لات منات عزی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے زمانے میں بت پرستی ہوتی تھی۔ جیسے مشرکین مکہ کے یہ تین بت لات منات اور عزی مشہور ہیں۔ جن کا نام قرآن کی سورہ نجم میں آیا ہے۔ ( 19۔ بھلا تم نے لات اورعُزّی پر غور کیا ہے۔ 20۔ اور تیسرے ایک اور منات پر۔ 21۔ کیا تمھارے لیے بیٹے ہیں اور خدا کے لیے بیٹیاں۔ 22۔ یہ تو بہت بے ڈھنگی تقسیم ہوئی۔ 23۔ یہ محض نام ہیں جوتم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اُتاری۔وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور نفس کی خواہش کی، حالاں کہ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے ہدایت آچکی ہے) ۔

کفار ان تین بتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ پوری مشرکانہ خدائی کا اہرام ان تین تکونی بتوں پہ کھڑا تھا۔ مشرکین کے مطابق لات کا کام خوشحالی، زرخیزی لانا تھا۔ یعنی لات عوام کو خوبصورتی دیتا تھا۔ منات کو موت تقدیر کو ڈیل کرتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں فیصلہ سازی کا کام منات کے سپرد تھا۔

عزی سیاہ سفید کا مالک تھا۔ عزی دن رات لانے کا کام کرتا تھا۔ مشرکین مکہ اس جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبے تھے۔ ظالم کا ظلم اپنے عروج پہ تھا۔ کاہن اپنی مرضی کے فیصلے کرتے تھے۔ ہر فیصلہ ان تین بتوں سے جوڑ کے عوام کو چپ کروا دیتے تھے۔ قوم ان بتوں کو خدا مانتی تھی۔ اس لیے خاموشی سے ظلم سہتی تھی۔ یہ بت نہیں ایک ظلم کا نظام تھا۔ جس میں امیر آدمی پیسوں سے اس نظام کے تین بنیادی میناروں سے اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا تھا۔

اس وقت کا اطلاعات کا چوتھا میڈیم کاہن تھے۔ جہاں سے بات عوام تک پہنچتی تھی۔ یہ اطلاعات اور اس سے جڑے یہ تین بت اس وقت کے بادشاہوں نے خریدے ہوئے تھے۔ عام غریب آدمی کے لیے یہ نظام ہمیشہ خراج وصول کرتا تھا، یہ قیمت اس قدر ہوتی تھی، آئندہ آنے والی نسلیں اور اس کے ساتھ منسلک قبیلہ ختم ہوجاتا، مگر پھر بھی قیمت باقی رہتی۔ آخر رب کائنات کی رحمت نے جوش مارا۔ اللہ کے نبی ص رحمت العالمین کا ظہور ہوا۔ جنہوں نے لگاتار محنت کر کے اس کفریہ نظام کو ختم کیا۔

جس کے لیے صحابہ کرام رض کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔ فتح مکہ ہوئی۔ ظلم کا نظام اور اس کے تین مینار جس پہ وہ پورا نظام چل رہا تھا۔ مکمل طور پہ گرا دیا گیا۔ جب گرایا تو آقا دوجہاں ص کی زبان پہ یہ کلمات تھے۔ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ وقت حالات گزرے۔ صدیاں گزری۔ نظام بدلے۔ لوگ بت کدوں سے باہر نکل کر شخصیت پرست ہو گے۔ یہ بت آج بھی موجود ہے گوشت پوست کے انسانوں کی شکل میں۔ جو ظلم کے نظام کی تکونیں ہیں۔

یہ تکونیں مضبوط سرمایہ دار سے کوئی خراج طلب نہیں کرتی۔ سرمایہ دار کے گھر کی لونڈی ہیں۔ اطلاعات کے کاہن ان سرمایہ داروں کی مداح سرائی کرتے ہیں۔ یہ کاہن اس جعلی خدائی راج اور اس سے منسوب جعلی خدائی بیٹیوں کے اہرام کو مکمل طور پہ سپورٹ کرتے ہیں۔ کاہن اس وقت بھی مقناطیس سے بڑے بڑے بتوں کو ہوا میں معلق کرکے عام آدمی کو جعلی خداؤں سے مرعوب کرکے بلیک میل کرتے تھے۔ آج بھی یہ اطلاعات کے کاہن برقی میڈیم استعمال کرکے نئے خدا بنا کر معصوم لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ ایسے ظالم بت پرست نظام میں معصوم آدمی کی جان کی بٙلی لی جاتی ہے۔ مولا علی رض کا قول ہے۔ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ، یہ نظام کفریہ بھی ہے اور ظالم بھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *