مظلوم کا محضر نامہ
چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز تھا ایسے میں میرے گاؤں کا ڈیرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آتش دان میں پڑی لکڑیاں سلگ رہی تھیں بذلہ سنجی اور قصہ گوئی کا دور دورہ تھا کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور بولا، تم یہاں قہقہے لگا
Read more

