بلوچستان میں ایرانی تیل پر عائد کردہ پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل


بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑاصوبہ ہے اور اگر آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو رخشان ڈویژن میں واقع ضلع چاغی پاکستان بھر کا سب سے بڑا ضلع ہے حالیہ مردم شماری کے مطابق چاغی کی مکمل آبادی 226000 دو لاکھ چھبیس ہزار ہے۔ رخشان ڈویژن سے دو ہمسایہ ممالک کی سرحدیں بھی لگتی ہیں ہمسایہ ممالک جن میں ایران اور افغانستان ہیں۔ ساتھ ہی قومی آرسی ڈی شاہراہ بھی اس ڈویژن اور ضلع کے قلب سے ہوتی ہوئی پاک ایران سرحدی شہر تفتان تک جاکر ختم ہوتی ہے۔ مگر یہ پڑھ کر تاسف ہوگا کہ رقبے اور آبادی کے حوالے سے اس بڑے ضلع کے عوام کس طرح کی کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں اور کن معاشی حالات کا مقابلہ کررہے ہیں؟

راقم الحروف آپ قارئین کو اپنے ذہن کے نہاں خانے میں مجتمع اپنے ضلع کے لوگوں کے آنکھوں دیکھے حال کو دیکھتے ہوئے اپنے خیالات کو الفاظ کے سانچوں میں ڈھال کر بذریعہ تحریر آپ کے سپرد کررہا ہے۔

قارئین کیا آپ کے علم میں ہے کہ چاغی میں کسی قسم کا کوئی فیکٹری وغیرہ قائم نہیں ہے جہاں پہ کام کرکے بیروزگار اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد صحیح معنوں میں اپنا گزر بسر کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرسکے، جبکہ نوکنڈی سمیت مختلف دیگر کئی ایسے علاقے ہیں جہاں کی زمین سیم زدہ ہونے کے باعث ناقابل کاشت ہیں جہاں پہ کاشت کاری کرکے چند روپے کمائے جاسکتے ہوں۔ تجارتی طور پرطور پر ہمسایہ ملک ایران یہاں کے لوگوں کی معاشی حالت کے حوالے سے کس طرح ہیں؟

مزید جانیئے۔ جیسا کہ انڈیا سے ٹماٹروں کے درآمد کرنے پر پابندی سے ملک بھر کے عوام ٹماٹر کے حصول کو ترسان تھے مگر ایران سے درآمد شدہ پیسے گئے ٹماٹر (رب۔ Rub) جن کو پیکٹ میں محفوظ بناکر لمبے عرصے تک ٹماٹر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے یہاں کے عوام نے بنا کسی پریشانی کے استعمال کرکے اکتفا کیا گویا یہاں ٹماٹر کی قلت تھی ہی نہیں۔ صرف یہ نہیں بلکہ بذریعہ پاک ایران دوستانہ گیٹ (زیرو پوائنٹ) کے ذریعے دو طرفہ تجارت بھی ہوتی رہتی ہے۔

دو طرفہ تجارت کے نتیجے میں ایران سے، شیمپو، کیک، مختلف اقسام کی دالیں اور میوہ جات کے علاوہ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی مختلف دیگر اشیاء ضروریہ درآمد کی جاتی ہیں جبکہ اسی طرح ہمارے ملک سے ایران مختلف اقسام کے چاول، پھل اور دیگر اشیاء ضروریہ درآمدکرتا ہے۔ دونوں ممالک کے دکانداروں کے علاوہ ٹرانسپورٹ مالکان کو کرائے کی مد میں فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کے کاروبار سے نہ صرف رخشان ڈویژن بلکہ بلوچستان کے مختلف دیگر اضلاع کے ہزاروں گھرانوں کا گزر بسر اسی ایرانی تیل سے وابستہ ہے اگر یوں کہے کہ اکثریت بے روزگار طبقے کا ذریعہ معاش یہی ہے کیونکہ ایک تیل بردار گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک کلینرہوتا ہے گوکہ دو گھرانوں کا ذریعہ معاش ایک تیل بردار گاڑی سے وابستہ ہوتا ہے۔

ایرانی تیل لے جانے والے ڈرائیور حضرات بدنام زمانے کے چوروں اور ڈاکووں کی طرف سے راہ زنی کی زد میں ہمیشہ سے رہے ہیں بھوک افلاس اور بیروزگاری کے سبب ڈرائیور اور کلینرز دو سے تین ہزار روپے کمانے کے عوض ڈاکوں کی گولیوں کی برسات میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ اسلحہ کی زور پر تیل لیجانے والی گاڑیوں کا پیچھا کرکے تیل اپنے گاڑیوں میں لوڈ کر بہت  مرتبہ چور اور ڈاکو ان ڈرائیورز کے ہاتھ پاوں باندھ کر ان کو ویرانیوں میں چھوڑ تک چکے ہیں اور یہ یہاں کے معمول کا بھی حصہ ہوتا رہا ہے۔

قارئین آئے روز ایسی واقعات کے رونما ہونے سے اس بات کا بخوبی ادراک ہوچکا ہوگا کہ ایرانی تیل کو کچے راستوں سے دوسرے شہروں تک پہنچانا اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور زندگی کا رسک اٹھانے سے کم نہیں۔ اور اس کاروبار سے جڑے ہزاروں افراد کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔ 2019 ماہ ستمبر میں بلوچستان کے قلات کے علاقے میں قومی شاہراہ پر کمشنر مکران ڈویژن کیپٹن (ر) طارق زہری کی گاڑی تیل بردار گاڑی سے اس وقت ٹکرائی جب وہ انتظامی میٹنگ سے واپس آرہے تھے خوفناک حادثے کے سبب دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں کیپٹن (ر) طارق زہری، ایک محافظ ڈرائیور سمیت دوسری گاڑی کا ڈرائیور بری طرح جھلس کر شہید ہوگئے۔

اس حادثے کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے ایرانی تیل کے کاروبار کی بندش کے حوالے سے ایک ایسا نوٹیفکیشن موصول ہوا جسے پڑھ کراس کاروبار سے وابستہ افرادکے دل دہل گئے اور ان میں کہرام سا مچ گیا۔ قومی شاہراہوں کی عدم توسیعی کے باعث مصروف شاہراہوں پر آئے روز المناک ٹریفک حادثات رونما ہورہی ہوتیں ہیں جس سے سالانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد حادثات میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں مگر ایک ٹریفک حادثے میں تیل بردار گاڑی کو موردالزام ٹھہراکر ہزاروں بے روزگاروں کو نان شبینہ کا محتاج بنانے کا فیصلہ درست عمل نہیں۔

عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں رواں ہفتے میں بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں انتظامیہ نے اپنے اعلیٰ افسر کے حکم پر ایک تیل بردار گاڑی کو تحویل میں لے کر ڈرائیوراور کلینرکو گرفتار کیا۔ اس موقع پر اس کاروبار سے وابستہ افراد نے شدید احتجاج کیا جن کی حمایت سماجی رہنماؤں کے علاوہ قوم پرست ودیگر سیاسی جماعتوں کے مرکزی و ضلعی عہدیداروں نے بھی کئیں۔ لہٰذا صوبائی حکومت ایرانی تیل کی بندش جیسے مزدورکش فیصلے پر نظرثانی کرے تاکہ صوبے کے ہزاروں افراد جن کے کاروبار کا دارومدار اور ذریعہ معاش اسی ایرانی تیل سے وابستہ ہے اس فیصلے سے جن کے گھروں میں فاقے پڑ چکے ہیں تاکہ ان کے گھروں میں بجھے ہوئے چولے پھر سے روشن ہوسکے۔

Facebook Comments HS