تھوڑی کو زیادہ جانیے


بیمار ہونا کوئی عیب تو نہیں لیکن جانے کیوں عیب جانا جاتا ہے حالانکہ بیماری تو ایک نعمت ہے اس سے گناہ جھڑتے ہیں، جن سے لڑائی ہو ان سے صلح ہوجاتی ہے، اس دوران کی گئی توبہ جلد قبول ہوجاتی ہے، دنیا کی قید سے تو رہائی ملتی ہے، بعض اوقات دنیا کی بنائی ہوئی قید سے بھی رہائی مل جاتی ہے۔ اور بعض اوقات تو مخالفین کا دل ایسا پسیجتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کر گزرتے ہیں جس کے لئے بعد میں ساری زندگی پچھتاتے رہتے ہیں، یعنی معاف کردیتے ہیں۔

اس طرح کے وہ بیمار جو ابھی گئے کہ ابھی گئے کو دیکھ کے دل جتنا پریشان ہوتا ہے ان کو معاف کر دیا جائے تو یقین کیجئے ان کو صحت مند دیکھ کے بھی دل پھر اتنا ہی پریشان ہوتا ہے، وجہ ان کی صحت مندی نہیں، اپنی طرف سے دی جانے والی معافی ہوتی ہے جسے سوچ سوچ کے معاف کرنے والا خود بیمار ہوجاتا ہے۔ کہ میں نے اس کو دنیا سے جاتا سمجھ کر ترس کھایا جبکہ یہ تو زندہ سلامت گھوم رہا ہے، مجھے اس بات کا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ ایسے ہی ایک بیمار کو معاف کر دیا لیکن یہ کیا تھوڑے دنوں تک وہ صاحب بھلے چنگے ہو گئے اور میں سوچ سوچ کے بیمار کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔

بیمار کئی طرح کے ہوتے ہیں دل کے بیمار، گردوں کے بیمار، پھیپڑوں کے بیمار۔ لیکن اس سب میں مجھے دل کے بیمار زیادہ اچھے لگتے ہیں کہ وہ دل لگی کی عادت کو عارضہ قلب بتائیں یا عارضہ قلب کو دل لگی کی وجہ۔ دونوں صورتوں میں زیادہ تر وجۂ بیماری محبوب بنتا ہے، کہ محبوب ہی ہے جو دل ہی میں سماتا ہے اب وہ گردے، پھیپڑوں میں سمانے سے تو رہا، محبوب چونکہ دل میں رہتا ہے اور بندے کا دل اور نیت خراب ہونے میں بھی زیادہ تر اسی کا عمل دخل ہوتا ہے سو دل کی بیماری سر آنکھوں پر، کہ یہ نیت کی خرابی پر پردہ ڈال کر بات والو کے خراب ہونے پہ ڈال دیتی ہے۔ مجھے تو خود بچپن سے اس عارضہ میں مبتلا ہونے کی شدید خواہش رہی، لیکن دل لگتا تو دل لگی تک بات جاتی اور پھر روگ بنتی،

خیر ہماری ایسی قسمت کہاں، کہ بات دل کے والو خراب ہونے تک پہنچتی اور ہم بھی پر سوز آواز میں گنگناتے

دل لگایا تھا دل لگی کے لئے

بن گیا روگ زندگی کے لئے

دل کی بیماری کے علاوہ بھی بہت ساری بیماریاں ہوتی ہیں ان بیماریوں میں مبتلا وہ بیمار زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں جو خاص قسم کی بیماری میں مبتلا ہوں یا پھر زیادہ بیماریوں کا مجموعہ ہوں

کہ ہمیں ایک دو بیماریوں سے تسلی نہیں ہوتی اور سچ پوچھیے تو ایک دو بیماری والے کو ہم بیمار مانتے بھی نہیں۔ اب ذیابیطس ہی کو لے لیجئیے یہ اتنی عام ہے اور قریباً ہر تیسرے فرد میں ہے، تو اس کو اتنا سیریئس نہیں لیا جاتا۔ ہم اسے بیماری نہیں بلکہ شوگر (انگلش والی) مانتے ہیں۔ ویسے ہم زیادہ بیمار کو اتنا سیریئس نہیں لیتے کہ جان تو آخر جانی ہے بس بہو ہی ہے جو ساس کے بیمار ہونے کو سنجیدہ لیتی ہے کہ گھر کی صفائی شروع کر دیتی ہے اور اس کے لئے دوائی کی بجائے اس کے آخری سفر کا سوچنا شروع کردیتی ہے۔

یا پھر پرائیوٹ ہسپتال کے ڈاکٹر ہیں جو معمولی بیمار کو انتہائی سیریئس سمجھ لیتے ہیں۔ جیسے کہ کسی بھی گلی محلے میں بیٹھے ڈاکٹر کے پاس سردرد کی شکائیت لے کر جائیں تو وہ آپ کو ڈرپ لگانا عین عبادت سمجھے گا۔ جبکہ جن کو ڈرپ کی ضرورت ہو وہ جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے کسی سرکاری ہسپتال میں جان کی بازی ہاردے گا، لیکن ڈاکٹرز کی جانب سے وجہ پیٹ درد بتائی جائے گی۔ ہمارے ہاں اکثر خود کو بیمار ثابت کرنے کے کے لئے مریض کو جان دینی پڑتی ہے ورنہ ڈاکٹری اور عوامی اصول کے مطابق اسے بیمار تسلم نہیں کیا جاتا۔

جب تک مریض زندہ ہو تو ڈاکٹروں کے مطابق وہ ٹھیک ہوتا ہے اس کو کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن جو نہی وہ خالق حقیقی سے جا ملے اس میں پائی جان والی بیماریوں کا پتا لگا لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں شعبۂ طب مرنے سے چند دن پہلے تشخیص کرنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے دنیا بھر میں بذریعہ علاج زندگی دی جاتی ہے لیکن ہم دنیا سے تھوڑا ہٹ کے چلتے ہیں لہذا ادھر علاج کے ذریعہ موت بانٹی جاتی ہے اگر موت نہ بھی آئے تو ڈاکٹروں کی جانب سے اس کے واقع ہونے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔

ایسے ہی ایک صاحب تھے ان کو ٹی بی کی شکایت تھی ٹی بی کا علاج کرواتے کرواتے وہ دن بدن پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئے، ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے۔ کسی کی سمجھ میں نہ آتا کہ آخر ماجرا کیا ہے، وہ صاحب منہ سے خون تھوکنے لگے، قریب المرگ تھے کہ ایک نیم سیانے ڈاکٹر کو وجہ سمجھ آگئی، لہذا وہ فرمانے لگا ٹی بی کی دوائی زیادہ کھانے سے انھیں کینسر ہو گیا ہے، آپ چند دنوں تک انتظار کریں، گھر والوں نے پوچھا کیا چند دنوں تک یہ ٹھیک ہوجائیں گے، تو ڈاکٹر صاحب کا بیان ریکارڈ کے طور پر گھر والوں کے دلوں میں موجود ہے کہ جی نہیں یہ فوت ہو جائیں گے۔

ایسی ہی ایک بی بی گذشتہ دس سال سے ہسپتال کے چکر کھاتی رہیں ڈاکٹروں کو ان کی بیماری کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر بھی انھیں کہتے بی بی یہ تم گھر کے کاموں سے بچنے کا ڈرامہ کرتی ہو، ہے تمھیں کچھ بھی نہیں، اس بی بی سے کھانا تک نہیں کھایا جاتا تھا لیکن کوئی نہیں مانتا تھا، ایک ڈاکٹر نے تو یہ تک کہہ دیا بی بی تمھیں وہم ہے اور وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس نہیں تھا میرے پاس کہاں ہوگا، وہ تڑپ کے کہتی ڈاکٹر صاحب کیا پاگل ہوں جو روز آپ لوگوں کے ہاں خوار ہوتی ہوں، ڈاکٹر نے اس پر تاریخی جواب دیا کہ بی بی یاد رکھو اگر تمھیں کوئی ایسی ویسی بیماری ہوتی تو تم اب تک فوت ہو چکی ہوتی۔

پچھلے دس سالوں سے ہمارادماغ کھا رہی ہو تو اس کا مطلب کہ تم ٹھیک ہو۔ آخر اس بی بی کو ڈاکٹر کے کہے کو غلط ثابت کرنے کے لئے بیماری سے مرنا ہی پڑا۔ ہمارے ہاں علاج کے لئے مرض کی تشخیص اتنی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ لہذا بنا تشخیص کے بھی علاج شروع ہوجاتا ہے، جن لوگوں کا تشخیص کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے وہ امیر اور سیاسی لوگ ہوتے ہیں سیاسی لوگوں میں اس وقت بیماری حملہ آور ہوتی ہے جب وہ گرفتار ہوتے ہیں لہذا ان کی وجہ شہرت بھی جرم سے زیادہ بیماری بنتی ہے۔

ان کی بیماری کی وجہ بظاہر سمجھ تو نہیں آتی، سوائے اس کی گرفتاری کے۔ لہذا ایسے بیماروں کی بیماری کو گرفتاری کا کا نام دے دیا جائے تو مناسب رہے گا۔ مثال کے طور پر اگر ایسے سیاسی بیماروں کی ضمانت کرواتے وقت فاضل جج بیماری کا نام پوچھے تو وکیل کو جھٹ سے ”گرفتاری“ کا نام لے دینا چاہیے۔ کہ مائی لارڈ وجۂ بیماری گرفتاری ہے۔ ایسی ضمانت کروانے والے وکیل کو عدالت میں بتانا چاہیے کہ میرے مؤکل جونہی گرفتار ہوتے ہیں ان میں ”موکلات“ حاضر ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو انھیں بتاتے ہیں کہ کہ آپ گرفتاری کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں سو فورآَ سے بیشتر ضمانت کروائیں اور ممکنہ ظاہر ہونے والی خطرناک بیماریوں سے نجات پائیں۔

کہ ایسے گرفتاروں میں ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں ایسے حملہ آور ہوتی ہیں جیسے مکھیاں آموں پر۔ یہ سیای گرفتار طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اکثر اوقات تو دوران اسیری ان سے چلنا پھرنا دوبھر ہوجاتا ہے اور سہارے کے لئے چھڑی کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن جونہی وہ آزاد ہوتے ہیں حیرت انگیز طور پر چھڑی اور بیماریاں اًلہٰ دین کے چراغی جن کی طرح غائب ہو جاتی ہیں۔ ایسے بیماروں کے معالج انھیں جو خاص پرہیز بتاتے ہیں وہ یہ کہ تھوڑی بیماری کوزیادہ جانیئے اور زیادہ کوبہت زیادہ بتائیے تاکہ گرفتاری سے جلدی جان بخشی ہو سکے۔

بیماری کی طوالت مقدمہ کی نوعیت کے حساب سے ہوتی ہے اگر چھوٹا مقدمہ ہو تو کمر درد، شوگر، بلڈ پریشر جیسے امراض میں مبتلا ہو کر سرکاری ہسپتال مں بذریعہ شہد بھی علاج کروالیا جاتا ہے، لیکن اگر مقدمات سنگین نوعیت کے ہوں تو پھر اس کا علاج ملک کے کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری ہسپتال میں ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بیرون ملک ہی تشخیص ممکن ہوتی ہے لہذا دیار غیر کی محسوس ہوتی مانوس فضاؤں ہی میں جا کر جان بخشی ہوتی ہے یعنی آرام آتا ہے لیکن اس سارے مرحلے میں مریض کا ذاتی دخل نہیں ہوتا۔

بعض اوقات یہ قدرت کی طرف سے اس کی خاص مدد ہوتی ہے جو ان پر بیماری بعد از گرفتاری حملہ آور ہوتی ہے اور جو مار ڈالنے کے در پے ہو وہی طبیب ڈھونڈتا پھرے۔ لیکن زیادہ تر مدد قدرت سے زیادہ قدرت کے پیدا کردہ عناصرسے ملتی ہے۔ لہذا ان بیماروں کو دیار غیر بھیج دیا جاتا ہے تاکہ علاج کے لئے مرض دریافت کیا جا سکے۔ ان کے بیرون ملک سے علاج کروانے کی جس قدر تشویش پائی جاتی ہے اس سب کو دیکھتے ہوئے میرا بھی مستقبل میں بہتر علاج کے لئے سیاست میں جانے کا ارادہ ہے۔ کہ سیاسی گرفتاروں کی ضمانتیں کروانے کے لئے محکمہ صحت پر کبھی توجہ نہیں دی جائے گی۔

Facebook Comments HS