2019  کا آخری کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردی سے قلفی جم گئی۔ چولہوں میں گیس نہیں آ رہی۔ عوام کو نئے سال کی سلامی، پٹرول اور ڈیزل مہنگا کیے جانے کی سمری تیار۔ سال کے آخری روز چینلوں سے نشر کی جانے والی خبروں کی سرخیاں ہیں یہ۔

میں ان دنوں کراچی میں ہوں جہاں کے باسیوں کے لیے بیس ڈگری سنٹی گریڈ بھی سردی مانی جاتی ہے جبکہ رات گئے صبح تک درجہ حرارت 9 ڈگری سنٹی گریڈ تک بھی گر جاتا ہے۔ اور ہاں صرف تیرہ برس پہلے تعمیر کی گئی کئی منزلہ رہائشی عمارت ایک جانب کو جھکی، شکر ہے کسی نے مستعدی دکھائی عمارت مکینوں سے خالی کروائی گئی تو چھ گھنٹوں بعد ہی عمارت 9/11 میں زمین بوس ہوئے ٹوین ٹاورز کی طرح زمین پر آ رہی۔

نئے سال سے چند روز پہلے وزیراعظم نے ایک آرڈیننس کے ذریعے نیب کے پر قینچ کیے۔ کہنے کو تو این اے بی، نیشنل اکاؤنٹیبیلیٹی بیورو کے پہلے حروف کا مخفف ہے مگر اپنی اصل میں یہ آجکل واقعی انگریزی کے لفظ نیب یعنی جھپٹ کے پکڑ لو کی تصویر بنا ہوا ہے۔ لیکن اب پچاس کروڑ تک کی بدعنوانی بارے گرفتاری اور تفتیش و تحقیق نیب کے اختیارات سے باہر کر دی ہے اس آرڈیننس نے۔ آرڈیننس کو 120 جمع 120 روز یعنی چھ ماہ بعد منظور کیے جانے کی خاطر اسمبلی میں پیش کرنا ہی پڑے گا، تب تک دوسری پارٹیوں کے اس آرڈیننس پر اعتراضات جاری رہیں گے۔

اسی اثنا میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی خاطر، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، قومی اسمبلی سے مثبت قانون منظور کروانا بھی شاید مخمصہ میں پڑ جائے۔ یہ ایک اچھا بھلا بحران ہوگا جس سے کوئی بھی انتہائی صورت حال برامد ہو سکتی ہے۔

اس بار مجھے تو لگ ہی نہیں رہا کہ کوئی نیا سال آنے کو ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید اس کا عدد ہو یعنی ” ٹوینٹی ٹوینٹی ” جس کا ایک مطلب تو ماضی و مستقبل یکساں ہو سکتا ہے۔ دوسرا مطلب کھیل کرکٹ کی اسی نام کی اصطلاح ہے جو کیا ہوتی ہے مجھے خاک معلوم نہیں کیونکہ اگر کھیلوں میں سے مجھے کوئی کھیل ناپسند رہا وہ یہی ٹڈی کے انگریزی نام والا کھیل ہے جس میں ٹڈی کی مانند اچھل کود اور چرچرچر ہوتی ہے مگر سنا ہے کہ ٹوینٹی ٹوینٹی نام کا کھیل ایک دن میں تمام ہو جایا کرتا ہے۔ ویسے بھی کرکٹ ورلڈ کپ کے پاکستانی ہیرو کو کرکٹ کی اصطلاحیں استعمال کرنا پسند ہے چنانچہ ایک روز کو ایک سال پہ محمول کر لو تو ٹوینٹی ٹوینٹی ہونے کا خدشہ بھی ہے اور امکان بھی۔

 کچھ روز پہلے مجھ سے 2019 کا ایک آخری شعر سرزد ہوا تھا جو یوں تھا:

غروب ہو کے طلوع ہونا فقط زمیں کی ہی گردشیں ہیں

غروب ہونا عدم ہے بھائی، طلوع ہونا تو قسمتیں ہیں

اگر کوئی قسمت سے سیاسی مطلع پہ طلوع ہو ہی گیا ہے تو اس کا غروب ہونا اس کا اعدام ہوگا، جسمانی طور پر اللہ نہ کرے بلکہ سیاسی طور پر۔ ایسا کہنا نہ میری خواہش ہے نہ کوئی پیشگوئی کیونکہ ایسا کرنے کی مجھ میں نہ اہلیت ہے نہ صلاحیت۔ سائنس پر مبنی ایک شاعرانہ تعلی ہے اور سب جانتے ہیں کہ سائنس تخمین و ظن نہیں بلکہ مبنی بر حقائق نتائج کا نام ہے۔

 وقت گذر جاتا ہے اور بقول کسی فلسفی کے “خدا بھی ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتا ” تاہم ماضی کی غلطیوں کا مداوا کیا جانا ناممکن نہیں ہوتا البتہ مشکل ضرور ہوتا ہے۔ غلطیاں ارادی بھی ہوتی ہیں، غیر ارادی بھی۔ ارادی خود کو یا کسی اور کو گزند پہنچائے جانے کی خاطر یا ایسا فائدہ دیے جانے کی غرض سے جو کسی بھی وقت ضرر میں بدل جائے اور غیرارادی وہ ہوتی ہیں جو کسی کی انا، زعم، تفاخر، تکبر، غلط فہمی یا خوش فہمی کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔

ہم دعائیں مانگنے کو عبادت خیال کرتے ہیں یوں دعائیں عبادت کم اور عادت زیادہ بن جاتی ہیں جیسے میں بھی کچھ خواتین کے لیے دعا کرتا ہوں جن میں ‌سے کچھ کی تو میں نے تصویر تک نہیں دیکھی۔ ایک آدھ کے ساتھ عرصہ دراز پیشتر کوئی موہوم سا تعلق تھا اور دو ایک نے کہہ دیا تو ان کا نام لے کے ان کے بھلے کی دعا کرنا عادت بن گئی جبکہ ایک کے بارے میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ اس کے ساتھ گذشتہ ڈیڑھ عشرے میں کچھ بھلا نہ ہو سکا یا ایسا بھلا ہوا جس کو میں بھلا نہ جانتا ہوں گا چنانچہ دعا کرتے ہیں کہ 2020 کوئی کھیل نہ ہو بلکہ سبھوں کے لیے بھرپور سال ہو یعنی دوہری خوشیوں کا یعنی بیس جمع بیس کم از کم چالیس خوشیوں بھرا سال۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *