مظلوم کا محضر نامہ

چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز تھا ایسے میں میرے گاؤں کا ڈیرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آتش دان میں پڑی لکڑیاں سلگ رہی تھیں بذلہ سنجی اور قصہ گوئی کا دور دورہ تھا کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور بولا، تم یہاں قہقہے لگا

Read more

ماضی کا دریچہ اور جفا کی رِیت

ویسے تو زندگی کی بہت سے جہتیں ہیں۔ میرے خیال میں وہ لوگ جو زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک کامیڈی ہے اور جو لوگ زندگی میں سوچتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک ٹریجڈی ہے۔ آئیے ذرا تاریخ عالم سے اس کا مطلب سمجھتے ہیں۔ زندگی اپنے تمام تر جوبن پر اگر کسی میں نظر آتی ہو تو وہ شے زمانے کے مروجہ اصولوں کے خلاف بغاوت کا آموختہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بدھا

Read more

قوم کے انہدام کا فسانہ

بحیثیت پاکستانی قوم ہماری شناخت قائم ہوئے لگ بھگ ستتر سال گزر چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ان ستتر سالوں میں سے چار عشرے ہم آمریت کی اندھیر نگری میں خوف، لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے مہیب بادلوں کے سائے میں بے سدھ پڑے رہے اور باقی عرصہ جمہوری آدرشوں کا علم تھامے نا انصافی، ظلم اور مساواتی کتاب کا پاٹھ پڑتے ہوئے پر پیچ راستوں پر پیش قدمی کرتے رہے۔ مگر سفر ہنوز جاری است ہمارا ماضی کسی

Read more

وکلا کا میڈیا ٹرائل

آج نہ جانے کیوں وکلاء گردی اور محبتوں کے گہوارے، اصولوں کے علمبردار اور شائستگی کے پیکر یعنی پاکستانی سماج پر قلم کو جنبش دینے کا خیال آیا۔ وہی وکلاءگردی جو پی آئی سی واقعہ کا سبب بنی۔ وہ دلخراش واقعہ جس پر انسانیت شرمسار ہو گئی۔ خیر پاکستانی سماج میں انسانیت کا شرمسار ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر حقائق کیا ہیں کیونکہ حقائق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پی آئی سی واقعہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ

Read more

نظریات، کمیشن اور عدلیہ

نظریہ سے مراد اصولوں کا ایسا مجموعہ ہے جس پر کسی قوم کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ کسی قوم کی بقا کے لیے امن پسند نظریے کا ہونا لازمی امر ہے۔ مگر شومئی قسمت ہمارے ہاں لوگوں اور اداروں کا عجیب و غریب نظریہ ہے۔ چونکہ فرد ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے تو سب سے پہلے فرد کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں امراء کا نظریہ نوسر بازی اور غریب و پسماندہ لوگوں کا نظریہ پاپوش برداری ہے۔

Read more

کیا ریاست ایک وحشی درندہ ہے

ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے عمرانی حقوق کی پاسداری نہیں کی، مگر اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا ریاست نے ہمیں وہ چیزیں فراہم کی ہیں، جو ایک ریاست اپنے باسیوں کو فراہم کرتی ہے۔ آج اگر مفلسی ہمارے گھروں میں ناچتی ہے۔ آج اگر ماؤں بہنوں کی عصمتیں محفوظ نہیں، آج اگر مہنگائی ہمارے اوپر مسلط ہے۔ نون م راشد کے حسن کوزہ گر کے لیے تو ایک رات ہی کہر با تھی، لیکن افسوس صد افسوس

Read more