لوگ، لفظ اور انا


مجھ پرسب سے بُرا وقت اس وقت آیا جب میری مکمل ارینجڈ میرج کے دو ہفتے بعد ہی میری پڑوسن نے اپنے شوہر سے ”طلاق“ جیسے قبیح فعل کی فرمائش کردی۔ یہ بات میرے علم میں قطعی نہیں آ پاتی اگر ایک تپتی ہوئی دوپہرمیں (جس میں، میں اپنی بنیان پہنے، پنکھے کے نیچے لیٹا دن بھر کی مصروفیت کے بارے میں سوچ رہا تھا) دروازے پہ اتنی دستک نہ ہوتی، جتنی کہ کسی شہنشاہ کو معزول کرتے وقت فوجی بوٹوں اور ان کی دھمک سے پیدا ہوتی ہے۔

دروازہ کھولتے ہی مجھے پسینے میں بھیگے، غصے میں بھرے، نتھنے پھلائے گرمی کی عذاب ناکیوں سے کھولتے ہوئے، آٹھ دس افراد آستینیں چڑھائے نظر آئے۔ میں جو اس کیفیت میں تھا کہ صورتحال کی نزاکت معلوم کی جائے، بری طرح بوکھلا اٹھا جب تمام خوفناک چہروں کے جبڑے ہلنا شروع ہوگئے اور بھاری بھرکم، قبل از وقت سوچے گئے جملوں نے میرے کانوں کے ذریعے شام کے اخبارات کی طرح کی خبریں میرے دماغ میں پھینکنا شروع کردیں۔

تمام جملے آپس میں ٹکرا رہے تھے۔ لفظوں کی قے سے میری دہلیز پراگندہ ہو رہی تھی اور کہے جانے والے وہ الفاظ جو میری سماعت کی گرفت میں نہیں آرہے تھے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر آس پاس چٹخ چٹخ کر گررہے تھے۔ لیکن ٹھہرئیے ذرا۔ میرا نامۂ اعمال تو سن لیجیے اور مختصر سی تاریخ محلہ بھی، مجھے یہاں پر منتقل ہوئے آٹھ دن ہی ہوئے تھے۔ شادی اور ولیمے سے فراغت پاتے ہی ہم اپنے نئے گھر میں شفٹ ہوگئے۔ گھر کیا تھا بس ملازمت کی وجہ سے سرکاری کوارٹر مل گیا تھا۔

ابھی تمام سامان بھی گھر میں سیٹ نہیں کیا تھا ہم نے۔ ایک کمرہ ابھی تک اسٹور روم کا منظر پیش کر رہا تھا۔ میں نے آفس سے پندرہ دن کی چھٹی لی تھی جواب ختم ہونے والی تھی۔ ان دنوں میں، میں قریب قریب اپنے ہر دوست کے گھر نئی نویلی بیوی کو لے جا چکا تھا اور بیوی بھی نئے محلے میں آمد ورفت پیدا کر چکی تھی۔ ٹھیک ٹھاک معقول قسم کی فیملیز یہاں آباد تھیں۔ میری طرح ہی ملازمت پیشہ افراد تھے۔

اور۔ بس۔

دروازہ کھولتے ہی خیال آیا تھا کہ شاید مکمل مصروفیت کی وجہ سے چونکہ میں آس پڑوس سے نہیں مل پایا، اس لیے وہ مجھے سے ملنے آگئے ہیں۔ مگر چند ثانیے بعد ہی میری سانسوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پڑنے لگی۔

مجھے یاد نہیں کہ میں نے دروازہ کھول کر انہیں اندر آنے کا کہا یا پھر وہ خود ہی براجمان ہو گئے۔

چھوٹے سے کمرے میں جسے جہاں جگہ نظر آئی وہاں بیٹھ گیا۔ مجھے اپنے لیے سب سے شکستہ مونڈھا بچا ہوا نظر آیا۔ میں وہاں بیٹھنے ہی والا تھا کہ کہ ایک غراہٹ سی سنائی دی۔

”ہم یہاں گزشتہ اٹھارہ ( 18 ) سالوں سے رہ رہے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ پہلے کبھی اس قسم کا واقعہ رونما ہوا ہو۔ یہ۔ یہ جمال صاحب پچھلے پندرہ سال سے یہاں آباد ہیں۔ ہم دونوں کی بیویاں آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ شادی کے پندرہ سال تو نبھ گئے۔ اب گزارا شاید مشکل ہو۔ “

دوسری آواز تلملائی۔

”اب یہ محترمہ جو طلاق کا سبق پڑھانے آگئی ہیں۔ آپ خود ذرا سوچ کر بتائیں کہ کس گھر میں میاں بیوی نہیں لڑتے۔ بھئی جہاں دو برتن۔ ۔ ۔ “
متوقع الفاظ میری سماعت میں کلبلانے لگے اور میں درمیان میں ہی ہکلانے لگا ”جی۔ جی۔ “ مگر مفہوم سمجھنے سے قطعاً قاصر رہا۔

” اور پھر آپ لوگوں کو تو ابھی یہاں اس محلے میں جمعہ، جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے، آپ کو کیا معلوم کہ کس جگہ، کس گھر کا کیا مسئلہ ہے۔ “
”جی۔ جی۔ بالکل۔ بالکل۔ “ میری گردن اور زبان ایک ہی رفتار سے حرکت کر رہی تھیں۔

ایک اور صاحب جو شاید بمشکل الفاظ کو حلق میں روکنے کی کوشش کر رہے تھے پھٹ پڑے۔ بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ اس کالونی میں ہم سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ایک ہی خاندان کی طرح۔ یہاں شریف لوگ رہتے ہیں، سب کی بہو بیٹیاں پردے میں رہتی ہیں۔ چادریں لپیٹ کر باہر نکلتی ہیں۔ مگر آپ کی بیگم کھلے منہ، گلے میں دوپٹہ ڈالے ٹہلتی رہتی ہیں۔

”ارے کہاں صاحب۔ “
پان کی پیک کارپٹ پہ تھوکتے ہوئے ایک لحیم شحیم بندہ گویا ہوا۔
”دوپٹہ کہاں صاحب۔ ابھی پرسوں ہی تو وہ سبزی مارکیٹ سے واپس آ رہی تھیں تو کھلا بیل باٹم اور یہی۔ یہی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ “

ان صاحب نے بلاتا مل میری ہینگر پہ لٹکی ہوئی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا، میرے جسم کے ہر روئیں سے پسینے نما پانی بہنے لگا۔ الفاظ کو تلاش کرنا، انہیں پکڑ کر معنی ومفہوم سے لبریز لباس پہنانا اور چہرے پہ برستی پھٹکار اور بیچارگی سے نجات پانا، سردست ناممکن نظر آرہا تھا۔

دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑے ایک موصوف دور کی کوڑی لائے۔ ”اس پورے علاقے میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں عورتیں، لڑکیاں، اچھلتی کودتی ہوں۔ بس یہ آپ کا گھر ہے جہاں روزانہ بیڈمنٹن جیسا واہیات کھیل کھیلا جاتا ہے۔ “ بغل والے پڑوسی پیچ وتاب کھاتے ہوئے بولے۔

”ارے بھئی کئی بار بے موقع محل میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے شٹل کاک واپس لینے کے لیے۔ “

میں نے انہیں ابھی ابھی پہچانا تھا۔ دراصل جب کبھی بھولے بھٹکے سے شٹل نے ان کے گھر کا دورہ کیا ہے بیچاری اپنے چند پر گنوا کر ہی واپس ہوئی ہے۔ بالکل ایسا لگتا ہے کہ گویا کسی پنگھٹ پہ گوری خراماں خراماں، اپنی مستی غرور میں کبھی بہکتی کبھی لہکتی چلی جا رہی ہو اور۔ بالکل اچانک۔ سامنے سے آتا وِلن دکھائی نہ دے۔ اور پھر ناظرین کو خوفزدہ کرنے والا میوزک۔ اور سب سے آخر میں اپنے بال، دوپٹہ، کپڑے، زخمی زخمی لیے، برآمد ہوتی گوری۔ ۔

نہ جس کے چال میں طنطنہ ہوتا۔ نہ جس کی صورت پہ پیار آتا۔ نہ جس کے چہرے پہ وہ دلربائی۔ نہ جس کے انداز میں وہ تمکنت۔ نہ ہی وہ کھیل کی لیے تیار ہوتی۔ تھکی ماندی، نڈھال، بے بس، ہَوا کے ہلکے سے جھونکے کی تاب نہ لاتی ہوئی اور مجھے اس وقت بے تحاشا رحم آیا کرتا۔

میں ہمیشہ اس زخمی سی شٹل کو دیکھ کر کھیلنا بند کر دیا کرتا اور یہی کچھ حال میری نصف بہتر کا ہوتا۔
میں پلٹ کر پھر ان فسادیوں میں پہنچ چکا تھا۔ اور بولا۔
”جی دیکھیں! کھیلنا کوئی بری بات تو نہیں۔ “

”لوجی۔ یہ اور سنیں۔ ارے میاں برائی کھیل میں نہیں ہے یہ تو محسوس کرنے سے ہوتی ہے اب اگر ہر گھر کی لڑکیاں ہاکیاں اٹھا لیں ہاتھوں میں تو پھر چولہا، ہانڈی تو رہ ہی گیا نہ، کباڑا ہوگیا گھروں کا۔ کون کرے گا گھروں کے کام۔ اب آپ صاحبوں کی طرح ہم تو نوکر نہیں پال سکتے نہ۔ “

ان کا اشارہ ”کمال“ کی طرف تھا۔ بیچارہ یتیم سا لڑکا۔ بیوی نے تو شادی کے فوراً بعد ہی کہہ دیا کہ۔ آگ کے پاس کام کرنے سے ”الرجی“ ہوتی ہے۔ سواس غریب کولے آیا تھا۔ امی نے ہی اسے ساتھ روانہ کیاتھا۔ یہ کہہ کر کہ ”اچھا کھانا بنا لیتا ہے۔ بہو کو تکلیف مت دینا۔ “

میں نے یہ ریمارک سننے کے بعد سر جھکا لیا۔
”ہماری بہو بیٹیاں، روزہ نماز کی پابند ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو بھی وقت پر ہی دیکھتی ہیں۔ آپ کے گھر سے ڈش نام کی بیماری پھیل رہی ہے۔ “

”مگر۔ مگر لوگ تو خود لیڈ لینے کے لیے آئے تھے۔ “ (میں قدرے ہکلاتا ہوا بولا )

میں انہیں کیا بتاتا کہ اس ”لیڈ“ کے چکر میں ہم دونوں کس قدر پریشان ہیں فوزیہ تو مجھ سے جھگڑ پڑی تھی چھ، سات لمبی لمبی تاروں کا ڈھیر دیکھ کر۔ کہنے لگی ایسا لگ رہا ہے کہ ہم سب کو بجلی سپلائی کر رہے ہیں میں نے اسے خاموش کروا کر کہا تھا۔ اچھا نہیں لگتا۔ لوگ کہیں گے کہ ”مغرور ہیں“۔ لگنے دو بیچاروں کی۔

اور بیچاروں کا یہ حال تھا کہ تپتی دوپہر میں اطلاع دینے آجاتے کہ ”ژی“ ٹی وی پر فلاں پروگرام دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہو گا ذرا چلا دیں اور مرضی کے مطابق چینلز تبدیل کرنے کے حقوق تو ہم دونوں نے محلے والوں کی پاس جمع کروا دیے تھے۔

مگر۔
میں تنہا تھا اور شورشرابا۔ نہ جانے کون کون سی پابندیاں لگ رہی تھیں ہم دونوں کے خلاف۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3