عبدالرحیم خان (چیف ائیرفورس) ، مضفر حسن (چیف آف نیول) اور بہت سے صحافی، سیاستدان اور جرنیل شامل تھے۔

کمیشن نے اس وقت اس کیس کی 12 رپورٹیں تیار کیں۔ جن میں سے 11 کو مسخ کردیاگیا اور ایک رپورٹ اُس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کی گئی وہ بھی اُس وقت شائع نہیں کی گئی۔ اسی طرح یہ کیس بھی عدالتی بھنور میں ڈوب گیا۔ ملکی تاریخ میں رونما ہونے والے ایک اور سانحہ کو یاد کیا جائے جو آج تک انصاف کا متلاشی دکھائی دیتا ہے۔ جسے ہم سانحہ اوجڑی کیمپ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ سانحہ ضیاءالحق کی موت سے چار ماہ قبل رونما ہوا اس میں پاکستانی زیرک سیاستدان، مرد کوہستانی اور ملک عزیز کے اکیسویں وزیراعظم کے پدر اور اس وقت کے وزیر خاقان عباسی سمیت سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔

اُس وقت کے وزیراعظم محمد خاں جونیجو نے اسلم خٹک کی قیادت میں پارلیمانی جب کے لیفٹینٹ جنرل عمران اللہ کی قیادت میں عسکری کمیٹی بنائی۔ اس سانحہ کے انچاس روزیعنی 29 مئی 1988 کو جونیجو کا تختہ الٹ دیا گیا اور آج تک مادرِوطن جمہوریت کی متلاشی اور اس کیس کی سنوائی کی طلبگار ہے۔ اس طرح یہ کیس بھی عدالتی نظریئہ ضرورت کی نظر ہو گیا۔ اس ملک میں ایک بڑا مسئلہ یہ یے کے کچھ کیسز کا موردِالزام بڑی آسانی سے لوگوں کو ٹھہرا دیا جاتا ہے مثلاً ضیاءالحق پر 1982 میں فالکن طیارے پر چکلالہ ائیر پورٹ پر راولپنڈی میں حملہ ہوا وہ حملہ الذوالفقار نامی تنظیم نے کیا مگر جب اسی ضیاءالحق کا۔

طیارہ جب سترہ اگست انیس سو اٹھاسی میں زمین بوس ہوا تو ذمہ دار کون کہانی آج تک معما بنی ہوئی ہے۔ اگر بات عدلیہ کے ان کمیشنوں کی کی جائے جن میں نظریہ ضرورت کا سہارا لیا گیا تو شاید قرطاس کی وسعت کم پڑ جائے۔ جس طرح 20 ستمبر 1996 میں مرتضٰی بھٹو کا خون بہایا گیا اور اس قتل کو سازش کا نقاب پہنایا گیا مگر سازش کرنے والوں کے چہرے نقاب نہیں کیے گئے۔ اس قتل کے 46 دن بعد ہی بینظیر کی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔

اسی طرح یہ کیس بھی عدلیہ کے چہرے پر بدنما دھبّہ بن کر رہ گیا۔ اسی طرح خود بینظیر کا خون جب 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بہایہ گیا وہ اپنی جگہ اندوہناک واقعہ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بی بی کے قتل کے بعدپیپلزپارٹی پانچ سال اقتدار میں رہی وہ قاتلوں کو کیوں نہیں پکڑ سکی تو ان کے لیے گزارش ہے کہ اقوام متحدہ کا کمیشن جب پاکستان آیا اور اسنے جب انٹیلی جنس سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے بتایا کے جائے وقوعہ کو دھونے کا حکم انٹیلی جنس کا نہیں بلکہ ان دو پولیس والوں کی اپنی صوابدید ہے مگر یہ بات نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ انٹیلی جنس کے اہلکار نے 27 دسمبر کو بی بی سے کہا کہ کہ آپ راولپنڈی نہ جائیے آپ کی جان کو خطرہ ہے اور ویسے بھی اتنے بڑے قتل کے جائے وقوعہ کو دو معمولی پولیس والے اپنی مرضی سے کیسے دوھو سکتے ہیں۔

اور اقوام متحدہ کے کمیشن نے یہ بات رپورٹ میں تحریر کی کے انٹیلی جنس اداروں نے مدد کم اور رکاوٹیں زیادہ پیدا کیں۔ لہٰذاعدالت نے دونوں پولیس والوں کو 17 برس قید کی سزا سنا کر مقتدر حلقوں کو سرخرو کیا۔ عدالتی تاریخ میں لاپتہ افرادکاکمیشن ہو یا ایبٹ آباد کمیشن، ماڈل ٹاؤن ہو یا 12 مئی 2007 کا سانحہ غم کے مارے لوگوں کا مسیحا بننے کی بجائے عدالتوں نے نظریہ ضرورت کو اپنایا۔ ہماری عدلیہ کو نظریہ ضرورت ترک کرنا ہوگا، سیاسی اثرورسوخ سے نکلنا ہوگا، منصفی کے اعلٰی معیاروں پر پورا اُترنا ہوگا اور مجرموں کو نشان عبرت بنانا ہو گا وگرنہ حبیب جالب نے کہا تھا۔

لگتا ہے اُس دیس میں عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں لوگوں کی حفاظت نہیں ہوتی

فقط عدالتی نظریے نے ہی نہیں بلکہ باقی اداروں کے نظریوں نے سماج کو تعفن زدہ کردیا ہے۔ ہم سب کو اپنے نظریے کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ وگرنہ ہمارا ملک دلدل میں پھنسا رہے گا۔

Facebook Comments HS